پاکستان کی صحافی خواتین تقسیم کا شکار کیسے ہوئیں؟


پاکستان میں نامور خواتین صحافیوں کی جانب سے حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے ہراساں کیے جانے کے الزام کے بعد اب صحافی خواتین کے درمیان موجود تقسیم بھی واضح ہو گئی ہے اور یوں اس مسئلے کے حل سے متعلق ایک اہم موقع کھو دیا گیا۔
لیکن جب سے الیکٹرانک میڈیا اور پھر اس کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کا جن بوتل سے باہر آیا ہے، اس نے ہماری اخلاقی اقدار کوایک ہی پھونک سے اڑا کر رکھ دیا ہے۔ اب یہاں آپ کو اپنا ‘سودا‘ آواز لگا کر بیچنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا ایسا شیطانی چرخہ ہے، جس سے نجات بھی ممکن نہیں اور اس کے بنا چارہ بھی نہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا ہماری انگلیوں کے گرد گھومتا ہے لیکن اگر آپ صحافی ہیں تو کیمرے یا قلم کی طاقت اسی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آپ کے لیے ہزاروں دشمن بھی پیدا کر دیتی ہے اور خاص کر اگر آپ صحافی بھی ہیں اور خاتون بھی تو پھر روز ایک نئی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پاکستان کی صحافی خواتین کے لیے زہر ہلاہل ثابت ہو رہا ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان خواتین کی عزتوں کو پامال۔کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی صحافی خواتین کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے خلاف ڈیجیٹل میڈیا خاص کر ٹوئٹر پر صارفین کے ذریعے ان کے خلاف استعمال ہونے والی غلیظ زبان نازیبا کلمات، جان سے مار دینے اغوا کرنے کی دھمکیاں دینے والوں، کافر اور بد کرادر جیسے فتوے لگانے والوں کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے لاتیں لیکن یہ موقع صحافی خواتین کے بیچ نا اتفاقی اور اختلافات نے گنوا دیا۔ چند روز قبل پاکستان کی چند صحافی خواتین نے ایک مشترکہ بیان تیار کیا تھا جس میں حکومتی جماعت کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس جماعت کی سوشل میڈیا ٹیمز کی جانب سے صحافی خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا آزادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا مشکل ہو گیا ہے۔ اس بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے اندر ایسے تمام ممبران سے فوری طور پر اس طرح کی ہراسا نی بند کرنے کا حکم جاری کرے۔ اس کے بعد ٹویٹ در ٹویٹ کا سلسلہ شروع ہوا پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور ان خواتین کو بلا کر ان کی بات سنی گئی۔
حکومتی جماعت کے چند ممبران سامنے آئے جن کا کہنا تھا کہ ان پر یا ان کی جماعت پر یہ سراسر الزام ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی اور وزیر اعظم کے فوکل پرسن فار سوشل میڈیا ارسلان خالد کے متعلق یہ کہا گیا کہ صحافی خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے میں وہ شامل ہیں۔ لیکن جواب کے طور پر وہ الزام لگانے والی صحافی خواتین کے بیانات تحریریں اور ٹویٹس منظر عام پر لے آئے، جن سے یہ ثابت کیا گیا کہ یہ جرنلسٹ پی ٹی آئی کی مخالف جماعتوں کے نظریے سے تعلق رکھتی ہیں اور حکومت کو بدنام کرتی رہی ہیں۔
بات یہیں پر ختم ہو جاتی اگر یہ بات صرف حکومتی جماعت کے جوابی حملوں تک رہتی۔ لیکن کیونکہ اس مشترکہ بیان میں پندرہ خواتین شامل تھیں جبکہ اس سے کئی گنا زیادہ تعداد ایسی صحافی خواتین کی تھی جن کے دستخط اس مشترکہ بیان پر نہیں تھے اور نہ ہی وہ اس قرارداد کا حصہ تھیں۔ چنانچہ چند صحافی خواتین منظر عام پر آئیں اور انہوں نے اس مشترکہ بیان سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مشترکہ بیان تیار کرنے والی صحافی خواتین کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا صرف جمہوریت پسند خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جمہوریت پسند صحافی ہیں اس لیے ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید میڈیا میں موجود باقی خواتین جمہوری رویوں کے برعکس سوچ رکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں اپنی ساتھی خواتین کے مشترکہ بیان سے اظہار لاتعلقی کرنے والی صحافی اور اینکر پرسن مہر بخاری نے کہا کہ قرارداد پیش کرنے والی خواتین جو غیر جانبدار ہیں ان کو متعصب کہہ رہی ہیں اور جو متعصب ہیں ان کو جمہوریت پسند کہا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اینکر پرسن شفا یوسفزئی، فریحہ ادریس اور چند اور آوازیں بھی اٹھیں۔
اس معاملے کو سلجھانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ تمام خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ لہذا اس سلسلے میں ایک نیا گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں وہ صحافی خواتین بھی شامل ہیں جو پہلے اس مشترکہ بیان میں شامل نہیں تھیں۔ اب پرانے بیان اور نئے بیان کو مشترکہ طور پر پیش کیا جائے گا جس میں پہلے سے درج کئے گئے تحفظات بھی شامل ہوں گے لیکن اس معاملے میں شامل تمام خواتین اس وقت تک اس پر دستخط نہیں کریں گی جب تک کہ ان کے تحفظات دور نہیں ہو جاتے۔
شومئی قسمت کہ یہ معاملہ اب ایک بڑے مقصد کی بجائے دو گروپوں کی لڑائی میں بدل گیا ہے اور دونوں گروپوں کو ایک دوسرے سے شکایات ہیں اوردونوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button