ترین نے بزدارکو شوگر سکینڈل کا مرکزی کردار قرار دے دیا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بنائے جانے والے تحقیقاتی کمیشن کے ہاتھوں شوگر سکینڈل میں مرکزی ملزم قرار دئیے جانے کے بعد کپتان کے سابقہ دست راست نے خود پر لگنے والے الزامات کو ناانصافی اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سارے معاملے میں مرکزی کردار عثمان بزدارکا ہے جس نے دراصل شوگر پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اپنے رد عمل میں ترین نے کہا ہے کہ چینی کی برآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے باقی تمام معاملات خراب ہوئے اور یہ فیصلہ وزیراعلی پنجاب کا تھا میرا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کے پاس نی تو کسی قسم کا کوئی سرکاری عہدہ رہا ہے اور نہ ہی وہ سرکار کے کسی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
جہانگیر ترین نے سماء ٹی وی کے پروگرام میں میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سارے مسئلے کی جڑ شوگر پر سبسڈی دینے کا فیصلہ ہے جس کی ذمہ داری وزیراعلی پنجاب پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار سبسڈی نہ دیتے کیونکہ ایکسپورٹ کی اجازت ہی نہیں تھی، اگر وہ سبسڈی نہ دیتے تو ہم جیسے لوگ بھی سبسڈی نہ لیتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا کس نے تھا تو ترین نے جواب دیا کہ میں تو موجودہ حکومت کا انفارمل حصہ تھا، مجھ سے صرف مشاورت ہوتی تھی لیکن شوگر ایکسپورٹ کرنے اور اس پر سبسڈی دینے جیسے بڑے پالیسی فیصلے وزیراعلی پنجاب نے وزیراعظم کی مرضی سے کیے۔
جہانگیر ترین نے گنے کی قیمتیں فکس کرنے اور دیگر الزمات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی انھوں نے انکوائری رپورٹ پڑھی نہیں صرف پریس کانفرنس سنی ہے اور انھیں یہ ساری کارروائی کافی کنفیوزڈ لگی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح انکوائری کمیشن نے شوگر کی پیداواری قیمت کے اوپر ’چھلانگیں‘ ماری ہیں یہ عجیب سی کہانی لگتی ہے۔ جب جہانگیر ترین سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے دس لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت کے لیے اسد عمر یا عمران خان پر دباؤ ڈالا تھا؟ تو وہ یہ سوال سن کر ہنس دئیے اور کہا ’آپ اسد عمر سے پوچھ لیں، یا عمران خان سے پوچھ لیں۔‘ انھوں نے کہا کہ میں نے حال ہی میں رزاق داؤد سے پوچھا کہ جب سے وہ کابینہ میں آئے ہیں میں نے کبھی ان سے چینی کے کاروبار کی بات کی ہے تو انھوں نے کہا کہ بالکل نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے میں بہت محتاط آدمی ہوں اور سب جانتے ہیں کہ میں اسد عمر پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
یاد رہے کہ شوگر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیت جہانگیر ترین، سابق حکمران شریف خاندان، گجرات کے چوہدری برادران، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے ’فراڈ اور ہیرا پھیری کی ہے‘۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا یے کہ جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو ملز پاکستان میں چینی کی پیداوار کا سب سے بڑا گروپ ہے اور جس نے حالیہ سالوں میں غیر قانونی طور پر سب سے زیادہ شوگر کی پیداواری صلاحیت بڑھائی اور تقریباً نو ملز کا اضافہ کیا۔
ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد جہانگیر ترین نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’جس قسم کے جھوٹے الزامات مجھ پر لگائے گئے ہیں ان کا سن کر دھچکا لگا۔ میں نے ہمیشہ صاف شفاف کاروبار کیا ہے۔ پورا ملک جانتا ہے کہ میں نے ہمیشہ کاشتکار کو پوری قیمت دی ہے۔ میں دو کھاتے نہیں رکھتا۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ہر الزام کا جواب دیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین شوگر کمیشن کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کا جواب کب اور کیسے دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button