کیا حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے آنے والے ہیں؟


اپوزیشن اتحاد کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفوں میں تاخیر کے بعد تحریک انصاف کے ترجمان بغلیں بجا رہے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک ناکام ہو گئی کیوںکہ نہ تو ڈیڈ لائن کے مطابق لانگ مارچ ہوا اور نہ ہی اجتماعی استعفوں پر کوئی فیصلہ ہو سکا لیکن کپتان حکومت پر اپوزیشن کا دباؤ کم ہونے کے بعد اب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے چھپے ہوئے اختلافات باہر آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، وجہ یہ ہے کہ جب بیرونی خطرات کم ہوں تو اندرونی اختلافات کا ابلنا ایک قدرتی عمل ہے، بیرونی حملہ ہو رہا ہو تو اندرونی لڑائیاں دبی رہتی ہیں۔ لہذا ان حالات میں حکومت کا اصل امتحان اب شروع ہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کافی عرصے سے وفاقی اور پنجاب حکومت کی خامیوں کی نشاندہی کر رہی ہے، ساتھ ہی وہ اصلاحِ احوال کے لئے حکمت عملی کا حوالہ بھی دے رہی ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے چند چھوٹے مشوروں کے علاوہ باقی اہم پالیسی ایشوز کے بارے میں ایک کان سے سننے اور دوسرے کان سے نکال دینے کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب بدلتے ہوئے حالات میں یا تو عمران خان کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنے کی پالیسی بدلنا پڑے گی یا پھر ان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے معاملات خرابی کی طرف جا سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پچھلے ڈھائی سال کی بدترین کارکردگی، گورننس میں ناکامی اور معیشت کی بربادی کا خمیازہ پاکستانی عوام براہ راست بھگت رہے ہیں اور وہ ان حالات کا ذمہ دار صرف حکومت کو نہیں بلکہ اسکے پیچھے موجود اسٹیبلشمنٹ کو بھی سمجھتے ہیں جو عمران خان کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لائی تھی۔
لہذا اگر وزیراعظم حالات میں بہتری لانے کے لئے دی جانے والی اسٹیبلشمنٹ کی تجاویز پر کان نہیں دھرتے اور اپنی من مانی کیے چلے جاتے ہیں تو پھر اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کا حق حاصل ہے خصوصا جب وہ پاکستانی اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے ہے اور اس پر عمران خان کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم اور نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حالیہ دنوں میں فوجی قیادت کو یہ وارننگ دے چکے ہیں اگر اس نے سلیکٹڈ وزیر اعظم کی پشت پناہی جاری رکھی تو پھر حکومت مخالف تحریک اور فروری میں ہو ے والے لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی بجائے جی ایچ کیو کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ اس دوران اس طرح کی اطلاعات بھی آنا شروع ہو گئی ہیں کہ موجودہ فوجی قیادت میں بھی عمران خان کا مزید ساتھ دینے کے معاملے پر اختلاف پیدا ہو چکا ہے۔
دوسری طرف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن اب تک کپتان حکومت کو کوئی بڑا چیلنج دینے میں ناکام رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ استعفوں کی ڈیڈ لائن کا مطلب موجودہ نظام کا خاتمہ تھا، لیکن استعفوں کے معاملے میں لیت و لعل کے بعد موجودہ نظام کے فوری گرنے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں، اب اپوزیشن کو نئے سرے سے ماحول بنانا ہوگا، اسے ایک نئی تحریک پھر سے اُٹھانا ہوگی۔ سہیل وڑائچ کہتے ہین کہ اپوزیشن کی تحریک کی اٹھان زبردست تھی، لانگ مارچ اور اجتماعی استعفے ٹرمپ کارڈ تھے۔ اگر فدائی حملے کی طرح یہ آپشن استعمال ہو جاتے تو سارا سیاسی نظام معطل ہو کر رہ جانا تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پیپلز پارٹی سے سندھ حکومت قربان کرنے کا مطالبہ منطقی نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو اِس فدائی حملے کے بدلے میں کیا ملے گا؟ یہ سوال بہت اہم ہے، ایک طرف تو ان کی سندھ میں حکومت جاتی رہے گی اور ان کی حکومت کی جگہ ان کے مخالفین آ کر بیٹھ جائیں گے جو انہیں اگلا الیکشن بھی جیتنے نہیں دیں گے۔اس لئے پیپلز پارٹی استعفوں کا آپشن اُس وقت تک استعمال نہیں کرے گی جب تک اُسے یقین نہ ہو کہ اُن کے استعفوں سے سارا سیاسی ڈھانچہ مفلوج ہو جائے گا اور اُس کے بعد ضمنی انتخابات نہیں، بلکہ عام انتخابات ہی ہوں گے۔ سہیل وڑاچ کے مطابق لانگ مارچ کی حکمت عملی میں اہم ترین وہ فضا ہوتی ہے جس میں مارچ کیا جاتا ہے۔ لیکن باوجود کوشش کے حکومت مخالف تحریک کے پہلے مرحلے میں وہ فضا نہیں بنی کہ ٹوٹی جوتی اور پھٹے کپڑوں والے سر پر کفن باندھ کر نکلیں اور اسلام آباد یا راولپنڈی جا کر آر یا پار کر کے آئیں۔ انکے خیال میں ایسی صورتحال بنانے کے لئے جس طرح کی گرما گرمی کی ضرورت ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہو سکی۔ اپوزیشن کو اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دیتے ہوئے سیاسی ماحول کے اندر ایسا تحرک لانا پڑے گا جس سے عام آدمی گھر سے باہر نکلے اور اسے یہ یقین بھی ہو کہ اس کے لانگ مارچ سے حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔لانگ مارچ کے لئے اصل فورس تو پارٹی کارکن ہوتے ہیں، وہ ہی سردی گرمی اور بھوک پیاس برداشت کر کے کھلے میدان میں بیٹھ سکتے ہیں، اس لئے ان کارکنوں کو وہ جذبہ اور مستقبل کا خواب دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ تبدیلی کے لئے متحرک ہو سکیں۔
سہیل وڑائچ کی رائے میں موجودہ حکومت کے فوراً گرنے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے لیکن حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات کی خلیج گہری ہونے کے امکانات بڑھ گے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت ڈیلیوری میں مکمل طور پر ناکام ہے، چینی کی رسد کا معاملہ ٹھیک ہوا ہے تو آٹا کم یاب ہو گیا ہے، آلو کا ریٹ کم ہوتا ہے تو پیاز کا دام بڑھ جاتا ہے، حالات سنوارنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی تخلیقی آئیڈیاز یا ویژنری پروگرام نہیں ہیں، اسی لئے موجودہ حکومت کی گورننس پر سنجیدہ سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پختونخوا اور پنجاب کے معاملات پر راولپنڈی میں اطمینان نہیں پایا جاتا اور وہاں سے گاہے گاہے دونوں صوبوں میں طرز حکمرانی پر اعتراض اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ حکومت کی آدھی میعاد گزر چکی۔ گویا عروج سے زوال کا سفر شروع ہو چکا۔ عام طور پر حکومتیں پہلے اڑھائی سال پروجیکٹ لگاتی ہیں اور آخری اڑھائی سال فیتے کاٹ کر اُن کا افتتاح کرتی ہیں۔ ن لیگ نے یہی کیا تھا، بجلی کے کارخانے لگائے اور موٹر ویز بنائیں اور پھر آخری برسوں میں ان کے افتتاح کرکے ان کے تمغے اپنے سینوں پر سجائے۔
تاہم دوسری طرف موجودہ حکومت اپنے پہلے اڑھائی برسوں میں نہ تو کوئی بڑے پروجیکٹ لگائے ہیں اور نہ ہی اُس کی منصوبہ بندی کی ہے، اس لئے یہ حکومت صرف ڈے ٹو ڈے معاملات میں ہی الجھی رہے گی۔ دوسری طرف حکومت کی آدھی میعاد پوری ہونے کے بعد ریاستی اداروں نے بھی مستقبل کے سیٹ اپ بارے پلاننگ شروع کر دینا ہوتی یے۔ ظاہر ہے کوئی بھی ریاست اپنے مستقبل سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ مستقبل کے منظر نامے میں پنجاب کے حوالے سے ن لیگ کو نظرانداز کر کے پھر سے تحریک انصاف کو ترجیح دینا مشکل ہو گا، اس لئے کم از کم پنجاب کی حد تک فوجی اسٹیبلشمینٹ کے ن لیگ کے مصالحتی گروپ سے مذاکرات کا امکان ہے۔
سہیل وڑائچ کاکہنا ہے کہ نہ صرف یہ بلکہ نواز لیگ کے مزاحمتی گروپ سے بھی اگلے الیکشن سے پہلے کوئی نہ کوئی انڈر اسٹینڈنگ ہو گی تبھی جا کر مستقبل کا نظام چل سکے گا۔ انکے خیال میں فی الحال تحریک انصاف کسی معاملے میں کامیاب و کامران ہے تو وہ اس کا کرپشن کا بیانیہ ہے گو حکومت کی کارکردگی صفر ہے مگر اس کے بیانیے کے نمبر سو فیصد ہیں۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ساری اپوزیشن مل کر بھی اپنے اوپر لگنے والے کرپشن کے الزامات اور عدالتی فیصلوں کے داغوں کو دھونے میں کامیاب نہیں ہو سکے، نہ ہی اپوزیشن حکومت کے خلاف کوئی ایسا نیا بیانیہ کھڑا کر سکی ہے جو موجودہ حکومت کو لرزا دے۔
اپوزیشن کو سمجھ لینا چاہئے کہ سب سے پہلے انہیں ایسا بیانیہ ترتیب دینا ہو گا جو حکومت کو بیک فٹ پر ڈال دے وہ چاہے نااہلی کا بیانیہ ہو یا معاشی ابتری کا۔ یہ طے کرنا تو ظاہر ہے کہ اپوزیشن کے شہ دماغوں کا کام ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اپوزیشن اور پی ڈی ایم کی جانب سے اپنی حکمت عملی بارے ہچکچاہٹ نے 2021کی پہلی سہ ماہی کا سیاسی نقشہ واضح کر دیا ہے۔
اب یوں لگتا ہے سینیٹ کے الیکشن ہوں گے، سیاسی کھینچا تانی بھی رہے گی اور نظام بھی چلتا رہے گا البتہ اب تبدیلی کی ساری امیدیں اس کروٹ پر ہیں جو ممکنہ طور پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں آئے گی۔ حکومت نے سمجھ داری سے کام لیا، لچک دکھائی تو شاید وہ مرحلہ نہ آئے لیکن اگر حکومت اکڑی رہی تو اسکے ٹوٹنے کا امکان بڑھ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button