شاہد خاقان کے بعدسردارمہتاب کو بھی عزت راس نہ آئی

مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی کے بعد ن لیگ کے مرکزی نائب صدر اور سابق گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب عباسی نے پارٹی قیادت سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ناقدین ن لیگی”انکلز” کے پارٹی عہدوں سے استعفوں کو پارٹی انتشار سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے پارٹی نہیں چھوڑی بلکہ پارٹی عہدوں سے استعفے دئیے ہیں جلد ان کے تحفظات دور کر دئیے جائیں گے۔سردار مہتاب عباسی نے ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے پارٹی عہدے سے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’میں مسلم لیگ کے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ فوری انتخابات کروائیں اور ملک کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔‘

انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سردار مہتاب خان عباسی گذشتہ تقریباً چار دہائیوں سے پاکستان مسلم لیگ کا حصہ ہیں۔ مہتاب عباسی 1990 سے 1993 تک کشمیر امور کے وزیر رہے تھے اور 1997 سے 1999 تک خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔مہتاب عباسی 1993 سے 1996 میں بھی رکن قومی اسمبلی رہے ہیں، اور پرویز مشرف کے مارشل لا نافذ کرنے کے بعد ان کو 1999 میں ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا جس وقت وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ تھے۔ اس کے بعد مہتاب عباسی 2003 میں سینیٹر منتخب ہو گئے اور 2008 تک سینیٹر رہے اور 2008 کے عام انتخابات میں ایبٹ آباد سے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور کچھ عرصہ کے لیے وزیر ریلوے بھی رہے ہیں۔بعد میں جب وفاق میں مسلم لیگ کی حکومت 2013 میں بنی تو مہتاب عباسی کو 2014 میں گورنر خیبر پختونخوا تعینات کر دیا گیا اور 2016 تک وہ اس عہدے پر فائر رہے۔

 

رکن قومی اسمبلی کے علاوہ مہتاب عباسی نے 1985 سے سیاست میں قدم رکھنے کے بعد کوئی بھی سیٹ نہیں ہاری ہے۔ آپ 1986 سے 1988 تک خیبر پختونخوا کے قومی اسمبلی کے رکن تھے اور اس وقت وزیر صحت اور وزیر قانون بھی رہے ہیں جبکہ 1988 سے 1990 تک بھی وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن تھے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی کی طرف سے اتنی عزت ملنے کے باوجود سردار مہتاب عباسی نے استعفیٰ کیوں دیا؟ رانا ثنااللہ کے مطابق مسلم لیگ کی صوبائی قیادت جس میں امیر مقام، مرتضیٰ جاوید عباسی اور سردار مہتاب عباسی شامل ہیں، کے مابین شدید اختلافات ہیں جس کی وجہ سے یہ اکٹھے نہیں چل سکتے۔

 

ذرائع کے مطابق سردار مہتاب عباسی اور ایبٹ آباد ہی سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے بااثر رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کے مابین اختلافات 2014 سے شروع ہو گئے تھے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سردار مہتاب اور مرتضیٰ جاوید عباسی کے مابین اختلافات اسی بات پر ہیں کہ دونوں چاہتے ہیں پارٹی کے صوبائی معاملات ان کے ہاتھوں میں ہوں۔دونوں رہنماؤں کے مابین اختلافات2018  کے انتخابات میں تب کھل کر سامنے آئے تھے جب پاکستان مسلم لیگ ن نے سردار مہتاب عباسی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے سے معذرت کر کے مرتضیٰ جاوید عباسی کو ٹکٹ دیا تھا، البتہ حلقہ این اے 16 سے سردار مہتاب کے بیٹے سردار شہریار خان کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ مل گیا تھا۔اختلافات کی وجہ سے سردار مہتاب نے بیٹے کا ٹکٹ پارٹی کو واپس کر دیا تھا، اور انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔2018 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ سردار مہتاب کے رشتہ دار سردار فرید کو دیا تھا، اور سردار مہتاب کے فیصلے کے بعد سردار فرید نے بھی مسلم لیگ کی ٹکٹ سے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا اور آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا۔‘اسی طرح مرتضیٰ جاوید عباسی مریم نواز اور پارٹی کے دیگر مرکزی قیادت کے قریب سمجھے جاتے ہیں، جبکہ جاوید عباسی 2013 کے انتخابات میں ہارنے کے بعد علاقے سے بھی ذرا دور ہو گئے تھے اور لوگوں سے کم ملتے تھے۔’دونوں رہنماؤں کے مابین اختلافات اتنے ہیں، کہ انتخابات میں یہ بظاہر تو ایک نظر آتے ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے خلاف اور دیگر جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ دونوں چاہتے ہیں کہ ان کے اپنے بندے پارٹی کے عہدوں پر موجود ہوں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی آئندہ آنے والے انتخابات میں بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ پارٹی کے ٹکٹ مرتضیٰ جاوید عباسی کے بندوں کو دیے جائیں گے کیونکہ سردار مہتاب کا بیٹا پچھلے بلدیاتی انتخابات میں تحصیل ناظم کی سیٹ  تقریباً 30  ہزار ووٹ سے ہار گیا تھا۔

 

مہتاب عباسی کے پارٹی چھوڑنے سے مسلم لیگ کی ہزارہ ڈویژن میں سیاست پر کوئی اثر پڑے گا،  اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سردار مہتاب کی سیاست ایک حلقے اور ایک ضلعی تک محدود ہے جبکہ ہزارہ ڈویژن میں باقی اضلاع میں اپنے اپنے سیاسی بندے مضبوط ہیں۔ مانسہرہ کا اپنا سیاسی ڈھانچہ ہے اور وہاں پر سردار مہتاب یا جاوید عباسی کا کوئی اثر رسوخ نہیں ہے، تو یہ سارے اختلافات ایک ہی سیٹ پر ہیں جو قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ہے اور ایک صوبائی اسمبلی کا حلقہ ہے۔‘ امیر مقام کے ساتھ سردار مہتاب کے اختلافات بارے ذرائع کا کہنا تھا چونکہ امیر مقام صوبائی صدر ہیں، اور مرکزی قیادت کے قریب ہیں جبکہ دوسری جانب مرتضیٰ جاوید عباسی کے بھی قریب ہیں تو اسی وجہ سے سردار مہتاب کے ان کے ساتھ اختلافات ہیں۔ مرتضیٰ جاوید عباسی کے قریب رہنے والے کے ساتھ سردار مہتاب کے ضرور اختلافات ہوں گے، کیونکہ یہ دونوں خاندان اپنے حلقے میں اپنی طاقت اور اثر رسوخ رکھنا چاہتے ہے۔‘

Back to top button