اقتدار کی کرسی شہباز شریف کے گلے کی ہڈی کیوں بن گئی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ 2022ء میں شہباز شریف نے یہ تجویز دی تھی کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوراً بعد عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے، لیکن نواز شریف نے اس تجویز کو رد کردیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج نون لیگ چاروں اطراف سے مشکلات میں گھرنے کے بعد اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اقتدار کے حصول کے لیے کیا گیا کیونکہ کرسی کا اپنا نشہ ہوتا ہے، لیکن آج یہی کرسی شہباز حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔
مظہر عباس کے مطابق کل اور آج میں فرق صرف یہ ہے کہ 2022 میں جب اقتدار کے جہاز میں سفر شروع کیا گیا تو اس پرواز میں دیگر کئی اتحادی بھی سوار تھے، لیکن 2026 میں بس ’شریف‘ مسافر ہی محو پرواز نظر آتے ہیں۔ جنگ اخبار کے لیے اپنی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ امریکی ڈالر نیچے آچکا ہے لیکن پٹرول اور ڈیزل کی ہوشربا قیمتوں نے عام پاکستانی کو شدید متاثر کیا ہے۔ لہذا مہنگائی کرنے والی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ ان کے بقول ایسے وقت میں اپوزیشن جماعتوں کا رخ اسلام آباد کی طرف ہے، جبکہ تحریک انصاف کرپشن کیسز میں سزا یافتہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں حکمران اتحاد کے اندر بھی فاصلے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں اور عملی طور پر مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم شہباز شریف خود کو نسبتاً تنہا محسوس کرتے نظر آتے ہیں۔ مظہر کے مطابق اگر معاملات بہتر نہ ہوئے تو شاید شہباز شریف کی یہ بات درست ثابت ہو جائے کہ پارٹی کی سیاست کو ’’قومی مفاد‘‘ پر قربان کرنا پڑ گیا۔ تاہم وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ’قومی مفاد‘ کی تعریف کیا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی سیاسی فیصلوں کو قومی مفاد قرار دے کر ان کا دفاع کیا جاتا رہا ہے۔ مظہر عباس نے اپنی بات کو جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف کے ماضی کے تعلقات کی مثال سے واضح کرتے ہوئے لکھا کہ ایک انٹرویو میں صحافی نے مشرف سے سوال کیا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کیا تو اسے قومی مفاد قرار دیا گیا، جبکہ نواز شریف نے انہیں آرمی چیف کے عہدے سے ہٹایا تو اسے بھی قومی مفاد میں فیصلہ قرار دیا گیا، آخر قومی مفاد ہے کیا۔
ان کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیا جبکہ نواز شریف بھی آج تک اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہیں۔
مظہر عباس کے مطابق 2022ء میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے جانے کے وقت پی ٹی آئی حکومت کا سیاسی گراف نیچے جارہا تھا، پنجاب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی کارکردگی اور سیاسی صورت حال حکومت کیلئے مشکلات کا باعث تھی جبکہ خیبر پختونخوا میں بھی حالات سازگار نہیں رہے تھے۔ ان کے بقول اس وقت جو سیاسی کھیل کھیلا گیا، خواہ اس کے پیچھے کسی ’فیض‘ کا خوف تھا یا کسی ’باجوہ‘ کی خواہش، اسکے بعد کے حالات نے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی نقصان پہنچایا جبکہ عمران خان کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ آج مسلم لیگ (ن) کا سیاسی گراف اور اسکی ’پرواز‘ زمین کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ عمران خان کی مقبولیت کا اندازہ بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ مظہر کے مطابق نواز شریف سے بہتر اس صورت حال کو کون جان سکتا ہے، شاید اسی وجہ سے انہوں نے 8 فروری 2024ء کے انتخابات میں وزیراعظم کی دوڑ سے خود کو دور رکھا۔ ان کے بقول ایک غلط سیاسی فیصلے نے مسلم لیگ (ن) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور اب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ’’جہاز تنازع‘‘ نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔
مریم نواز کے حوالے سے مظہر عباس کا کہنا ہے کہ میڈیا یا مخالفین پر غصہ کرنے کے بجائے اگر وزیراعلیٰ پنجاب صرف یہ کہہ دیتیں کہ ’’مجھے عام پرواز سے جانا چاہئے تھا‘‘ تو معاملہ مختلف انداز میں دیکھا جاتا۔ ان کے مطابق برطانیہ جیسے ملک میں اگر اس نوعیت کا واقعہ پیش آتا تو سیاسی جواب دہی کا معاملہ بہت زیادہ سنگین ہوسکتا تھا، تاہم پاکستان میں حکمرانی اور سیاسی جواب دہی کا طرز عمل مختلف ہے۔
تاہم ان کے مطابق شریف خاندان کیلئے فی الحال ایک اطمینان کی بات یہ ہے کہ عمران خان کے معاملے پر آج بھی فوجی قیادت کا واضح اور غیرلچک دار رویہ برقرار ہے، تاہم یہ صورتحال کب تک قائم رہتی ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ پی ٹی آئی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ خود عمران خان کیلئے بھی سب سے بڑا مسئلہ ان کی اپنی جماعت ہے جو گزشتہ تین برس سے تحریک چلانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اسے مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق ایک طرف حکومت اور ریاست کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریاں اور گھروں پر چھاپوں کا معاملہ ہے، دوسری طرف عمران خان سمیت پارٹی کے متعدد رہنماؤں، جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور شاہ محمود قریشی بھی شامل ہیں، کی قید ہے جبکہ تیسری جانب خود پی ٹی آئی کے اندر انتشار موجود ہے۔ ان کے بقول 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے بھی صورتحال اہم ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں نے اس کی حمایت تو کی ہے لیکن خود تحریک یا دھرنے کی کال نہیں دی۔
مریم کے دور حکومت میں 12 ہزار بچوں سے جنسی زیادتی
مظہر عباس کے مطابق اس وقت اپوزیشن جماعتیں بھی الگ الگ سیاسی سمتوں میں سفر کررہی ہیں، پی ٹی آئی، اپوزیشن اتحاد، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کسی ایک مشترکہ سیاسی پرواز کا حصہ نہیں۔ ایسے میں اب اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ سیاسی پرواز کی ’’سیف لینڈنگ‘‘ کون کرتا ہے اور اگلی پرواز کے ہمسفر کون کون بنتے ہیں۔
