شکست کے بعد PDM میں کس کا بیانیہ چلے گا؟


چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں اپوزیشن اتحاد کے دونوں امیدواروں کی شکست کے بعد پی ڈی ایم کی تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان نہ صرف اختلافات سامنے آ سکتے ہیں بلکہ بیانیہ کی جنگ بھی زور پکڑ سکتی ہے جو کہ 26 مارچ سے شروع ہونے والے مجوزہ لانگ مارچ اور حکومت مخالف تحریک پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لہذا اب پی ڈی ایم کی قیادت کی سیاسی سوجھ بوجھ کا اصل امتحان شروع ہوگا اور آنے والے دنوں میں پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کے فیصلے بتائیں گے کہ اپوزیشن میں کتنا دم خم ہے۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قیام سے اب تک کے تمام اہم فیصلوں سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مختلف موقف سامنے آئے۔ ہر دفعہ یہ تاثر ملا کہ اس بات پر تو اتحاد میں دراڑ پڑ ہی جائے گی۔ ایسی صورت حال میں پی ڈی ایم کا سربراہ اجلاس ہو یا سٹئیرنگ کمیٹی کی میٹنگ، اختتام پر پیپلز پارٹی کا موقف تسلیم کرکے بظاہر سخت رویہ رکھنے والی ن لیگ اور جے یو آئی نرم موقف والی پیپلز پارٹی کے ہاتھوں قائل ہوکر باہر نکلتے اور عمومی تاثر کے برعکس اعلان کرتے۔ جس سے یہ تاثر مزید تقویت پکڑ گیا کہ پی ڈی ایم فی الوقت پیپلز پارٹی کے بیانیے پر چل رہی ہے۔
اسمبلیوں سے استعفوں کی بات ہو یا لانگ مارچ کا اعلان، ضمنی انتخابات اور سینیٹ کے بائیکاٹ کا معاملہ ہو یا پنجاب میں حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی، سینیٹ میں عہدوں کی تقسیم ہو یا باقی سینیٹ انتخابات کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی بیخ کنی ان تمام مراحل میں عموماً پیپلز پارٹی کا موقف ہی پی ڈی ایم کا موقف قرار پایا۔ تاہم کچھ ماہ پہلے آدھی رات کے وقت تنظیم سازی کرتے ہوئے ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ کے بھائیوں سے جوتے کھانے والے مسلم لیگی رہنما طلال چوہدری نے گیلانی کی شکست کے فورا بعد جب بلاول کو مخاطب کرتے ہوئے انکے اسٹیبلشمینٹ کے حوالے سے بیانیے ہر ایک طنزیہ ٹویٹ کی تو یہ تاثر ابھرا کے شاید اب مسلم لیگ اور نواز لیگ کے اختلافات کھل کر سامنے آ جائیں گے۔ بلاول نے بھی اس ٹویٹ کے جواب میں کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ کہہ دیا کہ طلال چوہدری صاحب یہ معاملہ کوئی تنظیم سازی کا نہیں ہے بلکہ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کا ہے لہذا احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی والوں کا یہ موقف ہے کہ بلاول بھٹو کا بیانیہ ایک مرتبہ پھردرست ثابت ہوا ہے کیونکہ یوسف رضا گیلانی نے مجموعی طور پر حکومتی امیدوار سے زیادہ ووٹ لیے۔ تاہم یہ اور بات کے پریذائیڈنگ آفیسر نے گیم حکومت کے حق میں پلٹ دی جسے اب وہ عدالت میں چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے دو مختلف بیانیے لے کر چلنے ہر بات کرت ہوئے نواز شریف کے ترجمان اور لیگی رہنما محمد زبیر نے کہا کہ ‘پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ابتدا میں بہت سارے آپشنز تھے۔ ہم سب سے بڑی جماعت تھے اور ہمارا بیانیہ بھی سخت تھا۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ مختلف موقف کے ساتھ سامنے آئی۔ ہم اسمبلیوں سے استعفے، ضمنی اور سینیٹ انتخابات کا بائیکاٹ چاہتے تھے۔ پیپلز پارٹی نے ضمنی انتخابات اور سینیٹ کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیں قائل کیا کہ استعفے اور بائیکاٹ مناسب سیاسی فیصلہ نہیں ہے۔’ ان کے مطابق ’یہ سلسلہ اس تواتر سے آگے بڑھا کہ خود ن لیگ کی صفوں سے یہ آوازیں آنا شروع ہوگئیں کہ پیپلز پارٹی بلکہ آصف زرداری اپنی ماہرانہ سیاسی حکمت عملی کے تحت پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے سب کچھ پیپلز پارٹی کو دلوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں جبکہ ن لیگ محض متحارب دھڑا بن کر رہ گئی ہے۔ اسی صورت حال کے تناظر میں مریم نواز نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ‘ن لیگ لمبی ریس کا گھوڑا ہے۔’ زبیر نے بتایا کہ ‘مسلم لیگ ن اسمبلیوں سے استعفے چاہتی تھی۔ لیکن باقی جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی کا موقف اس کے برعکس تھا۔ ہم نے کہا کہ حکومت اتنے حلقوں میں ضمنی انتخابات نہیں کروا سکے گی۔ جس پر پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ اگر کروا دیے تو کیا کریں گے؟‘ زبیر کہتے ہیں کہ ’ظاہر ہے ہم سیاست پر بات کر رہے تھے، سائنس تو ڈسکس نہیں ہو رہی تھی، اس لیے بڑی جماعت ہوتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے ہم نے ان کی بات مانی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو پہلے دن سے پتہ تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کو فیور نہیں دینی لیکن ایک دوسرے کی بات مان کر ہی اتحاد کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔’
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے سینیٹ انتخابات کے ساتھ جڑے تنازعات کے بارے میں بیانیے میں بھی فرق پایا جاتا تھا۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کا موقف تھا کہ اپوزیشن کو جوش اور جذبات کی بجائے ہوش اور فہم سے فیصلے کرنا ہوں گے جبکہ نواز شریف اور مریم نواز کا یہ موقف تھا کہ بہت ہو چکی، اب ہمیں کھل کر مقابلہ کرنا ہوگا اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑنا ہوگی۔
پچھلے کچھ ہفتوں میں مریم نواز متعدد بار سیاست میں ایجنسیوں کی مسلسل مداخلت کا الزام لگا چکی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا موقف تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے۔ تاہم طلال چوہدری جیسے مسلم لیگیوں کا یہ موقف ہے کہ سینٹ الیکشن سے فوری پہلے ایوان کے اندر سے ایجنسیوں کی جانب سے لگائے گئے خفیہ کیمرے پکڑے جانے، ممبران قومی اسمبلی کو گیلانی کے حق میں ووٹ نہ دینے کے لیے دباؤ ڈلنے، اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اکثریت کے باوجود شکست کھانے سے پیپلز پارٹی کے بیانیے کو دھچکا لگا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اب پی ڈی ایم کا مستقبل کیا ہوگا اور پی ڈی میں کس کا بیانیہ چلے گا؟ اس حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بظاہر یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ پی ڈی ایم کی پہلی آل پارٹیز کانفرنس کے متفقہ اعلامیہ کے مطابق مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی جس میں لانگ مارچ سمیت ایوانوں کے اندر اور باہر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمرالزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ‘اے پی سی اعلامیہ کی روشنی میں کس کا بیانیہ چلے گا کا سوال ہی غلط ہے۔ سیاسی جماعتوں کے موقف اور بیانیے الگ ہوتی ہیں اور جب وہ کسی اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو ان کو متفقہ مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے کبھی سختی اور کبھی نرمی لانا پڑتی ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘اے پی سی کے فیصلوں کی روشنی میں لانگ مارچ بھی ہوگا۔ حکومت کو ہٹانے کے لیے تمام قانونی راستے بھی اپنائے جائیں گے۔ اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی کی شکست کے فیصلے کو بھی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا اور انصاف حاصل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ کائرہ کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا مشترکہ موقف اور مشترکہ بیانیہ ہوگا۔ لانگ مارچ کا فیصلہ ہو چکا ہے پیپلز پارٹی اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔’ اسی طرح مسلم لیگ ن کے محمد زبیر نے کہا کہ ‘ایک بات طے ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ہمارا موقف سخت تھا اور ہم کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے اور ہیں، لیکن پیپلز پارٹی ایک حد تک جانا چاہتی ہے۔ اس کے باوجود لانگ مارچ اور اس کے بعد استعفوں کے معاملے پر غور کا فیصلہ ہو چکا۔ سینیٹ میں عدم اعتماد پر ابھی غور ہی نہیں ہوا۔ باقی معاملات جوں جوں آگے بڑھیں گے ہم مل کر فیصلے کریں گے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘اب تک جو کچھ ہوا باہمی مشاورت سے ہوا۔ آئندہ بھی پی ڈی ایم اسی سلسلے کو لے کر آگے چلے گی اور مشترکہ بیانیہ لے کر چلے گی۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button