پاکستان میں کورونا ویکسین لگانے کا عمل بدانتظامی کا شکار

10 مارچ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب جب میں اپنے والد کے ہمراہ اسلام آباد کے مرکزی اسپتال پمز میں داخل ہو رہا تھا تو دل میں خوف اور امید کے ملے جلے تاثرات تھے۔
خوف اس لیے تھا کیوں کہ والد کو ایسی ویکسین لگنے والی تھی جس کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب تھیں اور پُرامید اس لیے کیوں کہ ٹھیک ایک برس تک ویکسین کی راہ تکنے کے بعد اب بالآخر انہیں کچھ خاطر خواہ حفاظت ملنے والی تھی۔ لیکن ان تمام احساسات کے درمیان کہیں بھی بدانتظامی اور اس کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات ذہن میں نہیں تھے۔ میرے والد کو ذیابیطس ہے، ماضی میں وہ پھیپھڑوں کے مختلف عارضوں میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں اور ان کی عمر بھی لگ بھگ 70 برس ہے۔ یہ خیال اکثر ذہن میں گردش کرتا ہے کہ اگر وہ کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تو ۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ ویکسین کےلیے رجسٹریشن شروع ہوتے ہی پہلے ہی روز ان کا اندراج کروایا اور کچھ ڈاکٹروں اور ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد فوراً ہی ویکسین لگوانے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم اس روز پمز کے ویکسینیشن سینٹر کے باہر 65 برس سے زیادہ عمر کے درجن بھر افراد کو دیکھ کر ہم کچھ چونک سے گئے۔ باہر کھڑے چوکیدار کے الفاظ ’ٹوکن ختم ہوگئے ہیں اب ہم مزید افراد کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے سکتے‘ اور لہجے نے کچھ دیر کےلیے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید غلطی ہماری ہی ہے۔ اسی دوران وہاں موجود اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر زعیم ضیا کو ایک مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہتے سنا کہ ’ہمیں آج اس سینٹر پر جتنے لوگوں کے آنے کی امید تھی اس سے کئی گنا زیادہ لوگ آنے کے باعث یہ بدانتظامی دیکھنے میں آ رہی ہے۔‘ کچھ لفظوں کا تکرار ہوا، نظام کی بدحالی پر بحث ہوئی اور پھر ویکسینیشن سینٹر کے دروازے ہمارے لیے کھول دیے گئے۔ ویکسینیشن سینٹر کے اندر کے مناظر خاصے افسوناک تھے۔ 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی ایک بڑی تعداد ایک چھت تلے جمع تھی اور ایک غیریقینی صورت حال پیدا ہونے کے باعث یہاں سماجی فاصلے کا اہتمام کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ ایک سال تک گھر میں بند رہنے اور سرکاری قواعد کی پاسداری کرنے کے بعد جب ویکسین لگانے کی باری آئی تو سرکار نے ہی کورونا وائرس کا خطرہ بھلا دیا۔ مرکز اب ایک روایتی ڈرائنگ روم کا منظر بھی پیش کر رہا تھا جہاں بزرگ نظام پر تنقید کرنے کے ساتھ دلچسپ تبصرے کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ ایک خاتون نے پاس ہی موجود عملے کے ایک رکن سے کہا کہ یہاں سے ویکسین لے کر جائیں نہ جائیں، کورونا ضرور لے جائیں گے۔ جو ویکسین لگوا چکے تھے وہ نکلتے وقت وہاں موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو دعائیں دے رہے تھے۔ وہاں 80 کے پیٹے میں بھی کئی افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ ایک 72 برس کے بزرگ نے ہمیں بتایا کہ انہیں اسلام آباد کے ترلئی ویکسینیشن سینٹر سے اس لیے واپس کر دیا گیا کیوں کہ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ وہ کہنے لگے کم از کم آپ یہی بات میسیج میں لکھ دیتے، روز روز گھر سے نکلنا کون سا آسان ہے۔ اسی دوران وہاں موجود زعیم ضیا نے بتایا کہ اسلام آباد میں 15 ویکسینیشن سینٹرز ہیں جن میں سے اکثر اس وقت خالی پڑے ہیں، اگر 1166 سے آنے والا یہی میسیج کسی اور سینٹر میں بھی دکھایا جائے تو وہ بھی ویکسین لگا دیں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سینٹر خالی ہونے لگا لیکن ہم نے اسی آس میں کچھ دیر اور انتظار کرنے کا سوچا کہ شاید آخر میں ہماری باری آ جائے اور ایسا ہی ہوا۔ میرے والد کو ویکسین لگوانے کے بعد نہ ہی بازو میں خاطر خواہ درد محسوس ہوا اور نہ ہی بخار یا جسم میں درد کی شکایات ہوئی۔ ویکسین کی اگلی خوراک 21 روز کے بعد دی جائے گی۔ تاہم اسی ویکسینشن سینٹر میں اگلے کچھ دنوں میں حالات بہتر ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں اور ٹوئٹر پر موجود ایک صارف جن کے والد کو پہلے روز خاصی مشکلات کا سامنا رہا، وہ دوسرے روز منظر یکسر تبدیل ہونے کی بات بھی کرتے دکھائی دیے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں میں بھی ویکیسنیشن مراکز کے مناظر خاصے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں لاہور اور اسلام آباد میں ان مراکز میں خاصی بھیڑ ہے وہیں کوئٹہ اور پشاور میں عملہ بزرگوں کی راہ تک رہا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ان ویکسینیشن سینٹرز میں گزارے گئے وقت کی روداد سنائی جو یہاں بیان کی جا رہی ہے۔
کوئٹہ میں ایک کورونا ویکسینیشن سینٹر گئے لیکن ان کے مطابق یہاں آنے والے لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بزرگ شہریوں کو ویکسین ان مراکز میں لگائی جا رہی ہے جو پہلے سے ہی ہیلتھ ورکزر کو ویکسین لگانے کےلیے قائم کیے گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک مرکز سنڈیمن اسپتال کوئٹہ میں بھی ہے جو کہ شہر کے وسط میں واقع ہے۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ وہاں ویکسینیشن کےلیے عمر رسیدہ افراد کی قطار لگی ہو گی مگر منظر اس کے برعکس تھا اور صبح سے دن ایک بجے تک کوئی بھی بزرگ شہری ویکسینیشن کےلیے نہیں آیا تھا۔ اس مرکز میں نہ صرف ویکسینیشن کی سہولیات موجود تھیں بلکہ عملہ بھی موجود تھا۔ سول اسپتال میں آر ایم او اور اس مرکز کے انچارج ڈاکٹر انجم نے بتایا کہ دس مارچ سے اب تک اس مرکز میں 12 بزرگ شہریوں کو ویکسین لگائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سول اسپتال کے حدود میں جو بزرگ شہری آتے ہیں ہم ان کے بارے میں متعلقہ مرکز سے معلومات حاصل کریں گے اور پھر دوبارہ ان شہریوں سے رابطہ کریں گے تاکہ وہ آئیں اور ویکسین لگوائیں۔ محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کوئٹہ میں مجموعی طور پر ویکسینیشن کےلیے نو مراکز قائم کیے گئے ہیں جب کہ بلوچستان میں مجموعی طور پر 44 مراکز ہیں۔ جس طرح کوئٹہ شہر میں ابھی تک بزرگ شہریوں کو ویکسین لگانے کی رفتار کم ہے اسی طرح بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی تاحال ویکسینیشن میں تیزی نہیں آئی۔ محکمہ صحت کے اہلکار کے مطابق 10 اور 11 مارچ کو بلوچستان بھر میں صرف 56 بزرگ شہریوں کو ویکسین لگائی جا سکی تھی۔
پشاور شہر کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں قائم کورونا ویکسینیشن مرکز میں بھی ویکسین لگوانے والوں کی تعداد خاصی کم رہی۔ بلال کے مطابق جب تک وہ مرکز میں رہے تو چند ایک افراد ہی ویکسین لگوانے کےلیے آئے حالانکہ وہاں طبی عملہ اور تمام تر سہولیات موجود تھیں۔ اس دوران 65 برس کے حاجی خیالی خان بتایا کہ انہوں نے عمر زیادہ ہونے اور ذیابیطس کا مریض ہونے کے باعث ویکسین لگوانے کے بارے میں سوچا۔ انہوں نے کہا ’10 سے 15 منٹ میں میرا سارا کام ہو گیا اور یہاں ڈاکٹر بھی بہت اچھے ہیں۔‘
ہنگو سے تعلق رکھنے والے ممتاز سے جو اپنی بیوی کو لے کر ویکسین لگوانے کےلیے آئے تھے نے بتایا کہ میری بیوی کو تو اندراج کے مراحل میں کوئی دقت پیش نہیں آئی اور انہیں 24 گھنٹے کے اندر پیغام موصول ہوگیا۔ لیکن مجھے جو میسیج آیا اس میں میرا ویکیسنیشن مرکز ہنگو ہی رکھا گیا ہے لیکن اس میں کوڈ نمبر موجود نہیں۔ میں نے ہیلپ لائن پر بھی بارہا کال کی تاہم میرا یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رہتے پشاور میں ہیں لیکن شناختی کارڈ پر ان کا عارضی پتہ پشاور کا ہی درج ہے لیکن ان کا سینٹر ہنگو کا نکل آیا ہے اور اب انہیں اسے تبدیل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا ’مجھے امید ہے کہ یہ ویکسین ہماری حفاظت کرے گی لیکن جب تک کورونا موجود ہے احتیاطی تدابیر ہم کبھی نہیں چھوڑیں گے۔‘
لاہور میں ایکسپو سینٹر میں قائم کیے گئے کورونا وائرس ویکسینیشن سینٹر میں ایک ڈاکٹر شاہدہ حیدر جو اپنی بیٹی کے ساتھ یہاں موجود تھیں نے ویکسینیشن کے مراحل کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ انہیں اس دوران کسی بھی قسم کی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ان کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا اور اس کے بعد انہیں ویکسین لگانے کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
تاہم ایک اور خاتون نے بتایا کہ انہیں 1166 سے موصول ہونے والے پیغام میں میو اسپتال کا پتہ دیا گیا تھا لیکن جب وہ وہاں پہنچیں تو وہاں بہت زیادہ رش تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پھر ڈاکڑز کی جانب سے انہیں ایکسپو سینٹر جانے کی تجویز دی گئی اور یہاں انہیں بہت آسانی سے ویکسین لگ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button