شریفوں کی جائیداد ڈھونڈنے والے اب ان کی منت کیوں کر رہے ہیں؟


قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستانی حکام نے شریف خاندان کی غیر ملکی جائیداد کا سراغ لگانے کے لیے جس کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں، اسی کمپنی نے اب شریف خاندان سے مدد مانگ لی ہے تاکہ قومی احتساب بیورو کو لندن ہائی کورٹ کی جانب سے کیے جانے والے اربوں روپے کے جرمانے کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم شریف خاندان نے اس کمپنی کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ لندن ہائیکورٹ کی جانب سے نیب کے اس مطالبے کو رد کر دیا گیا ہے کہ ایوان فیلڈ میں شریف خاندان کی ملکیت چار فلیٹوں کو ضبط کر لیا جائے۔ قومی احتساب بیورو نے یہ مطالبہ نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کے فیصلے کی بنیاد پر کیا تھا جس میں نواز شریف کی لندن کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شریف خاندان کے بیرون ملک اثاثے ڈھونڈنے کے لیے نیب کی مقرر کردہ فرم براڈ شیٹ نے ایون فیلڈ ہاؤس میں شریف خاندان کے چار فلیٹوں کی ممکنہ ضبطی کے بعد نیب کے ذمہ واجب الادا بقایا 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی ادائیگی کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم لندن ہائی کورٹ نے اس دعوے کو خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب براڈشیٹ اور شریفون کی نمائندگی کرنے والے وکلا کے مابین ہونے والی خط و کتابت کے مطابق شریف فیملی نے نیب کے ذریعہ بقایاجات کی وصولی کے لیے کمپنی کی مدد کرنے سے انکار کردیا ہے۔ 6 نومبر 2020 کو شریف برادران کی قانونی ٹیم کو ای میل میں براڈشیٹ کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے لکھا کہ ‘ہمارا مؤکل اس وقت حکومت پاکستان کے خلاف دعوے کے نفاذ کی کارروائی کر رہا ہے، ہم دریافت کرتے رہیں گے کہ آیا اس دائرہ اختیار میں پاکستان کے پاس مزید اثاثے موجود ہیں یا نہیں، ہمارے خیال میں آپ کے مؤکل جانتے ہوں گے کہ پاکستان برطانیہ میں اپنے تجارتی بینکاری انتظامات کے لیے کون سے بینک کا استعمال کرتا ہے، کیا آپ کا مؤکل ہمارے موکل کی مدد کرنے کو تیار ہے؟
جواب میں شریف برادران کی نمائندگی کرنے والی لا فرم نے کہا ہے کہ وہ اس انکوائری میں براڈشیٹ کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے اور کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کریں گے۔ یاد ریے کہ براڈشیٹ کو 20 جون 2000 کو ‘آئل آف مین’ میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا اور اس نے مشرف حکومت اور اس وقت حال ہی میں تشکیل دیے گئے نیب کو مبینہ ناجائز دولت کے ذریعے خریدے گئے غیر ملکی اثاثوں کا پتہ لگانے میں مدد کی تھی۔
ایرانی نژاد کیوہ موسوی کی زیر نگرانی چلنے والی براڈشیٹ فرم اب عدالت کے ذریعے نیب سے اپنے بقایا جات وصول کرنے کی کوشش کرے گی۔ براڈشیٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی کمپنی کی حیثیت سے تشکیل دی گئی تھی جو اثاثوں اور رقوم کی بازیابی میں مہارت رکھتی ہے اور اسی وجہ سے اس طرح کی اشیا کا سراغ لگانے، تلاش کرنے اور ریاست کو واپس منتقل کرنے میں مصروف ہے۔ اس سے قبل کمپنی سے وابستہ ایک وکیل نے بتایا تھا کہ شریف برادران براڈشیٹ کی تحقیقات کا ‘اولین ہدف’ تھے۔لیکن نیب نے ان سے اچانک معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ دسمبر 2018 میں مرکزی ثالث کی حیثیت سے انگلش کورٹ کے سابقہ ​​اپیل جج سر انتھونی ایونز کیو سی نے حکومت پاکستان کی جانب سے براڈشیٹ کو 2کروڑ 20لاکھ ڈالر ادائیگی کا حکم جاری کیا تھا۔ جولائی 2019 میں حکومت نے ثالثی کی اپیل کی لیکن وہ اس میں ناکام رہی، ثالث نے فیصلہ دیا کہ حکومت پاکستان اور نیب نے براڈشیٹ کے ساتھ اثاثوں کی بازیابی کے معاہدے کو غلط مسترد کیا ور فیصلہ دیا کہ کمپنی ہرجانے کی حقدار ہے۔
اس کے بعد سے اثاثہ بازیافت فرم نے برطانیہ میں حکومت پاکستان سے مبینہ رابطوں کے حامل متعدد اداروں کو ہدف بنا کر اپنی خدمات کی ادائیگی کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ شریف برادر ان بھی نیب اور براڈشیٹ کہانی میں الجھ گئے جہاں اسکی فیس کی وصولی کی کوشش میں براڈشیٹ نے لندن ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ہاؤس کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے دعویٰ دائر کیا جس کی بنیاد یہ تھی کہ پر نیب عدالت نے کہا تھا کہ حکومت کو نواز شریف کی برطانیہ کی جائیدادیں ضبط کرنی چاہئیں۔ یہ دعویٰ خارج کردیا گیا تھا کیونکہ براڈشیٹ نے عدالت کے مینڈیٹ کی حامل تیسری پارٹی کے قرض کے آرڈر کی بدولت لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے کھاتوں سے تقریبا 2کروڑ 80لاکھ ڈالر کی ادائیگی حاصل کر لی تھی.
2 دسمبر 2020 کو نیب کے خلاف لندن ہائی کورٹ کے حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ براڈشیٹ کے ایون فیلڈ کے دعوے سے متعلق ماسٹر ڈیوسن کا عبوری چارجنگ آرڈر خارج کیا جائے اور فرم کی درخواست کی سماعت کو خالی کردیا جائے۔ آرڈر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاں ماسٹر ڈیوسن نے شریف برادران کی املاک سے متعلق اثاثے کے ارادے میں براڈشیٹ کی درخواست پر غور کیا تھا، اب براڈشیٹ نے عبوری تیسرے فریق کے قرض کے آرڈر کے ذریعہ قرضہ حاصل کرلیا ہے اور عبوری چارج آرڈر کو خارج کرنے اور خالی کرنے کی اجازت کی درخواست کی ہے جو 17 دسمبر 2020 کو درج کی تھی۔
اسی دور میں جب اس نے ایون فیلڈ ہاؤس کے چار فلیٹوں پر دعویٰ کیا تھا، براڈشیٹ نے پاکستان حکومت کو بھی خط لکھا تھا اور نیب کے ذریعے واجب الادا فنڈز کی وصولی کے لیے ‘پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط کرنے’ کی دھمکی دی تھی۔ جولائی 2020 کے ایک خط میں براڈشیٹ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان ٹیم "مدعا علیہ پاکستانی حکومت کا اثاثہ ہے اور ٹیم کے اثاثوں اور اثاثوں کی وجہ سے رقم قانونی چارہ جوئی کے لیے مدعا علیہ کا اثاثہ ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس وقت یہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کا ‘براڈشیٹ اور پاکستان اور قومی احتساب بیورو کے مابین ثالثی اور/یا بازیابی کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس وقت ایک بیان میں پی سی بی نے کہا تھا کہ یہ ادارہ حکومت سے آزادانہ طور پر کام کرتا ہے اور اپنی خود آمدنی پیدا کرتا ہے اور اسے وفاقی یا صوبائی حکومتوں، یا عوامی اخراجات سے کوئی گرانٹ، فنڈز یا رقم نہیں ملتی ہے۔ اگرچہ پی سی بی نے کمپنی کے دعوؤں کو رد کر دیا تھا لیکن براڈشیٹ کے پی سی بی کو بھیجے گئے خط کو بین الاقوامی میڈیا نے بڑے پیمانے پر کوریج دی تھی اور یہاں تک کہ کرکٹ کی مشہور نیوز ویب سائٹ کرک انفو نے بھی اسے رپورٹ کیا تھا، یہ میڈیا رپورٹس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھیں جب پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف 5 اگست 2020 اور یکم ستمبر کے درمیان تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کھیلنا تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button