شاہد آفریدی کو فیملیز کی ویڈیوز، تصاویر شیئر کرنا کیوں پسند نہیں؟

سابق کپتان شاہد آفریدی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی فیملی کی پرائیویسی کے بارے میں بہت محتاط رہتے ہیں اور ان کو فیملی کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنا بالکل پسند نہیں ہے جس کی وجہ سے شاہد آفریدی اکثر مداحوں کی تنقید کی زد میں بھی آتے ہیں۔شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ متعدد بار لوگ ان کے خاندان کی چھپ چھپ کر ویڈیوز بناتے ہیں، یہاں تک کہ دوران طواف بھی لوگوں نے باپردہ اہلیہ کے ہمراہ ویڈیوز بنانے کی کوششیں کیں۔حال ہی میں شاہد آفریدی نے سما ٹی وی کے پروگرام ’’گپ شپ‘‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے کرکٹ سمیت دیگر معاملات پر بھی کھل کر بات کی، انہوں نے بتایا کہ کرکٹ کے دوران جب اپنی ٹیم کا کوئی کھلاڑی درست انداز میں نہ کھیل رہا ہو تو دور سے بیٹھ کر ان کی حرکتوں پر غصہ آجاتا ہے اور دل کرتا ہے کہ میدان میں خود اتر جاؤں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ آج تک اسی طرح پریکٹس اور ورزش کرتے ہیں، جس طرح وہ کرکٹ کھیلنے کے دوران کرتے تھے اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں لگتا ہے کہ وہ بیمار پڑ جائیں گے، انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ان کی زندگی پر فلم بنائی جانی چاہئے اور اس میں اچھا پیغام دیا جانا چاہئے۔دوران پروگرام سوشل میڈیا اور پرائیویسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے واضح کیا کہ وہ سوشل میڈیا کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ اس کے استعمال کے لیے تعلیم لازمی ہے، پاکستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیم نہیں پہنچ پائی لیکن وہاں وائی فائی پہنچ گیا۔سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا استعمال ذمہ داری سے کیا جانا چاہئے، لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کیا چیز غلط ہے اور کیا صحیح ہے، شکوہ کیا کہ سوشل میڈیا آنے سے لوگوں کی پرائیویسی ختم ہوگئی ہے۔شاہد آفریدی نے یہ شکوہ بھی کیا کہ لوگ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی چھپ چھپ کر دور سے ویڈیوز بناتے ہیں، حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ وہ ذاتی زندگی ک سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ مکمل پردہ کرتی ہیں لیکن اس باوجود لوگ چھپ چھپ کر دور سے ویڈیوز بناتے رہتے ہیں اور یہ عمل انتہائی غلط ہے۔شاہد آفریدی نے انکشاف کیا کہ دوران طواف بھی لوگ ان کی اور ان کی باپردہ اہلیہ کی ویڈیوز بناتے رہے اور انہوں نے ایسا کرنے والوں کو وہاں منع بھی کیا لیکن وہ نہ مانے۔منع کرنے کے باوجود ویڈیوز بنانے والے افراد سے انہوں نے موبائل چھینا اور پھر ان سے معذرت بھی کی، کیوں کہ وہ خدا کے گھر میں تھے۔

Back to top button