سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی یقینی کیوں ہو گئی؟

دوہری شہریت رکھنے کے الزام میں اپنی نااہلی سے بچنے کے لیے پچھلے کئی برسوں سے عدالتوں اور الیکشن کمیشن کو مسلسل ماموں بنانے والے تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل واوڈا کی نا اہلی تب یقینی ہو گئی جب 23 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرنے کا اعلان کردیا۔
اس سے پہلے 2 دسمبر 2021 کو الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کے قریبی ساتھی واوڈا کے خلاف دائر نااہلی کیس کا جلد فیصلہ کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے فریقین کو دلائل کے لیے آخری موقع دیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے کہا تھا کہ اب یہ معاملہ مزید لٹکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ 23 دسمبر کے روز فیصل واڈا کے وکیل بیرسٹر معید نے انکا پیدائشی سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروایا اور بتایا کہ واڈا امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پیدا ہوئے تھے اور پیدائشی طور پر امریکی شہری ہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ واڈا نے کوئی جھوٹ نہیں بولا، اور کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے قبل انہوں نے اپنا غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ کروا دیا تھا۔ اس پر سندھ سے الیکشن کمیشن کے رکن نثار درانی نے واوڈا کے وکیل سے کہا کہ آپ امریکی پاسپورٹ منسوخ کرانے کی تاریخ بتائیں۔ وکیل نے بتایا کہ ریٹرننگ افسر کے آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصل واوڈا کا غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ شدہ تھا۔
تاہم اس پر واوڈا کے خلاف کیس دائر کرنے والے پیپلز پارٹی کے ایم این اے قادر مندوخیل نے کہا کہ الیکشن 2018 میں ریٹرننگ افسر نے دوہری شہریت پر غلط حکم دیا، اور واوڈا کی بجائے میرے کاغذات مسترد کر دیے۔ اس دوران واوڈا کے خلاف تمام درخواست گزاروں نے اپنے دلائل مکمل کیے جس کے بعد فیصل واڈا کے وکیل نے حتمی دلائل دینا شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ واوڈا نے سال 2018 کے انتخابات سے قبل نادرا سے عام شناختی کارڈ بنوا لیا تھا، نائیکوپ منسوخ ہونے اور نادرا کی تصدیق سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ امریکی شہریت نہیں تھی۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا نادرا کسی کی غیر ملکی شہریت نہ ہونے کی تصدیق کا مجاز ہے؟ وکیل نے کہا کہ نادرا انٹیلیجنس بیورو سے تصدیق کرانے کے بعد ہی شناختی کارڈ جاری کرتا ہے۔ واوڈا کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل کیے جانے کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا اعلان کر دیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین ماہ پہلے سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کو 60 دن میں فیصلہ سنانے کی ہدایت کی تھی۔ اس سے پہلے دہری شہریت کیس کا سامنا کرنے والے فیصل واوڈا نے پاکستان کے نظام انصاف کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے پہلے تو اڑھائی برس تک اپنے خلاف دائر نااہلی کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے اور پھر سینیٹر بن کر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر سینیٹر بن جانے کے باوجود دہری شہریت کے معاملے پر غلط بیانی کرنے کی وجہ سے ان کا سینیٹ میں رہنا اب ناممکن نظر آرہا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اگلے چند روز میں ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک نظر آتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ الیکشن 2018 میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بطور نظیر استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان انہیں نااہل قرار دینے جا رہا ہے جس کے بعد ان کی سینیٹر شپ بھی ختم ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے 3 مارچ 2021 کے فیصلے میں لکھا تھا کہ بادی النظر میں فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں جمع کروایا جانے والا حلف نامہ جھوٹا ہے جس کی انہیں سزا ملے گی۔ واوڈا کے خلاف نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر کے مستعفی ہونے کے باعث انھیں قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے سنگین نتائج ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں واوڈا کا جمع کرایا گیا بیان حلفی بظاہر جھوٹا ہے اور اس پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کیس میں حتمی فیصلہ نیا سال شروع ہونے سے پہلے آجائے گا۔
