سی سی پی او لاہور کی شکایت کرنے والی خاتون سے ’بدزمانی‘

سی سی پی او عمر شیخ کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ فون پر مدد کے لیے کال کرنے والی خاتون سے نامناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں۔
خاتون نے ایک ’جعلی‘ منشیات کے کیس میں اپنے شوہر کی حراست کی ’غیر جانبدارنہ‘ تحقیقات کےلیے پولیس چیف کی مدد مانگی تھی۔ وہیں سی سی پی او نے اس لیک آڈیو کو ان کے خلاف ایک اور سازش قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نے سی سی پی او لاہور سے فون پر رابطہ کیا اور اپنا تعارف رائے ونڈ سے تعلق رکھنے والی ’این‘ (اصل نام چھپایا گیا ہے) کے طور پر کروایا، بعد ازاں جیسے ہی انہوں نے اڈہ پلاٹ پولیس پوسٹ کے سب انسپکٹر کی جانب سے ان کے ساتھ کی جانے والی ’ناانصافی‘ کو بیان کرنے کی کوشش کی، سی سی پی او نے خاتون سے بدزبانی کرنا شروع کردی۔ قبل ازیں سی سی پی او کو اپنی تحریری درخواست میں شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ایس آئی نے ان کے شوہر کو رائے ونڈ میں ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا اور لاہور لے گیا۔ جس کے بعد انہیں ایس آئی کی جانب سے کال موصول ہوئی جس میں اس نے ان کے شوہر کی محفوظ واپسی کےلیے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ اسے (شوہر) کو منشیاب اسمگلنگ کیس میں ملوث کردیا جائے گا۔ خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس عہدیدار نے انہیں خبردار کیا کہ اگر وہ یہ معاملہ سینئر کمانڈ کے علم میں لائیں تو وہ اپنے ماموں جو قصور میں ایس ایچ او کے طور پر کام کرتے ہیں انہیں شوہر کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کرنے کا کہہ دے گا۔مذکورہ خاتون کا کہنا تھا کہ ایس آئی نے انہیں کہا کہ وہ رقم 2 مقامی رہائشیوں کے حوالے کردے، جس کے بعد میں نے اپنا واحد مکان 20 لاکھ روپے میں فروخت کیا اور ان دونوں آدمیوں کو 16 لاکھ روپے دیے۔ تاہم خاتون کے مطابق اس سب کے باوجود پولیس عہدیدار نے ان کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے کمزور ایف آئی آر درج کی ہے جو رشوت کے بدلے ان کے شوہر کے حق میں جائے گی۔
علاوہ ازیں لاہور ایس ایس پی نظم و ضبط اور ایس پی صدر نے معاملے کی تحقیقات کیں اور اپنی علیحدہ رپورٹس میں خاتون کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔
تاہم نتائج سے مطمئن نہ ہونے پر خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے سی سی پی او سے رابطہ کیا جنہوں نے اپنا موبائل نمبر عام کیا تھا اور پولیس سے انصاف نہ ملنے پر لوگوں کو ان سے براہ راست رابطہ کرنے کا کہا تھا۔
دوسری جانب لاہور پولیس نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ خاتون کا شوہر ایک عادی مجرم ہے اور منشیات فروش ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ پہلے یہ خاندان قصور میں رہتا تھا جہاں ملزم کے خلاف کئی مقدمات درج تھے، یہاں تک کہ پاکستان (پنجاب) رینجرز نے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کئی مجرمانہ کیسز درج کیے تھے۔ بعد ازاں خاندان قصور چھوڑ کر رائے ونڈ میں مقیم ہوگیا تھا جہاں ملزم نے دوبارہ منشیات فراہم کرنے کا کاروبار شروع کردیا تھا۔ لاہور پولیس کا دعویٰ تھا کہ خاتون نے جان بوجھ کر ایس آئی کے خلاف شکایت درج کروائی تاکہ ان پر اس کے شوہر کو رہا کرنے کےلیے دباؤ ڈالا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ جس کے بعد سے خاتون حمایت حاصل کرنے کےلیے مختلف موبائل فونز سے سی سی پی او سے رابطہ کر رہی تھیں جب کہ عمر شیخ نے انہیں دوبارہ رابطہ نہ کرنے کا کہا تھا۔
خیال رہے کہ 2 ماہ قبل بطور سی سی پی او تعینات ہونے والے عمر شیخ کو اپنے افسران کی طرف توہین آمیز سلوک رکھنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ ان کی تعیناتی کے فوری بعد ہی ان کے ’جارحانہ انداز‘ نے شعیب دستگیر کو پنجاب کے آئی جی پی کے عہدے سے ہٹنے پر مجبور کردیا تھا اور پی ٹی آئی کی حکومت سی سی پی او کے پیچھے کھڑی رہی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button