مقبوضہ کشمیر میں پھنسی پاکستانی خواتین واپسی کے لیے بے تاب


پچھلے دس برس سے مقبوضہ کشمیر میں پھنسی ہوئی سینکڑوں پاکستانی خواتین نے بھارتی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں اپنے ملک واپس جانے کے لیے سفری حقوق نہ دیئے گئے تو وہ ایل او سی کی طرف مارچ شروع کر دیں گی۔
یاد رہے کہ 2010 میں انڈین حکومت نے حریت پسندوں کی بحالی کی ایک اسکیم کا اعلان کیا تھا تاکہ پاکستان جانے والے کشمیری عسکریت پسند مقبوضہ کشمیر لوٹ سکیں، بشرطیکہ انہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر دیا ہو۔ اس اسکیم سے سینکڑوں کشمیری نوجوان غیرقانونی طور پر، مگر انڈین حکومت کی خاموش حمایت کے ساتھ، اپنی پاکستانی بیویوں اور بچوں سمیت مقبوضہ کشمیر لوٹ گے۔
اس عام معافی پر کشمیری نوجوانوں کے اہلخانہ کی کئی خواتین خوشی خوشی واپس گئیں۔ انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی اور بچوں کی خاطر مقبوضہ کشمیر کا رُخ اس امید پر کیا تھا کہ ان کو اپنے والدین سے ملنے ملانے میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ایسی ہی کچھ خواتین کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں مقبوضہ کشمیر جاتے ہوئے تو کسی قسم کی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا مگر وہاں سے جب پاکستان اور آزاد کشمیر واپس آنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ان کے پاس تو کسی قسم کے سفری دستاویزات ہی نہیں ہیں۔ ان خواتین نے کئی مرتبہ قانونی طور پر واہگہ بارڈر اور کشمیر کی لائن آف کنٹرول پار کرکے پاکستان آنے کی کوشش کی ہے مگر انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہی کشمیری خواتین میں سے ایک طیبہ اعجاز کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے جو اس وقت مقبوضہ کشمیر کے پٹن ضلع میں اپنے کشمیری خاوند اور تین بچوں کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے یہاں ایک نجی اسکول میں کام شروع کیا۔ لیکن مجھے یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ہم دراصل بے وطن ہوگئے ہیں، نہ ہمیں پاکستان واپس جانے کی اجازت ہے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں ہمیں کوئی شہری حقوق حاصل ہیں۔ چنانچہ اب طیبہ اعجاز نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں اپنے لیے سفری حقوق کا مطالبہ کیا ہے اور نہ ملنے کی صورت میں ایل او سی کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے۔ طیبہ اعجاز نے اس سے پہلے شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی قصبہ ٹیٹوال کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے بتایا کہ ندی میں پانی بہت تھا لیکن میں نے دُوربین سے اپنے بوڑھے ماں باپ کو دیکھا۔ انہوں نے میری طرف خط پھینکا، میں نے خط کو چوم لیا۔ میرا دل کرتا تھا کہ میں اُسی تیز بہاؤ والے دریا میں کُود جاؤں اور اپنے والدین کو گلے لگا لوں۔
گزشتہ دس سال سے یہ خواتین انڈیا کی حکومت سے سفری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سرینگر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ان خواتین کی ترجمان سائرہ جاوید نے بتایا کہ سفری حقوق نہ ملنے کی وجہ سے ان میں سے بعض خواتین کی طلاق بھی ہو چکی ہے اور ایک خاتون نے خودکشی بھی کرلی ہے۔ سائرہ جاوید نے ان سبھی خواتین کی طرف سے بھارتی حکومت کو ئاد کروایا کہ پہلے ہمیں یہاں باز آبادکاری منصوبے کے تحت لایا گیا، اور اب ہمیں شدت پسند کی بیویاں قرار دے کر غیر قانونی مہاجر کہا جاتا ہے۔ ہم نے بار بار کہا کہ اگر ہم غیر قانونی مہاجر ہیں تو آپ کے یہاں کوئی قانون تو ہوگا، ہمیں سزا دیجیے اور پھر اپنے شوہروں اور بچوں کے ہمراہ واپس گھر جانے دیجیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم بال بچوں سمیت لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کریں گے، اور وہاں سے نہیں ہٹیں گے، یا ہم واپس پاکستان جایئں گے یا گولی کھائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button