سینٹ الیکشن میں حصہ لینے پر مسلم لیگ میں اختلافات

پی ڈی ایم کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی سینٹ الیکشن میں حصہ لینے کی تجویز کے بعد اب مسلم لیگ ن میں بھی الیکشن بائیکاٹ کے معاملے پر تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ نواز لیگ میں ایک بڑے گروپ نے پیپلز پارٹی کے اس مؤقف کی حمایت کر دی ہے کہ حکمران جماعت کے لیے سینیٹ کا میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یاد رہے کہ سینیٹ الیکشن کے بائیکاٹ کی تجویز پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیش کی تھی جسے ابتدائی طور پر نواز شریف نے تسلیم کرلیا تھا۔ لیکن بعد میں پیپلز پارٹی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کسی بھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا جانا چاہئے اور اگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے ہیں تب بھی ضمنی اور سینٹ انتخابات میں حصہ ضرور لیا جائے۔

آصف علی زرداری کا یہ موقف ہے کہ اگر اپوزیشن کے تمام ممبران بھی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں تو بھی حکومت سینٹ کا الیکشن قانونی طور پر کروا سکتی ہے لہذا حکومت کو یہ موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ اسمبلیوں سے ہمارے استعفوں کے بعد سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لے۔ آصف زرداری کی تجویز کے مطابق تمام اپوزیشن جماعتوں کو سینٹ الیکشن میں مشترکہ طور پر حصہ لینا چاہیے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کی جماعت عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کے لیے دباؤ بڑھانے کی خاطر تمام منتخب ایوانوں سے استعفے دینے کا موقف اپنائے ہوئے تھیں۔ تاہم مولانا اور میاں صاحب نے اپنے مؤقف میں اس وقت لچک دکھانے کا اشارہ دیا جب پیپلزپارٹی نے ایوان بالا کو پی ٹی آئی کے لیے کھلا چھوڑنے پر 18 ویں ترمیم کے رول بیک ہونے کا خطرہ ظاہر کیا اور یہ تجویز دی کہ اپوزیشن جماعتوں کو میدان میں رہنا چاہیے اور سینیٹ انتخابات کے لیے اپنے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے صوبائی اسمبلی کی مختلف نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔

ادھر یہ انکشاف ہوا ہے کہ مریم نواز کے کچھ قریبی لوگ بھی اب سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ یہ انتخاب مارچ کے پہلے 15 دنوں میں تب متوقع ہے جب 104 سینیٹرز میں سے 52 کی 6 سالہ مدت پوری ہو رہی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپنی 165 ایم پی ایز کی موجودہ طاقت کے ساتھ نواز لیگ پنجاب سے سینیٹ کی 4 جنرل نشستیں جیت سکتی ہے کیونکہ سینیٹ انتخابات کے لیے صوبائی اسمبلیاں الیکٹورل کالج کے طور پر کام کرتی ہیں۔
مارچ میں اپنی 6 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہونے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق، پرویز رشید اور مشاہد اللہ خان شامل ہیں، لہٰذا یہ پارٹی کی قیادت کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ مسلم لیگ کے لیے ان بزرگ رہنماوں کی خدمات کو نظرانداز کرے اور انہیں اگلی مدت کے لیے ٹکٹس ایوارڈ نہ کرے۔

یاد ریے کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ سینیٹ انتخابات میں پنجاب کے کوٹہ سے مشاہداللہ خان، نہال ہاشمی اور سلیم ضیا کو شامل کیا تھا جو کراچی سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم انہوں نے انتخابی مقابلے کے لیے اہل ہونے کے لیے اپنے ووٹوں کو بالترتیب پنجاب کے شہروں راولپنڈی، جہلم اور مری منتقل کرالیا گیا۔ اسی طرح ہی آنے والے مقابلے کے لیے مختلف رہنماؤں نے اپنے ووٹس پنجاب منتقل کرا لیے ہیں اور وہ مقابلے لیے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے قیادت کے ساتھ لابنگ کر رہے ہیں۔

دوسر طرف سینیٹ الیکشن میں حصہ نہ لینے کے حمایتی زیادہ تر لیگی لیڈر پنجاب سے ہیں جو یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ اگر ہم سینیٹ انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو پارٹی کو اتنا زیادہ نقصان نہیں ہے۔ وہ زور دیتے ہیں کہ پنجاب سے سینیٹ کی 4 جنرل نشستیں جیتنے کے بعد بھی وہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا منصب برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کو ہٹانے کے نتیجے میں اقتدار میں آنے کے باوجود انکی جماعت کو تمام معاملات میں ایوان بالا میں پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ قانون سازی کے لیے سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا ان کا ماننا ہے کہ کہ پارٹی کو دیگر آپشنز دیکھنے کے بجائے عمران حکومت کے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے تمام منتخب ایوانوں سے استعفے دینے کے اپنے اصولی فیصلے پر قائم رہنا چاہیے۔ لیکن دوسری طرف آصف علی زرداری کے اس موقف کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر اپوزیشن نے سینٹ الیکشن کا بائیکاٹ کر کے حکومت کو فری ہینڈ دیا تو وہ اکثریت کے بل پر 18 ویں ترمیم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button