سیاحت پاکستانی معیشت کو کیسے ٹریک پر لاسکتی ہے؟

بلاشبہ سیاحت صرف سیر و تفریح کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسی اہم انڈسٹری ہے کہ اگر اسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے فروغ دیا جائے تو یہ پاکستان جیسے ملک کی معیشت کو آئی سی یو سے نکالتے ہوئے سالانہ اربوں ڈالر ہمارت قومی خزانے میں لانے میں مدد کر سکتی یے۔ جب پاکستانی لوگ شمالی علاقوں میں سیر و تفریح کے لئے جانے کا سوچتے ہیں تو ذہن میں دو چار جگہوں کے نام ہی آتے ہیں۔ لیکن ان علاقوں میں بھی سڑکوں اور ہوٹلوں کی جو پسماندہ صورت حال ہے اس کا سوچ کر بہت سے لوگ اپنا شیر سپاٹے کا ارادہ ہی منسوخ کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں لوگ سیاحت صرف گرمیوں کے دو تین مہینوں کی چھٹیوں میں ہی کرتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں پورا سال کہیں بھی موسم اتنا خراب نہیں ہوتا کہ وہاں جایا نہ جا سکے۔ یورپ کینیڈا اور آسٹریلیا کو ہی دیکھ لیں جہاں مائنس چالیس ڈگری تک بھی ٹمپریچر جاتا ہے لیکن سیاحوں کی آمد سارا سال جاری رہتی ہے۔ پاکستان میں تو خوبصورت پہاڑوں، آبشاروں ندیوں کی شکل میں بے پناہ قدرتی حسن موجود ہے، دوسری طرف دبئی کے پاس تو آج بھی ریت کے صحرا علاوہ کچھ نہیں لیکن وہ پھر بھی پوری دنیا کے لئے مرکزی سیاحتی مقام بن چکا ہے۔ اب تو دبئی میں ایک ایسا شہر بنانے پر کام جاری ہے جس میں فضائی درجہ حرارت بھی ٹھنڈا رکھا جائے گا کیونکہ وہاں شدید گرمی کی وجہ سے آئوٹ ڈور سرگرمیاں ایک مخصوص حد سے زیادہ ممکن نہیں ہیں۔ دبئی میں تو اب ایسے بڑے بڑے مالز بن چکے ہیں جہاں برف ہی برف پھیلی ہے اور سیاح اس پر سیکٹنگ تک کے مزے لیتے ہیں۔
لیکن دوسری جانب پاکستان میں سردیوں میں قدرتی طور پر پہاڑوں پر بے پناہ برف باری تو ہوتی ہے لیکن ہم ابھی تک ایسے کسی ایک بھی مقام کو ملکی اور غیر ملکی شہریوں کی پہنچ کے لئے آسان نہیں بنا سکے۔ پاکستان کے برعکس امریکا اور کینیڈا میں سیاحت سارا سال جاری رہتی ہے مگر یورپی ممالک میں سب سے زیادہ برف باری ہوتی ہے اور وہ لوگ اسے خوب کیش کراتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے ہاں ناران کاغان جیسے مقامات برف باری کے سبب نصف برس تو بند رہتے ہیں۔ وہاں تھوڑی سی برف پڑ جانئے تو سوات کالام جیسے علاقوں کا زمینی راستہ باقی دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے۔
تاہم سوئٹزر لینڈ میں پورا سال 16000 فٹ کی بلندی تک ٹرینیں اور چیئر لفٹیں پورا سال چلتی ہیں۔ وہاں شاید قدرتی حسن اتنا زیادہ نہیں جتنا کہ اسے دکھانے کے لئے جدید سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا سے سیاح سوئٹزر لینڈ کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔
اسی طرح امریکا سالانہ دو سو ارب ڈالرز صرف سیاحت سے کماتا ہے۔ دوسرے نمبر پر سپین ہے جس کی سیاحت سے آمدن 70 ارب ڈالرز کے قریب ہے۔ تیسرے نمبر پر فرانس‘ چوتھے پر تھائی لینڈ اور پانچویں پر برطانیہ ہے۔
آپ اس فہرست میں پاکستان کو ڈھونڈیں گے تو یہ 130 ویں نمبر پر دکھائی دے گا جبکہ اس فہرست میں بھارت 11 ویں اور متحدہ ارب امارات چودھویں نمبر پر ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ تھائی لینڈ اپنے جی ڈی پی کا تقریباً تیرہ فیصد سیاحت کی صنعت سے کما رہا ہے۔ بھارت ایک فیصد جبکہ پاکستان اعشاریہ ایک فیصد سے بھی کم سیاحت سے کماتا۔ہے۔ دنیا میں کئی ایسے مقامات ہے جو صرف سیاحت کے نام پر ڈویلپ کئے گئے، ان میں لاس ویگاس بھی شامل ہے جو دنیا کے پانچ بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ لاس ویگاس دراصل ایک صحرا تھا جسے امریکیوں نے ایک ایسی عجوبے میں تبدیل کر دیا ہے کہ جو اپنی روشنیوں کی وجہ سے چاند سے بھی نظر آنے والے دنیا کے چند مقامات میں سے ایک ہے۔
پاکستان بھارت کے مقابلے میں اب بھی کئی گنا محفوظ اور خوبصورت ملک ہے ۔ یہاں غیر ملکی سیاحوں کی نہ صرف بہت زیادہ عزت کی جاتی ہے بلکہ انہیں جان و مال کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کے لوگ بالخصوص کھلے دل کے مالک ہیں۔ وہ غیر ملکی مہمان یا سیاح کا کسی رشتہ دار سے زیادہ احترام کرتے ہیں۔ یہی غیر ملکی سیاح اچھا پیغام اور نیک خواہشات لے کر واپس جاتے ہیں اور یوں پاکستان کے بہترین سفیر بھی ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال شندور کے مقام پر جو میلہ سجتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی طرح کیلاش وادی میں آپ کو سیاحت کے غیر معمولی مناظر دکھائی دیں گے جو آپ کی زندگی کی یادوں میں پیوست ہو کر آپ کو سدا خوشگوار رکھیں گے۔ ابھی تو کئی علاقے ایسے ہیں جو ٹھیک طرح سے دریافت بھی نہیں ہو سکے ہوں گے۔
گزشتہ برسوں میں راولپنڈی کے قریب حویلیاں نامی ایسا یک علاقہ سامنے آیا ہے جہاں چھوٹے چھوٹے پہاڑوں کے درمیان خوبصورت جھیل اور اس میں گرنے والی آبشار کا منظر دل کو باغ باغ کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جب اس مقام کی وڈیوز سامنے آئیں تو بڑے بڑے سیاح حیران رہ گئے کہ یہ ملک میں کون سی جگہ ہے جو انہیں معلوم نہیں۔کوئی اسے کشمیر تو کوئی بلوچستان کا حصہ قرار دے رہا تھا اور جب لوگوں کو یہ علم ہوا کہ یہ تو راولپنڈی سے صرف 30 چالیس کلومیٹر کی مسافت پر ہے تو سب دنگ رہ گئے کہ بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔ اب جو لوگ یہ وڈیوز دیکھ کر وہاں پہنچے تو ان کے اوسان اس وقت خطا ہو گئے جب انہیں معلوم ہوا کہ عین جھیل تک پہنچنے کا تو کوئی باقاعدہ راستہ ہی نہیں ہے۔ گاڑی کم از کم ایک گھنٹہ اوپر دور کھڑی کر کے پہاڑوں کے پُرپیج راستوں سے نیچے جانا پڑتا ہے جہاں خواتین اور بچوں کے لئے جانا تو بالکل بھی آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چھڑے ہی جاتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں۔ یہ جگہ طاقت کے مرکز اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور ہے۔ اس مقام تک سڑک بن جائے تو ہوٹل وغیرہ خود بخود بن جائیں گے اور یہ علاقہ سیاحتی مرکز بن جائے گا۔ نجانے اس طرح کے کتنے مقامات اور بھی ہیں جنہیں توجہ مل جائے تو لوگوں کو دور دراز کے مقامات کے ساتھ ساتھ قریبی سیاحتی مرکز بھی میسر ہو جائیں جہاں وہ ایک گھنٹے کی ڈرائیور پر پہنچ سکیں۔
مختلف طریقوں سے حکومت سیاحت کو پروموٹ کرے تو اربوں ڈالر اسی مد میں اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ حکومت نے بین الاقوامی سیاحوں کے لئے ویزا آن آرائیول جیسی سہولتیں تو دی ہیں لیکن جب تک سیاحتی مقامات عالمی معیار کے نہیں بنیں گے تب تک سیاحوں کو صرف ویزا دینے سے سیاحت پھل پھول نہیں سکے گی۔ نئے نئے کھاتے اور ایشوز کھولنے کے بجائے صرف سیاحت جیسے دو چار معاملات پر ہی فوکس کر لیا جائے تو نہ صرف ملکی معیشت کو زبردست اڑان مل جائے گی۔
