شعیب اختر سے بدتمیزی کرنے والے کی برطرفی کا مطالبہ

شعیب اختر کی جانب سے پی ٹی وی اسپورٹس کے پروگرام سے استعفیٰ دیئے جانے کے بعد یہ مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ قومی کرکٹر کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز کو برطرف کیا جائے اور شعیب کو واپس لایا جائے۔ پی ٹی وی سپورٹس پر پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین میچ کے بعد تبصرے کے دوران جب شعیب اختر نے لاہور قلندرز کے پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام کی تعریف کی تو میزبان ڈاکٹر نعمان اعجاز نے انہیں تضحیک آمیز انداز میں ٹوکا اس دوران تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ شعیب اختر نے پی ٹی وی کے ایکسپرٹس پینل سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان کے مایہ ناز سابق فاسٹ باؤلر اور راولپنڈی ایکسپریس کہلانے والے دنیائے کرکٹ کی تاریخ کے تیز ترین باؤلر شعیب اختر نے ڈاکٹر نعمان نیاز کے ساتھ پی ٹی وی پر لائیو شو کے دوران ہوئی مڈ بھیڑ پر دورانِ شو ہی پی ٹی وی سپورٹس سے استعفا دے کر شو چھوڑ چکے ہیں۔ 26 اکتوبر کونیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان ہوئے ورلڈ کپ کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے بعد جہاں پاکستانی قوم اپنی فتح پر جشن منا رہی تھی، پی ٹی وی پر براہِ راست شو کے دوران ہوئی اس بدکلامی پر شعیب اختر کا استعفا آنا قوم کے لئے ایک دھچکے سے کم نہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ پروگرام کے بعد پوسٹ میچ تجزیہ کاری کے لئے ڈاکٹر نعمان نیاز پروگرام کی میزبانی کر رہے تھے جس میں شعیب اختر کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے سابق لیجنڈری کھلاڑی ویوین رچرڈز، برطانیہ کے سابق مایہ ناز کھلاڑی ڈیوڈ گاور، پاکستان کی خواتین ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر، سابق کپتان راشد لطیف، سابق باؤلنگ کوچ اظہر محمود، پی ایس ایل ٹیم لاہور قلندرز کے کوچ عاقب جاوید اور سابق پاکستانی فاسٹ باؤلر عمر گل موجود تھے۔ اس موقع پر شعیب اختر نے لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کو بھی اس حوالے سے کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں کچھ لڑکوں کو تیار کیا ہے جو اب پاکستان کے لیے اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
اس موقع پر نعمان نیاز نے انہیں لقمہ دیا کہ شاہین شاہ آفریدی لاہور قلندرز سے پہلے ہی پاکستان کے لئے انڈر 19 کھیل چکے تھے۔ شعیب اختر نے انہیں جواب دیا کہ میں حارث رؤف کی بات کر رہا ہوں۔ اس موقع پر انہوں نے مذاقاً ایک جملے کا مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم وہ شو کی تیاری کر کے آئے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹڑ نعمان نیاز نے اس بات کا برا مناتے ہوئے فوری طور پر شعیب اختر کو انتہائی نازیبا انداز میں کہا کہ آپ میرے ساتھ بدتہذیبی سے بات کر رہے ہیں اور اگر آپ کو زیادہ چالاک بننے کا شوق ہے تو آپ یہ شو چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ میں آپ کو ٹی وی پر براہِ راست کہہ رہا ہوں کہ آپ شو چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ شعیب اختر بد مزاج نعمان کی یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گئے۔ وہ ابھی کچھ کہنے کے لئے سوچ ہی رہے تھے کہ نعمان نیاز نے بات ثنا میر کی طرف بڑھا دی۔ جس پر شعیب اختر نے انہیں ٹوکا کہ ایک منٹ یہیں رک جائیے۔
شعیب اختر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ انتہائی معذرت کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پی ٹی وی سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس قسم کا سلوک ان کے ساتھ کیا گیا ہے، انہیں نہیں لگتا کہ اب انہیں اس جگہ پر مزید بیٹھنا چاہیے اور وہ استعفے کا اعلان کرتے ہوئے پروگرام سے اٹھ کر چلے گئے۔
اس دوران باقی تمام پلیئرز دم بخود ہو گے کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ کرکٹ ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کے چند بڑوں کے منہ چڑھے نعمان نیاز کو کیسے یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ قوم کے اتنے بڑے ہیرو کو یوں پروگرام سے نکالنے کی دھمکی دے؟ ان کا کہنا تھا کہ شعیب اختر کا استعفی تو بنتا ہی نہیں تھا، ہاں نعمان نیاز کو ضرور بر طرف کر دینا چاہیئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شعیب اختر پاکستان اور کرکٹ کا اثاثہ ہے۔ کسی سرکاری ملازم کو ایک قومی لیجنڈ کی تذلیل کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
اس واقعہ کے بعد اپنے ویڈیو کلپ میں شعیب اختر نے کہا کہ انہوں نے کوشش کی تھی کہ معاملہ وہیں ختم ہو جائے۔ یہ طے ہوا تھا کہ وہ وقفے کے بعد کہیں گے کہ یہ سب ڈرامہ تھا لیکن اس سے پہلے نعمان نیاز کو ان سے معافی مانگنی تھی لیکن جب اس نے معافی نہیں مانگی تو پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں پروگرام چھوڑ دینا چاہیے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ بھی عجیب بات ہے کہ میزبان بدتہذیبی کے باوجود معذرت نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں مسئلے کا حل یہی ہے کہ نعمان نیاز کو پروگرام کی میزبانی سے برطرف کیا جائے اور شعیب اختر کو واپس لایا جائے۔
