وکی لیکس والے جولین اسانج کے لیے ابھی خطرہ کیوں نہیں ٹلا؟

برطانوی عدالت کی جانب سے وکی لیکس کے بانی 49 سالہ جولین اسانج کو جاسوسی کے الزامات پر امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ مسترد کرنے سے انہیں عارضی ریلیف تو مل گیا ہے تاہم اسانج کے لیے خطرہ ابھی ٹلا نہیں کیونکہ جج نے ان پر مقدمہ چلانے کی ٹھوس وجوہات کی موجودگی کی رولنگ بھی دی ہے۔
لندن کی سینٹرل کرمینل کورٹ میں جج وینیسا بیریٹسر نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اسانج کی دماغی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ انہیں ملک بدر کیا جائے۔ جج نے کہا ہے کہ امریکہ میں اسانج کو ممکنہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ ان کی امریکہ حوالگی ایک ’ظالمانہ‘ اقدام ہو گی۔ خیال رہے کہ جولین اسانج اس وقت لندن کی ایک جیل میں قید ہیں جہاں کرونا وبا پھوٹنے کی وجہ سے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس قید تنہائی کو انکے وکیل نے ’نفسیاتی تشدد‘ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جولین اسانج خودکشی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
اس فیصلے پر اپنے ردعمل میں برطانوی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسانج کی امریکہ حوالگی کے خلاف فیصلہ ’اچھی خبر‘ ہے لیکن اسے ’صحافت کی فتح‘ نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ جج نے واضح کیا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ اسانج پر 2010 میں خفیہ معلومات افشا کرنے کے الزام پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ برطانوی صحافیوں کا کہنا ہے کہ انسانی اور سیاسی نقطۂ نظر کے لحاظ سے اہم بات یہ ہے کہ اسانج کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق امریکی حکومت کو پروا نہیں کہ اسانج کس جیل میں رکھے جاتے ہیں، یا کیوں۔ وہ بس انہیں پنجرے میں رکھ کر خاموش کروانا چاہتی ہے۔
دوسری جانب اسانج کی منگیتر سٹیلا مورس کا کہنا ہے کہ اگر برطانوی عدالت نے جولین اسانج کو امریکی جیل میں عمر قید کاٹنے بھیج دیا تو یہ ملک آزادیِ اظہار کے لیے محفوظ نہیں رہے گا۔ یاد رہے کہ آسٹریا سے تعلق رکھنے والے جولین اسانج کو 11 اپریل 2019 کو لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ 2012 سے سیاسی پناہ کے تحت مقیم تھے۔ امریکہ نے برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اسانج کو امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ اس کا ٹرائل کرکے سزا دی جائے کیونکہ وکی لیکس نے امریکہ کی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ قانونی ماہرین کہتے رہے ہیں کہ جولین اسانج پر چلنے والا مقدمہ نہ ہی ان کے سیاسی اقدامات پر ہے اور نہ ہی ان کے کردار کے حوالے سے، بلکہ ان پر جو فردِ جرم عائد ہے وہ تلخ سچائیوں کو سامنے لانے کے حوالے سے ہے۔ کوئی بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اسانج کو امریکہ میں منصفانہ مقدمے کا موقع دیا جائے گا یا انہیں 175 سال سے کم قید کی سزا سنائی جائے گی، جو اسانج کے لیے عمر قید ثابت ہوگی۔
تاہم برطانوی عدالت نے 4 جنوری 2020 کو اپنے فیصلے میں امریکی مطالبہ مسترد کر کے کسی حد تک اسانج کو ریلیف دیا ہے، مگر جج کی جانب سے اسانج کے خلاف مقدمہ چلانے کی ٹھوس وجوہات ہونے کی رولنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ یاد رہے کہ وکی لیکس کی تہلکہ خیز اور اہم ترین معلومات کوئی ایک دہائی قبل لیک ہوئی تھیں جن میں اہم ترین حصہ امریکی فوج اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دستاویزات پر مبنی تھا۔ 2006 میں اپنے باقاعدہ آغاز کے بعد سے اب تک وکی لیکس ہزاروں خفیہ دستاویزات شائع کر کے مشہور ہو چکا ہے۔ یہ خفیہ معلومات فلم انڈسٹری سے لے کر قومی سلامتی اور جنگوں سے متعلق رازوں پر مشتمل ہیں۔جب یہ معلومات پہلی دسمبر 2006 میں انٹرنیٹ پر ظاہر ہوئیں تو انہوں نے ایک تنازعے کو جنم دیا جو اب تک چل رہا ہے۔ کچھ لوگ اسانج کی لیکس کو ہی تحقیقاتی صحافت کا مستقبل قرار دیتے ہیں تو کچھ اسے ایک خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس سے پہلے مارچ 2010 میں ویکی لیکس کے ڈائریکٹر جولین اسانج نے امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی منشا سے ایک دستاویز جاری کی تھی جس کے بعد وکی لیکس کو امریکی فوج کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا تھا۔ امریکی حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق وکی لیکس پر فوجی مواد کی غیر قانونی اشاعت اور وزارت دفاع کی حساس معلومات جاری کرنے سے غیر ملکی خفیہ سروسز کو ایسی معلومات تک رسائی ملتی ہے جو ان کو استعمال کرتے ہوئے امریکی فوج اور وزارت دفاع کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ دستاویزات عراق میں امریکی فوجیوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک جونیئر انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسی میننگ نے فراہم کی تھیں، جنہیں اس وقت بریڈلی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حکومت نے چیلسی کو تلاش کرکے ان کے ساتھ بُرا برتاؤ کیا اور قید میں ڈال دیا۔ بعد میں امریکی صدر باراک اوباما نے انہیں معافی دے دی تھی۔لیکن انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اس وقت ایک بار پھر قید کرلیا گیا تھا جب انہوں نے جولین اسانج کے خلاف گواہی دینے سے انکار کردیا تھا، لیکن گزشتہ برس مارچ کے مہینے میں اسکی رہائی عمل میں آگئی تھی۔
جولین اسانج پر ابتدائی الزام یہ تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کے ایک کمپیوٹر کو ہیک کرنے کی کوشش کی جس کا پاس ورڈ چیلسی میننگ نے فراہم کیا تھا۔ وکی لیکس نے تقریباً 573000 ریکارڈ کیے گئے وہ پیغامات بھی شائع کیے جو 9/11 میں شدت پسندوں کے امریکہ میں حملوں کے دوران بھیجے گئے۔ وکی لیکس نے ہزاروں وہ ای میلز بھی شائع کیں جو سنہ 2016 میں سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی الیکشن مہم کے سربراہ جان پوڈیسٹا کے اکاؤنٹ سے ہیک کی گئی تھیں۔سنہ 2015 میں وکی لیکس نے ایک لاکھ ستر ہزار ای میلز اور 20 ہزار وہ دستاویزات شائع کر دیں جو فلم سٹوڈیو سونی پکچرز سے چرائی گئیں تھیں۔اس کمپنی کو شمالی کوریا پر بنائی گئی فلم دی انٹرویو کی ریلیز سے چند ہفتوں قبل سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔امریکی حکام اسانج کو خاموش کرانے اور وکی لیکس کو بند کرنے کے خواہاں تھے اور اب تک انکا پیچھا جاری ہے۔
