سی پیک پر کام کرنے والے چینی کورونا لا سکتے ہیں

پاکستانی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سی پیک پر کام کرنے والے پندرہ ہزار سے زائد چینی باشندے جب سال نو کی چھٹیاں منانے کے بعد پاکستان واپس پہنچیں گے تو وہ اپنے ساتھ کرونا وائرس بھی لائیں گے جو ملک میں بڑی تباہی مچا سکتا ہے لہذا اس خطرے سے نبٹنے کے لئے ابھی سے پلاننگ کی جائے۔
ذرائع کے مطابق چین میں پھیلنے والے مہلک کورونا وائرس کے باعث سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کی پاکستان واپسی نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدام کے طور پر سال نو کی چھٹیوں پر گئے ہوئے پندرہ ہزار سے زائد چینی ورکرز کی واپسی میں تاخیر کر دینی چاہیے لیکن اگر ان کو پاکستان واپس لانا بہت ضروری ہو تو ان کی مناسب اسکریننگ اور ٹیسٹوں کا بندوبست کیا جائے۔ بصورت دیگر اگر کرونا وائرس پاکستان داخل ہوگیا تو پھر اس کا پھیلاؤ روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم پاکستانی ذرائع کے مطابق سال نو کی چھٹیوں پر گئے چینی ورکرز کی واپسی کا عمل فروری کے دوسرے ہفتے میں شروع ہونا تھا اور اگر ان کی واپسی میں تاخیر کی جاتی ہے تو سی پیک منصوبوں پر کام رک سکتا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق سی پیک منصوبوں پر کورونا وائرس کے اثرات و مضمرات کے حوالے سے رسک لینا ہی ہوگا کیونکہ سی پیک منصوبہ اور چینی ورکرز لازم و ملزوم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے چینی حکومت سے پہلے ہی درخواست کردی ہے کہ قرنطینہ کی 14 روزہ معیاد مکمل کئے بغیر وہاپنے کسی بھی باشندے کو پاکستان واپس نہ بھیجے۔ تاہم سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید کی رائے میں چین کارکنوں کی پاکستان واپسی میں تاخیر سے سی پیک منصوبے متاثر اور نتیجتاً ملکی اقتصادیات متاثر ہوسکتی ہے۔ سی پیک منصوبوں کے علاوہ ہزاروں چینی کاروباری مقاصد یا دیگر منصوبوں پر کام کےلئے بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔
مشاہد کے مطابق 2017ء وہ انتہائی وقت تھا جب زیادہ سے زیادہ سی پیک کے تحت منصوبے شروع ہوئے اس وقت 19583؍ چینی باشندے ان منصوبوں پر کام کررہے تھے۔ سی پیک اور پاکستان کی اقتصادیات کورونا وائرس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مشاہد حسین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 2020ء کی اول دو سہ ماہیوں میں چینی اقتصادیات میں کورونا وائرس کی وجہ سے سست روی آجائے گی۔ تاہم یہ بھی ایک سچ ہے کہ سی پیک منصوبے کی تمام تر ڈیزائینگ اور انجینئرنگ کا تمام تر کام چینی ماہرین کے ذمے ہے جن کی موجودگی کے بغیر یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button