سینیٹ اپوزیشن لیڈر کے لیے PPP اور PMLN آمنے سامنے

یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنوانے میں ناکامی اور زرداری کی جانب سے اسمبلیاں چھوڑنے سے انکار کے بعد نواز لیگ اور ییپلزپارٹی نے سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے آپس میں ہی پنجہ آزمائی شروع کردی ہے۔
پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ سینیٹ میں دوسری بڑی جماعت ہونے کے ناطے قائد حزب اختلاف ان کی پارٹی سے ہونا چاہیے، اس مقصد کے لیے یوسف رضا گیلانی اور شیری رحمان کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کا دعوی ہے کہ پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ چیئرمین شپ کے لئے اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار بناتے وقت پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے یہ طے پایا تھا کہ اپوزیشن لیڈر ن لیگ سے ہوگا لہذا پیپلز پارٹی قائد حزبِ اختلاف کی نشست پر اپنا حق جتلا کر ناانصافی کر رہی ہے۔ ن لیگ اعظم نزیر تارڑ ایڈوویٹ کو قائد حزب اختلاف بنوانا چاہتی تھی جس پر پیپلزپارٹی کو تحفظات تھے چنانچہ ن لیگ نے اس عہدے کے لئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی کا نام پیش کیا ہے، تاہم یہ معاملہ ابھی حل طلب ہے اور ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کس جماعت کا ہو گا۔
12 مارچ کو ہونے والے سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی متنازع شکست کے بعد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جانبدار پریزائیڈنگ افسر سید مظفر حسین شاہ کی جانب سے گیلانی کے سات ووٹ مسترد قرار دیے جانے کے غیر قانونی عمل کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس امید کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی نے اپنے چھینے گئے ووٹ حاصل کرنے کے بعد چیئرمین سینٹ قرار پائیں گے، تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر اب تک گیلانی نے عدالت میں اس حوالے سے رٹ دائر نہیں کی۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے علاوہ اپوزیشن اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بشمول مسلم لیگ ن سمجھتی ہیں کہ گیلانی کو ہروانے اور سنجرانی کو جتوانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے گندا کھیل کھیلا ہے لہذا اب عدالت یا کسی دوسرے فورم سے ریلیف ملنے کی توقع رکھنا بےوقوفی ہے۔
ان حالات میں اپوزیشن اتحاد نے سینٹ میں حکومت کے سلیکٹڈ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ٹف ٹائم دینے کی بجائے قائد حزبِ اختلاف کی نشست حاصل کرنے کے لئے آپس میں ہی زور آزمائی شروع کردی ہے جسے جمہوریت کے لئے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت پیپلز پارٹی کے 20 سینیٹرز ہیں جبکہ ابھی آزاد امیدواروں نے اپنی جماعت کا فیصلہ کرنا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز کے 18 سینیٹرز ایوان میں موجود ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹرز کی تعداد پانچ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے لیڈر آف دی اپوزیشن کے عہدے پر ان کی جماعت کا حق بنتا ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں ابھی تک پارٹی نے کسی کو نامزد نہیں کیا تاہم یوسف رضا گیلانی اور شیری رحمان کے نام بطور لیڈر آف اپوزیشن لئے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ن لیگ کی طرف سے اعظم نزیر تارڑ کا نام بطور قائد حزب اختلاف سامنے آچکا ہے جس پر پیپلزپارٹی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اعظم تارڑ ماضی میں بینظیر بھٹو کے قتل میں ملزم قرار پانے والے دو اعلیٰ پولیس افسران کے وکیل رہ چکے ہیں جس کے بعد سینیٹر سعدیہ عباسی کا نام گردش کررہا ہے۔
پی پی رہنما فیصل کنڈی کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم جماعتوں میں یہ ضرور طے ہوا تھا کہ چیئرمین کا عہدہ پیپلز پارٹی کو ملنے کی صورت میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مسلم لیگ نواز کو دیا جائے گا، تاہم چونکہ گیلانی چیئرمین سینیٹ نہیں بنے اس لیے اب اس عہدے پر اپوزیشن کی سنگل لارجسٹ پارٹی ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی کا حق ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی بھی یہ دعوی کرچکے ہیں کہ ن لیگ نے پی ڈی ایم جماعتوں کے درمیان ہوئے سمجھوتے تحت اعظم نذیر تارڑ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگر یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ بن جاتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مسلم لیگ ن کو ملے گا کیونکہ اپوزیشن بینچز پر سب سے بڑی پارٹی ہونے کی حیثیت سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پیپلز پارٹی کا حق ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل راجا ظفر الحق اپوزیشن لیڈر تھے لیکن اس مرتبہ انہیں سینیٹ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب سینیٹ انتخاب میں پی ڈی ایم کے امیدوار نامزد کرنے والی کمیٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دینا متفقہ فیصلہ تھا اور اس کا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں گیلانی کی کامیابی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
واضح رہے کہ سینیٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق لیڈر آف دی اپوزیشن کا مطلب ہے ایسا رکن سینیٹ جس کو سینیٹ میں اپوزیشن کے ممبران کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو اور اسے چئیرمین سینیٹ اس عہدے پر نامزد کر دیں۔ قواعد وضوابط کی شق 16 کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے پندرہ دن کے اندر چیئرمین کو اپوزیشن لیڈر کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین سینیٹ ممبران کو اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے وقت، تاریخ اور مقام کا تحریری طور پر اپنے دستخطوں سے بتائے گا۔ آزاد ارکان کو سات دن کے اندر اپنی وفاداری کا تعین کرنا ہوگا۔ اس مدت کے بعد بھی آزاد رہنے والے ارکان اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنی حمایت نہیں کرسکیں گے۔عام طور پر اپوزیشن ارکان اپنے دستخطوں سے اپنے حمایت یافتہ لیڈر کا نام چیئرمین کو پیش کرتے ہیں اور جس نامزد رکن کی درخواست پر زیادہ ممبران کے دستخط ہوں چیئرمین اسے عہدے پر فائز کر دیتے ہیں۔ تاہم اگر دو حریف نامزدگان کی درخواستوں پر ایک جتنے ارکان کے دستخط ہوں یعنی مقابلہ برابر ہو جائے تو قواعد کے مطابق اس رکن کو عہدہ ملے گا جس کی اپنی پارٹی کے پاس سینیٹ میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ارکان ہوں، یعنی اس بار مقابلہ برابر ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی کا نامزد کردہ رکن ہی اپوزیشن لیڈر مقرر ہوگا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہدے کی سیاسی اور سفارتی اہمیت ہے۔ سینیٹ قواعد کے مطابق اگرچہ اپوزیشن لیڈر کی مراعات وفاقی وزیر کے برابر ہوتی ہیں مگر وارنٹس آف پریسیڈنٹس یعنی پروٹوکول میں اپوزیشن لیڈر کا رتبہ وزیر سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ عام طور پر غیر ملکی سفیروں کے علاوہ سربراہان مملکت بھی پاکستان کے دورے پر آکر حکومتی زعما کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی قواعد کے مطابق لیڈر آف دی اپوزیشن کو وفاقی وزیر کے برابر مراعات ملتی ہیں اور سینیٹ میں ناصرف دفتر دیا جاتا ہے بلکہ گاڑی، عملہ اور دیگر سہولیات بھی دی جاتی ہیں۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی سیٹ ن لیگ کاحق ہے کیونکہ طے شدہ فارمولا بھی یہی ہے۔
