مٹتا ہوا تاریخی شہر لاہور ماضی میں کیسا نظر آتا تھا؟

شہر تب ہی زندہ رہتے ہیں جب وہاں کے لوگ اس کی روایات کو ایک نسل سے دوسری نسل منتقل کرتے رہیں اور شہر کا حسن اسی صورت میں برقرار رہتا ہے جب اس کی قدیم عمارتیں اپنے اصل فن تعمیر کے حسن کے ساتھ قائم رہیں۔ جب پردیسی آ بسیں تو پھر قدیم شہر تباہ ہو جاتے ہیں ۔ ان کی جگہ ایک عجیب و غریب شہر جنم لے لیتا ہے۔ آج لاہور شہر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ فن تعمیر اور قدیم عمارتوں کے حوالے سے لاہور کا مقابلہ دنیا کے کسی بھی قدیم شہر کی تہذیب و تمدن سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم افسوس کہ ماضی کا تاریخی شہر لاہور رفتہ رفتہ اپنی اصل شکل اور حسن کھوتا جا رہا ہے۔
پرانے وقتوں کا لاہور شہر ناشپاتیوں، سنگتروں، مٹھوں، آڑوؤں، اناروں اور امرودوں کے باغات میں گھرا ہوتا تھا۔ موتیے اور گلاب کے کھیت عام تھے۔ حتیٰ کہ سڑکوں کے اطراف بھی گلاب اُگے ہوتے، جنہیں لاہور کے گردا گرد چلنے والی نہر سیراب کرتی۔ گلاب کے پھول لاہور سے دہلی تک جاتے۔ لاہور تب صحت بخش کھیلوں اور سرگرمیوں کا رواج تھا۔ نوجوان رات دس گیارہ بجے تک گتکا سیکھتے۔ اسکولوں میں گتکے کا باقاعدہ ایک پیریڈ ہوتا۔ تب شیرانوالا کے حاجی کریم بخش لاہور کے مشہور گتکاباز تھے، اور گورنمنٹ کنٹریکٹر موچی دروازہ کے میاں فضل دین مشہور بٹیرباز۔ تقریبات کو روشن کرنے کے لیے حسّا گیساں والا بھی لاہور کی معروف شخصیت تھے۔ خوشی، غمی، جلسوں، جلوسوں، میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ کی تقریبات حسّا گیساں والے کے گیسوں سے جگمگ کرتیں۔ شادی کی رونق سات سات دن جاری رہتی۔ لاہور میں بناسپتی گھی رائج ہوا تو بہت کم لوگ اسے استعمال کرتے، وہ بھی چھپ کر۔ کوئی شادی پر بناسپتی گھی استعمال کرتا تو برادری روٹھ جاتی۔ جب چائے کا عادی بنانے کے لیے لپٹن والوں نے لاہور میں گھر گھر پکی ہوئی چائے مفت بانٹنا شروع کی تو ساندہ کی عورتوں نے چائے بانٹنے والے سکھ انسپکٹر کی پٹائی کردی۔ تعلیم کی طرف رجحان کا یہ عالم تھا کہ ماسٹر گھر گھر جاکر منتیں کرتے کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کرائو۔ صدی پون صدی قبل کے لاہور کا یہ ماحول تین بزرگ لاہوریوں موچی دروازہ کے حافظ معراج دین، شیرانوالا اور فاروق گنج کے مستری محمد شریف اور ساندہ کے کرنل(ر) محمد سلیم ملک نے ماہنامہ آتش فشاں کے ایڈیٹر منیر احمد منیر کے ساتھ اپنے ان انٹرویوز میں بیان کیا ہے جو کتاب ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ میں شائع ہوئے ہیں۔
ایک سو سات برس قبل 24 فروری1911ء کے روز سر آغا خاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے جلسۂ تقسیم انعامات کے لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو لاہوریے ایک پُرجوش اور پُرہجوم جلوس کی صورت میں انہیں ایمپریس روڈ پر نواب پیلس میں لائے۔ ان کی آمد سے پہلے ان پر برسانے کے لیے پھول اکٹھا کیے گئے تو لاہور کے کھیت ویران ہوگئے اور پھول دوسرے شہروں سے منگوانا پڑے۔ یہی صورت حال 21 مارچ 1940ء کو پیش آئی جب قائداعظمؒ لاہور سیشن میں شرکت کے لیے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو دوسرے شہروں سے بھی پھول منگوائے گئے۔
تب لاہور اگرچہ سیاسی، سماجی اور روایتی جلسوں جلوسوں سے زبردست رونق دار تھا، پھر بھی اس کا سکون، خاموشی اور ٹھہراو مثالی تھا۔ ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ کے ان انٹرویوز کے مطابق شیر چڑیا گھر میں دھاڑتا تو اس کی گرج لاہور میں گونجتی۔ شہر اس قدر کھلا کھلا تھا کہ موچی دروازہ سے مزار داتا صاحبؒ اور مزار شاہ ابوالمعالی ؒ صاف نظر آتے اور لوگ موچی دروازہ کے باہر کھڑے ہوکر ہی دعا مانگ لیا کرتے۔ اب تو بعض جگہوں اور تقریبات کے ناموں میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔ تب چڑیا گھر کو چڑی گھر کہتے تھے۔ دسویں محرم یا یومِ عاشور کو گھوڑے والا دن کہتے تھے۔ عید میلاد النبیؐ تب بارہ وفات کہلاتی۔ حافظ معراج دین کے مطابق تبب اس روز جلوس نکالنے کا فیصلہ میں نے، نعمت کدہ کے مہر بِسّا اور مولانا محمد بخش مسلم نے کیا تھا۔ پہلا جلوس 1933ء میں نکلا۔ اس سے پہلے لاہور کی مساجد میں چنوں پر ختم ہوتا۔ باہر بچے کھڑے ہوتے جو نمازیوں کے باہر آنے پر آوازیں لگاتے:’’میاں جی چھولے، میاں جی چھولے‘‘۔ وہ چنے ان میں بانٹ دیے جاتے۔
مستری محمد شریف کے مطابق جلوسِ عید میلادالنبیؐ میں لوگ گڈوں پر ہوتے یا پیدل۔ پچاس ساٹھ نوجوان گھڑ سوار برجسیں اور سبز پگڑیاں پہنے آگے ہوتے۔ ان کے پیچھے گتکا کھیلنے والے۔ پھر نعت خواں۔ آخر میں بینڈ والے۔ مستری صاحب کہتے ہیں کہ لاہور میں مسلمانوں کے صرف تین مذہبی جلوس نکلتے تھے۔ عید میلادالنبیؐ، بڑی گیارہویں شریف اور دسویں محرم کے روز، جسے گھوڑے والا دن کہتے تھے۔ اُس وقت کسی کو پتا نہیں تھا شیعہ سنی کی تفریق کا۔ خلقت امڈ کے آتی تھی۔ سنی گھوڑا تیار کرتے، سبیلیں لگاتے، کھانے پکاتے، روشنی کا انتظام کرتے، شیرانوالا اسکول کے ڈرل ماسٹر غلام قادر سنی تھے، لیکن گھوڑے کے جلوس کے ساتھ فرسٹ ایڈ کا سامان لے کے چلتے۔
تب لاہور میں بھائی چارہ اور محبت بھرے رویّے عام تھے۔ ایک کی بیٹی سب کی بیٹی، ایک کا داماد سارے محلے کا داماد۔ دکھ اور خوشیاں سانجھی۔ مستری شریف کے مطابق اب وہ وقت نہیں آئیں گے جب کالیے دے کھو پر سویرے سویرے وارثی دیوانہ گاتا’’میرے اللہ کریو کرم دا پھیرا‘‘ تو لوگوں کے آنسو نکل آتے۔ اس کی آواز دور دور تک جاتی۔ لال آندھی چلتی تو مشہور ہوجاتا کہ کہیں کوئی قتل ہوا ہے۔ مستری صاحب لاہور میں نورجہاں جب وہ بے بی نورجہاں تھی، کے ذکر میں کہتے ہیں کہ وہ کالے کپڑے پہن کر نگار سنیما کے اسٹیج پر نعت گاتی تو فوٹوگرافر محمد بخش اس پر لال، نیلی، پیلی لائٹیں مارتا۔ محمد بخش کی شکل جارج پنجم پر تھی۔ جب جارج پنجم کی سلور جوبلی منائی گئی تو اسکول کے ہر بچے کو دیسی گھی کے سواسواسیر لڈو دیے گئے۔
اب تو لاہور کی ثقافتی اور روایتی صورت بیت بدل چکی ہے۔ آج کی برانڈرتھ روڈ کیلیاں والی سڑک کہلاتی تھی۔ بہ قول محمد دین فوق ’’ یہ کیلے کے درختوں سے ڈھکی رہتی تھی۔ رات تو رات دن میں بھی کسی اکیلے دُکیلے آدمی کا یہاں سے گزرنا خطرے سے خالی نہ ہوتا‘‘۔ ان کے مطابق ’’انارکلی بازار میں نیچے دکانیں تھیں، اوپر طوائفوں کے بالا خانے تھے۔ بعد میں وہاں سے انہیں نکال دیا گیا۔ شاہ محمد غوث کے سامنے جہاں اب وطن بلڈنگ ہے، وہاں عمدہ ناشپاتیوں کا باغ تھا‘‘۔ اخبار وطن کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خاں چندے کھولنے میں مشہور تھے۔ اخبار وطن میں 1902ء میں انہوں نے حجاز ریلوے کے لیے چندہ کھولا کہ لاہور سے مدینہ منورہ تک ٹرین چلائی جائے گی۔ ٹرین تو نہ چلی، وطن بلڈنگ بننا شروع ہوگئی۔ لاہوریے پوچھتے تو انہیں جواب ملتا: پہلے ریلوے اسٹیشن تو بن جائے، پھر ٹرین بھی چل جائے گی۔ جو آج تک نہیں چلی۔
پرسنے لاہور کے دہلی دروازے کے باہر ہر اتوار کو گھوڑوں اور گدھوں کی منڈی لگتی۔ نیلامی ہوتی۔ یہیں لاہور کی ککے زئی برادری کے ایک بڑے خان بہادر ملک نذر محمد کا گھوڑوں کا اصطبل تھا۔ خاں بہادر انسانی حقوق کی معروف علَم بردار عاصمہ جہانگیر کے دادا تھے۔ وہ اپنے دور میں لاہور کی ایک خوشحال اور بڑی معزز و معتبر شخصیت تھے۔ انہیں انگریز نے منٹگمری یعنی ساہی وال میں گھوڑی پال مربعے دیے تھے۔ وصیت کے مطابق انہیں قبرستان شاہ محمد غوثؒ میں دفن کیا گیا۔
پرانے لاہور کی کئی جگہیں عدم توجہی سے برباد ہوگئیں یا ہورہی ہیں۔ مثلاً شادی لال بلڈنگ، برکت علی محمڈن ہال، لاہور کا پہلا سنیما پاکستان ٹاکیز، علامہ اقبالؒ، قائداعظمؒ اورپاکستان کی نسبت سے صنوبر سنیما اور یونیورسٹی گرائونڈ وغیرہ وغیرہ۔ تاریخی یونیورسٹی گرائونڈ جہاں قائداعظمؒ نے لاہور کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسۂ عام سے خطاب کیا تھا، اسپورٹس کے حوالے سے بھی ایک یادگار جگہ ہے، جو اورنج لائن میٹرو پراجیکٹ کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ اسی طرح موج دریا روڈ پر جہاں انکم ٹیکس ہائوس ہے وہاں مہاراجا کپورتھلہ کا پُرشکوہ محل تھا۔ 30جنوری1884ء کو سرسید احمد خاںؒ لاہور آئے تو اسی مکان میں ٹھیرے۔ لاہوریوں کو ’’زندہ دلانِ لاہور‘‘ کا لازوال خطاب سرسیدؒ ہی نے اپنے دورۂ لاہور کے دوران میں دیا تھا۔
1926ء میں علامہ اقبالؒ پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے لیے کھڑے ہوئے تو لاہور ’’پتلون پوش ولی کو ووٹ دو‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا۔ جیت کے بعد لاہوریوں نے علامہ کے اعزاز میں موچی دروازہ کی تاریخی جلسہ گاہ میں جلسۂ عام کیا۔ اگلی صف میں رستم زماں گاماں پہلوان کو بیٹھا دیکھ کر علامہ نے اسے بھی تقریر کی دعوت دے دی۔ موچی دروازے کی اجڑی اور مٹتی ہوئی اس جلسہ گاہ کے ذکر میں جنرل ایوب کے مقابلے میں مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ صدارتی امیدوار تھیں۔ موچی دروازے کی اسی جلسہ گاہ میں مادرملتؒ کے مقابلے میں اتنا بڑاجلسہ آج تک نہیں ہوا۔ جلسہ گاہ میں ان کی آمد پر لاہوریوں نے پُرزور اور پُرجوش آتش بازی بھی کی۔
اسی طرح پرسنے لاہور میں ہندو عورتیں ساڑی پہنتی تھیں جبکہ مسلمان عورت کی شناخت برقع تھی۔ لاہور حیاداری سے اس قدر اٹااٹ تھا کہ رات تک نوجوان لڑکے لڑکیاں لاہور کے سرکلر گارڈن میں کھیلتے۔ کوئی لڑکا لڑکی کی طرف بری نظر سے نہ دیکھتا۔ شہر میں ہریالی اسقدر تھی کہ چار سو پھل دار درخت اور پھول دار پودے نظر آتے اور اگر کوئی شیرانوالہ گیٹ سے داتا صاحبؒ کے دربار حاضری کے لیے جاتا تو سڑک کو شیشم کے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہوتا اور سارا راستہ چھائوں ہی میں طے ہوتا۔ لیکن اب وہ دور نہیں آئے گا جب کھوٹ ملاوٹ کا کسی کو پتا ہی نہ تھا۔ جان و مال محفوظ تھی۔ زیورات سے لدی عورتوں کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہ دیکھتا نہ تھا۔ لیکن پھر بھی ایک بات طے ہے کہ لاہور آج بھی لاہور ہے۔
