شوگرسکینڈل: جہانگیر ترین نے نیب کی طلبی کا سمن مسترد کر دیا

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شوگر سبسڈی اسکینڈل کی تحیققات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقات ٹیم (جے آئی ٹی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما جہانگیرترین اور ان کے بیٹے علی ترین کو طلب کرنے کے بھجوائے گئے سمن کو جہانگیر ترین نے مسترد کردیا ہے. جہانگیر ترین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘یہ ایک وقت ضائع کرنے والا کیس ہے، چینی کی موجودہ قیمتوں میں اضافے میں میری کمپنی کے پرانے لین دین کا کیا تعلق ہے؟انہوں نے کہا کہ ملک میں 80 سے زائد شوگر ملیں موجود ہیں لیکن صرف ان کی ملوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔پی ٹی آئی کے سابق جنرل سکریٹری نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے بیٹے کو غیر ضروری طور پر اس معاملے میں گھسیٹا گیا ہے اور ان کا جے ڈی ڈبلیو معاملات یا انتظامیہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
دوسری طرف 15 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو اپنا جواب جمع کروا دیا ہے.ایف ائی اے کی کمبائن انوسٹی گیشن ٹیم نے چینی و منی لانڈرنگ کیس میں جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو آج طلب کر رکھا تھا، تاہم بیرون ملک ہونے کی وجہ سے وہ پیش نہیں ہوئے۔ ان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں علی ترین نے کہا کہ اسوقت لندن میں ہوں، والد کی تیمارداری کی وجہ سے اتنی جلدی نہیں آسکتا، لندن میں ان کے والد کا میڈیکل ٹریٹمنٹ چل رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے جو ریکارڈ طلب کیا ہے وہ بھی اتنی جلدی نہیں مل سکتا۔ لیٹر میں کہا گیا یے کہ مجھے وقت دیا جائے تاکہ تمام سوالات کا جواب لیکر آؤں۔
خیال رہے کہ شوگر کمیشن رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کے تحت تحقیقات کے سلسلے میں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کو 19 ستمبر کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے لاہور دفتر میں طلب کیا گیا ہے۔جے آئی ٹی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق جے کے ٹی فارمنگ کے اثاثہ جات کیس میں جہانگیر ترین اور علی ترین سے تحقیقات ہوں گی۔جہانگیر ترین سے جے کے ٹی فارمنگ کے اثاثے خریدنے کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔نوٹس میں کہا گیا کہ جہانگیرترین اور علی ترین ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور تمام ضروری دستاویزات بھی ہمراہ لائیں۔
یاد رہے کہ نیب نے گزشتہ ہفتے شوگر سبسڈی اسکینڈل کی غیر جانبدرانہ، آزادانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔نیب نے اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا تھا کہ مبینہ شوگر سبسڈی اسکینڈل کی غیر جانبدرانہ، آزادانہ، شفاف، میرٹ اور قانون کے مطابق تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ ٹیم میں دو انویسٹی گیشن افسران، فنانشل ایکسپرٹ، لیگل کنسلٹنٹ، شوگر انڈسٹری کے معاملات کے بارے میں تجربہ رکھنے والے ایکسپرٹ، فرانزک ایکسپرٹ اور کیس افسر/ایڈیشنل ڈائریکٹر اور متعلقہ ڈائریکٹر شامل ہوں گے۔تحقیقات کی نگرانی ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کریں گے جبکہ چیئرمین نیب، ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل برائے احتساب اور ڈی جی آپریشنز مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا نیب ہیڈ کوارٹرز میں ماہانہ جائزہ لیا جائے گا۔نیب کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات کو شفاف، غیر جانبدارانہ اور میرٹ پر کام مکمل کرنے کے لیے تمام صوبوں سے چینی سبسڈی سے متعلق مکمل تفصیلات لینے کے علاوہ سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے متعلقہ کمپنیوں کی مالی اور آڈٹ رپورٹس اور دیگر متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کرکے معاملہ کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔
ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔بعد ازاں حکومت چینی بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ 21 مئی کو سامنے لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔معاون خصوصی نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔
چنانچہ 7 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔17 اگست کو سندھ ہائی کورٹ نے چینی بحران کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کے تشکیل کردہ شوگر انکوائری کمیشن اور اس کی رپورٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ نے کمیشن کو غیر قانونی قرار دینے کی 8 وجوہات کا ذکر کیا جس میں ضروری قواعد و ضوابط پر عمل کرنے میں ناکامی، کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بروقت گزیٹ میں شائع نہ ہونا، کمیشن کی نامکمل تشکیل، کمیشن کی جانبداری اور درخواست گزاروں کو صفائی کا موقع نہ دینا شامل ہیں۔جس کے بعد 27 اگست کو وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شوگر کمیشن کی تشکیل اور اس کی رپورٹ کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ہائی کورٹ نے مکمل طور پر تکنیکی بنیادوں پر کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جبکہ کمیشن کے ساتوں اراکین کی تعیناتی کو وفاقی کابینہ نے منظور کرلیا تھا۔درخواست میں چینی کے شوگر ملز مالکان کے ساتھ ساتھ کے اثاثہ جات برآمدگی یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ شہزاد اکبر کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی شوگر مینوفیکچرر نے کمیشن کی کارروائی کی معلومات نہ ہونے کا دعویٰ کیا نہ کرسکتا ہے جس کے لیے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایچن (پی ایس ایم اے) سے مکمل طور پر رابطہ تھا۔
