سیاست کو کس کھیل سے تشبیہ دی جانی چاہیے؟

آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ ’سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا‘ اور ’سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا‘۔ سیاست کو عموماً کرکٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے خاص طور پر اب جب کہ ھکومتی ٹیم کی کپتانی ایک سابق کرکٹر کر رہا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ یہ تشبیہ درست نہیں۔ اس کی وجہ ہو یہ بتاتے ہیں کہ پچ پر بہت زیادہ کھلاڑی موجود ہیں، مناسب رویہ اپنانے سے متعلق قوانین کی کسی کو فکر نہیں ہے اور یہاں رن آؤٹ بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہاں سب کو اسکور بنانے کے بجائے اسکور برابر کرنے فکر ہوتی ہے۔
تو کیا یہ کھیل فٹبال کی طرح ہے؟ نہیں، ایسا بھی نہیں ہے۔ فٹبال میں مہارت، رفتار اور بال پر مکمل کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے سیاسی ٹاکرے تو جان بوجھ کر فاؤل کرنے اور خود اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرنے والوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور پھر ان کی نگرانی ایک ایسا جانب دار ریفری کر رہا ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں سیٹی کی طرح کی چھڑی ہوتی ہے۔
تو پھر کیا اس کو باکسنگ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے؟ اگر اسے ایک ایسے کھیل کے طور پر دیکھیں جس میں خون بہتا ہو اور عموماً نتیجہ ناک آؤٹ کی صورت میں نکلتا ہو تو بالکل اسے باکسنگ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ ہمارے سیاسی کھلاڑی کوئینسبری قوانین سے واقف نہیں ہیں۔
جن افراد کو تاریخ سے دلچسپی ہے وہ اس کھیل کو روم کے کلوسیم میں ہونے والے مقابلوں سے تشبیہ دیں گے۔ ان مقابلوں میں گلیڈی ایٹرز اس وقت تک لڑتے تھے جب تک انگوٹھے کی ایک حرکت ان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کر دیتی تھی۔ اوپر کی جانب اٹھے ہوئے انگوٹھے کا مطلب تھا کہ وہ گلیڈی ایٹر ایک اور لڑائی کےلیے زندہ رہے گا اور انگوٹھے کا نیچے کی جانب رخ ہونے کا مطلب موت ہوتا تھا۔
قومی اسمبلی میں ہونے والا اعتماد کا ووٹ بھی اوپر کی جانب اٹھا ہوا انگوٹھا ہی تھا اور وہ بھی کم از کم 6 مہینے کےلیے۔ یہ کامیابی بہت نقصانات کے بعد ملی ہے اور یہ سرکس میں ایک چھڑی پر بکری کو توازن کے ساتھ کھڑا کرنے کے برابر ہی ہے۔ یوں کہیے کہ یہ ایک غیر یقینی استحکام ہے۔
کئی مبصرین اس بارے میں حیران ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو سینیٹ انتخابات سے ذرا پہلے آرٹیکل 226 میں ترمیم کیوں ضروری لگی، اور وہ بھی اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر؟
ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنے ہی اراکین پر اعتماد نہیں تھا۔ یہاں تک کہ 50 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز بھی اپنے اراکین کی وفاداری برقرار رکھنے کےلیے کافی نہیں تھے۔ وہ سب سچے افراد ضرور ہیں لیکن سچے سیاستدان نہیں ہیں۔ ابراہم لنکن کے سیکرٹری برائے جنگ سائمن کیمرون نے کہا تھا کہ ’ایک سچا سیاستدان وہ ہے کہ جب اسے خریدا جائے تو وہ اپنے خریدار کے ساتھ وفادار رہے‘۔
اب عام ووٹر پریشان ہے کہ اگر اوپن بیلیٹ اتنی ہی اچھی چیز ہے تو پھر اس کا اطلاق عام انتخابات پر بھی کیوں نہیں ہوتا۔ اس کا جواب ووٹ کی حرمت میں پوشیدہ ہے لیکن ہمارے عوامی نمائندے اس کا احساس نہیں رکھتے۔ ووٹ ایک امانت ہے۔ یہ ایک حق ہے جو ایک انسان سے دوسرے کو ملتا ہے۔ یہ فٹبال نہیں ہے کہ آپ اسے کسی میدان میں اِدھر سے اُدھر پھینکتے رہیں۔ اس کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے کہیں زیادہ ہے۔
1938ء میں برطانوی وزیرِاعظم نوائل چیمبر لین جرمن چانسلر اڈولف ہٹلر کے ساتھ مذاکرات کرکے واپس لوٹے تو انہوں نے اعلان کیا کہ ’میرے ہاتھ میں جو کاغذ کا ٹکڑا ہے اس پر اڈولف ہٹلر کے دستخط موجود ہیں، جس کے مطابق وہ جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔ ہٹلر نے رازداری سے اپنے وزیرِ خارجہ سے کہا کہ اس کو زیادہ سنجیدہ مت لو اس کاغذ کے ٹکڑے کی کوئی اہمیت نہیں ہے‘۔
برطانیہ کی جانب سے 3 ستمبر 1939ء کو جرمنی بھیجے جانے والا اعلانِ جنگ بھی ایک کاغذ کے ٹکڑے پر ہی تحریر تھا اور 8 مئی 1945ء کو جرمنی کی جانب سے دستخط کیا جانے والا ہتھیار ڈالنے کا اعلان بھی کاغذ کے ٹکڑے پر ہی مشتمل تھا، یوں ہٹلر کی بات غلط ثابت ہوئی۔
اگر بیلیٹ باکس کو ردی کی ٹوکری سمجھا جائے تو پھر بیلیٹ پیپر کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ تاہم باشعور ووٹر کے ہاتھ میں موجود بیلیٹ پیپر حکومتوں کو گرانے کی طاقت رکھتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اس بات کا احساس اس وقت ہوا جب انہوں نے 1977ء میں اپنے ووٹ بینک کو بحال کرنے کی کوشش کی۔
ان کے تابعدار ووٹروں نے ان کو ایک زبردست فتح دلوائی۔ پیپلز پارٹی کے کچھ امیدواروں نے اپنے حلقے کے 95 فیصد ووٹ حاصل کیے جب کہ کچھ حلقوں میں تو کاسٹ کیے گئے ووٹوں کی تعداد اس حلقے کے کل ووٹوں سے بھی زیادہ نکلی۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ کچھ اہم حلقوں کے نتائج کا اعلان براہ راست وزیرِاعظم ہاؤس سے کیا گیا۔ ان حالات کی حال ہی میں ہونے والے ڈسکہ کے این اے 75 کے انتخابات سے مماثلت محض اتفاقی ہوگی۔
جولائی 1977ء میں آپریشن فیئر پلے کے تحت جنرل ضیا کی مداخلت سے حالات کو سب کےلیے سازگار ہونا چاہیے تھا تاہم ان کی آمد سے پچ پر ایک تیسرا ریفری آگیا اور اسے سیلیکٹرز کے پینل میں بھی مستقل جگہ مل گئی۔ نومبر 1989ء میں بے نظیر بھٹو اور پھر مارچ 1993ء میں نواز شریف کو اس وقت ایک جھٹکا لگا جب انہیں غیر جمہوری طریقے سے ہٹا دیا گیا۔
کیا پاکستانی عوام اس سیاسی اکھاڑے میں ہونے والی سیاسی کشتی کو تماشائی بنے دیکھتے رہیں گے۔ پاکستانی ووٹر موقع پرست کھلاڑیوں کو ٹیم بدلتے دیکھ کر، امید مندوں کو ہارتا دیکھ کر اور وزرائے اعظم کو گھر جاتا دیکھ کر تنگ آچکے ہیں۔
کوئی ہمت کرکے سوال کرے کہ ’اگر آپ اس ملک کے ساتھ کھیل کر تھک چکے ہوں تو کیا ہمیں ہمارا ملک واپس مل سکتا ہے‘؟
