شوہر کی موت کے بعد زندہ ہونیوالی عورت کی کہانی


اپنی خواہش کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنا ہر خاتون کا بنیادی حق ہے لیکن بعض اوقات معاشرہ، روایات، اور گھریلو مجبوریاں اس میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں، ایسی ہی کشمکش پر مبنی کہانی ڈرامہ سیریل ’’دوبارہ ‘‘ کی ہے جس میں بڑی عمر کے مرد سے شادی کرنیوالی کم عمر لڑکی اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی مرضی کی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔
ڈرامہ ’دوبارہ‘ میں مہرالنسا کا کردار پاکستانی معاشرے کی بہت سی دقیانوسی روایات اور خیالات کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ ڈرامہ ایک ایسی لڑکی کی زندگی کی کہانی پر مبنی ہے جو کم عمری میں اپنے سے بڑی عمر کے شخص کے ساتھ شادی کے بعد اپنے شوہر کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔ کیسے کپڑے پہننے ہیں؟ کیسا میک اپ کرنا ہے؟ کہاں جانا ہے ؟ کس سے ملنا ہے؟ یہ فیصلہ بھی وہ نہیں بلکہ اس کا شوہر کرتا تھا، ایسے میں بہت سے خواب اور خواہشیں اس کے دل میں ہی کہیں دفن ہو جاتی ہیں۔ اپنی آدھی زندگی ایسے شخص کے ساتھ گزرانے کے بعد جب مہرو کے شوہر ہدایت اللہ کا انتقال ہو جاتا ہے تو وہ خود پر بیوگی کو طاری نہیں کرتی بلکہ اپنے انداز میں ایک نئے ڈھنگ سے اپنی زندگی کو جینا شروع کرتی ہے۔
مہرو ہلکے رنگ کے کپڑوں کے بجائے شوخ رنگ کے لباس پہننا شروع کر دیتی ہے۔ اپنی پسند کا بناؤ سنگھار کرتی ہے، گھر کی چار دیواری میں قید ہونے کے بجائے باہر نکلتی ہے اور اب وہ کسی اور کی ڈکٹیشن نہیں لیتی بلکہ اپنی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز پر زندگی جی رہی ہے لیکن یہ اس کے لیے اتنا آسان نہیں۔ اسکے گھر والے، رشتے دار، دوست ہر کوئی اس کی بدلی ہوئی شخصیت پر حیرانی کے ساتھ طنزیہ جملے کستا ہے۔ اس کی نند جس کا کردار سکینہ سومرو ادا کر رہی ہیں، اسے ہر وقت یہ باور کراتی ہیں کہ اب وہ ایک بیوہ ہے اور ’بیوہ کو یہ سب زیب نہیں دیتا۔‘
اس ڈرامے میں معاشرے کے مردوں اور خواتین کے حوالے سے دہرے معیار کو بھی اُجاگر کیا گیا اور یہ دکھایا گیا کہ ایک مرد اپنے سے چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی تو کر سکتا ہے لیکن یہی معاشرہ ایک بڑی عمر کی عورت کی اپنے سے چھوٹی عمر کے لڑکے کے ساتھ شادی کو قبول نہیں کرتا۔ ڈرامے کی رائٹر ثروت نذیر کہتی ہیں کہ ’اس موضوع پر پہلے بھی بہت سے رائٹرز نے کام کیا ہے اور میں بھی جب اس کے بارے میں سوچتی تھی تو میں اسے مثبت انداز میں لکھنا چاہتی تھی’۔ ثروت نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی عمر کو لے کر بہت سے دہرے معیار ہیں لہذا مجھے لگتا تھا کہ اسلام میں تو ایسا کچھ نہیں ہے تو ہم کیوں اسے اتنا منفی سمجھتے ہیں۔ اگر لڑکی کی عمر لڑکے سے زیادہ ہو تو ہم چونک جاتے ہیں۔‘
ثروت نذیر نے بتایا کہ ’یہ کہانی صرف ایک بڑی عمر کی عورت کی ایک نوجوان سے شادی کے متعلق ہی نہیں ہے اس میں اور بھی بہت سی چیزیں ہیں۔ مہرو میں بہت سی محرومیاں ہوتی ہیں، اسے جب آزادی ملتی ہے تو وہ انہی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتی ہے۔‘ ثروت کے بقول ہمارے معاشرے میں مردوں کا رویہ تھوڑا سا حکمانہ ہوتا ہے، جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اسے بہت سی چیزیں نئے سرے سے سمجھنی پڑتی ہیں اور ہر انسان کی طبیعت اور طرح کی ہوتی ہے۔ عورت کو اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ جہاں جا رہی ہے اس ماحول میں ڈھلے۔‘
ڈرامے کی رائٹر نے کہا کہ ’اگر کوئی لڑکی اپنی مرضی سے خود کو اس ماحول میں ڈھال لے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن جب آپ کسی کے ساتھ زبردستی کرتے ہیں تو اس میں ایک باغیانہ سوچ ضرور پیدا ہوتی ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ مہرو نے اپنے شوہر کی زندگی میں ہی اپنے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائی، ثروت نذیر نے کہا کہ ’بعض اوقات انسان جس ماحول میں رہ رہا ہوتا ہے اس کی سوچ بھی پھر ویسی ہی ہو جاتی ہے، آپ محدود پیمانے پر سوچ رہے ہوتے ہیں اور جب وہ بندشیں ختم ہوتی ہیں تو آپ کی سوچ میں بھی ایک تبدیلی آ جاتی ہے۔ ظاہر ہے جب آپ کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں آپ کو یہ خیال کرنا پڑے کہ اگر میں ایسا کچھ کہوں گا تو لوگ کیا کہیں گے تو آپ اس طرح سوچتے ہی نہیں ہیں۔ مہروالنسا کو جب آزادی ملتی ہے تو اس کے سوچنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے۔ ‘ ثروت سمجھتی ہیں کہ برسوں کی روایات سے ہٹ کر کوئی کچھ کرنے کی کوشش کرے گا تو لوگ حیران تو ہوں گے۔ اصل میں کچھ رسم و رواج ہمارے ذہنوں میں اتنے راسخ ہو چکے ہیں کہ ہم ان سے ہٹ کر سوچ ہی نہیں پاتے۔‘

Back to top button