فرانزک رپورٹ: بزدار، اسدعمر اوررزاق داؤد کا کردار مشکوک قرار

شوگر انکوائری کمیشن کی فرانزک رپورٹ میں چینی برآمد پر سبسڈی دینے پروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد کا کردار مشکوک قرار دیتے ہوئے انھیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ تینوں حکومتی عہدیداراپنے جوابات سے کمیشن کو مطمئن کرنے میں یکسر ناکام رہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چینی پر سبسڈی دینے کے حوالے سے اپنے بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 5 سالوں میں 40 لاکھ ٹن سے زائد چینی برآمد کی جس پر برآمداتی سبسڈی کی مد میں 29 ارب روپے دیے گئے۔ چینی پر سبسڈی دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملز مالکان لاگت سے کم بین الاقوامی قیمت پر چینی برآمد کرتے ہیں تو لاگت اور قیمت میں آنے والے فرق کو ٹیکس دہندگان کی محنت سے کمائے گئے پیسے سے دور کیا جاتا ہے۔
چینی تحقیقاتی کمیشن نے کہا کہ سیکریٹری خوراک شوکت علی نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو 2 ارب 96 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ کی سمری ارسال کی تھی تا کہ 18-2017 میں چینی کی درآمدات پر زیر التوا ادائیگیاں کی جاسکیں۔رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کمیشن کو حکومت پنجاب کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کے بارے میں بریف کیا جس میں انہوں نے کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے چینی کے 17 دسمبر 2018 کو ہوئے اجلاس میں سبسڈی کا جائزہ لیا گیا جس میں اس کی منظوری دی گئی۔جب ان سے 6 دسمبر 2018 کو ہونے والے اجلاس کے نکات کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ پنجاب کی شوگر ملز کو 35 روپے فی کلو سبسڈی دینے کا غیر اصولی فیصلہ کیا گیا تو انہوں نےجواب دیا کہ انہیں وہ اجلاس یاد نہیں۔کمیشن کو یہ بھی معلوم ہوا کہ 6 دسمبر کو کیا گیا فیصلہ 4 دسمبر کو ای سی سی کے اجلاس کے فیصلے سے بھی پلے کیا گیا تھا۔ کمیشن کا موقف یہ تھا کہ دی گئی سبسڈی ناجائز تھی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنا موقف پیش کیا کہ سبسڈی کابینہ نے دی تھی اور یہ ایک اجتماعی فیصلہ تھا لیکن اجلاس کے نکات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کمیشن کو بتایا کہ ملک میں غیر ملکی زرِ مبادلے کی بہت ضرورت تھی اور چونکہ ملک میں چینی کے کافی ذخائر موجود تھے اس تناظر میں چینی کی برآمدات کا فیصلہ درست تھا۔ساتھ ہی ان کا یہ کہنا تھا کرشنگ سیزن بھی شروع ہونے والا تھا اس لیے ملک میں بظاہر چینی کی ایسی کوئی قلت نہیں تھی جس سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ مختلف پیداوای کھلاڑیوں کے ٹکراؤ اور کارٹلائزیشن کی وجہ چینی کی قیمت بڑھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ای سی سی کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو سبسڈی دینے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بارے میں اسد عمر کا جواب کمیشن کو مطمئن نہیں کرسکا۔اسد عمر نے وجہ بتائی کہ سبسڈی کے صوبائی معاملے کا فیصلہ کرنے کا قانونی اختیار وفاقی حکومت کے پاس نہ ہونا اس فیصلے میں تبدیلی کی وجہ بنا لیکن یہ وجہ ای سی سی کے بعد کے فیصلوں کی عکاس نہیں۔
دوسری جانب مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کمیشن کو بتایا کہ ملک میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی شدید ضرورت تھی اور چینی کا سرپلس اسٹاک موجود تھا۔ ان سے پوچھا کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اسٹاک اورذخائر کے حوالے سے جو بیان دیا کیا اس پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا جس پر مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار گنے کے کمنشرز نے اجلاس میں پیش کیے گئے تھے اس لیے ان پر بھروسہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کسی بھی وقت چینی کی کوئی قلت نہیں ہوئی اور سال کے آخر تک چینی دستیاب تھی۔کمیشن کا کہنا تھاکہ ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کے باجود برآمدات جاری رکھنے کے حوالے سے ان کا جواب کمیشن کو قائل نہیں کرسکا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیشن نے اتنے ثبوت اکٹھے کرلیے ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ چینی کی برآمدات مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ تھی اس کے علاوہ دیگر وجوہات میں ہیر پھیر، ذخیرہ اندوزی، آگے کے ٹھیکے اور شوگر سیکٹر کے کھلاڑیوں کا ’سٹا‘ شامل تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر دفاع خرم دستگیر کمیشن میں رضاکارانہ طور پر پیش ہوئے۔اس سلسلے میں جب شاہد خاقان عباسی سے پوچھا گیا کہ پیداواری لاگت کیوں عجلت میں طے کی گئی جبکہ یہ ایک سالانہ ضرورت تھی اور اسے ماہرین کی مدد سے کیا جانا چاہیئے تھا تو انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا کو پیداواری لاگت تیار کرنے کا کہا گیا تھا اور انہوں نے جو تخمینہ لگایا وہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطالبہ کردہ سبسڈی سے کہیں کم تھی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں 19-2018 کے درمیان چینی کی برآمدات کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ اہم مسئلہ نہں تھا بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ جب ملک میں چینی کا ناکافی اسٹاک موجود نہیں تھا تو چینی برآمد کرنے کی اجازت کیوں دی گئی جس کے نتیجے میں مل مالکان نے قیمتوں میں اضافہ کر کے ایک کھرب تک کا منافع کمایا۔تاہم کمیشن کا نقطہ نظر یہ تھا کہ سال 18-2017 میں پیداواری لاگت پر سبسڈی کا تخمینہ مستعدی کے ساتھ نہیں گیا جبکہ شاہد خاقان عباسی 20 ارب روپے کی سبسڈی منظور کرنے کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔
