کورونا وائرس میں مبتلا حمزہ شہباز اسپتال منتقل

ایک ہفتے قبل کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو طبی معائنے کےلیے لاہور کے جناح اسپتال لے جایا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا تھا کہ حمزہ شہباز کو اس وائرس سے صحت یاب ہونے تک اسپتال منتقل کیا جائے۔ جناح اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ یحیٰی سلطان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اس اسپتال میں سی ٹی اسکین اور دیگر ٹیسٹ کروائے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حمزہ شہباز کو ٹیسٹ کے بعد دوبارہ جیل بھیج دیا گیا اور ان کی رپورٹس آئندہ چند روز میں دستیاب ہوں گی۔ حمزہ شہباز جو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، کو گزشتہ سال جون سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں ہیں۔ نیب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق دو مختلف کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اتوار کے روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تصدیق کی تھی کہ ان کے بیٹے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا تھا کہ پرویز مشرف دور کا سامنا کرنے کے بعد حمزہ شہباز ‘نیب نیازی گٹھ جوڑ کے سیاسی انتقام کا بہادری سے مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت پر الزام لگایا تھا کہ حمزہ کو ضروری طبی امداد نہیں دی جارہی ہیں۔ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ جابرانہ حکومت سیاسی مخالفین کو غیر انسانی حالات میں رکھے کر ان کی صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، میرا بھائی (حمزہ) اس ظلم و بربریت کا تازہ ترین شکار ہے جس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے لیکن انہیں طبی امداد نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمزہ کو ایک سال سے زائد عرصہ سے ناجائز اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مارچ کے مہینے میں جب بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کیسز کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا تب حمزہ شہباز نے لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت طلب کی تھی۔
انہوں نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ جیل کی محدود جگہ میں سماجی دوری کی پالیسی پر عمل پیرا ہورا عملی طور پر ناممکن ہے، وائرس کے پھیلنے کی صورت میں قیدیوں کو ناقابل تلافی اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑسکتا ہیں، خدا نہ کرے کہ جیل میں وائرس پھیلے کیوں کہ اس سے قیدیوں کو ممکنہ طور پر مہلک خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ گرفتاری کے دس مہینوں میں احتساب ادارے نے ان کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button