کیا گیلانی کو عدالت سے انصاف مل پائے گا؟


چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں 98 میں سے 8 ووٹ مسترد کر دیے جانا غیر معمولی واقعہ نہیں خصوصاً جب ان میں سے سات ووٹ ایسے ہوں گے جن پر ایک امیدوار کے نام کے اوپر مہر لگی ہوئی ہو۔ تاہم اس میں قصور اپوزیشن کا بھی ہے جس نے ایک حکومتی اتحادی کو اتنے اہم ترین الیکشن میں پریزائیڈنگ آفیسر بنائے جانے پر اعتراض نہیں کیا جس نے ساری گیم حکومت کے حق میں الٹا دی حالانکہ عمومی رائے یہی ہے کہ اگر امیدوار کے نام کے خانے کے اندر مہر لگی ہو تو ووٹ کو درست تسلیم کیا جاتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پریزایڈنگ آفیسر غیر جانب دار ہوتا تو یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ووٹ مسترد ہونا ممکن نہیں تھا اور یوں وہ آج سینیٹ کے چیرمین ہوتے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اب یہ معاملہ عدالتوں میں جاۓ گا جہاں پر اس طرح کے کیس لٹکائے جانے کا رواج عام ہے لہذا دیکھنا یہ ہے کہ آگے یہ معاملہ حل ہونے میں کتنا وقت لیتا یے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے الیکشن میں پریذائڈنگ افسر کا کنڈکٹ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور تھوڑی سی جانبداری جیت کو ہار اور ہار کو جیت میں بدل سکتی ہے جیسا کہ گیلانی کے معاملے میں ہوا۔ اپوزیشن والے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سید مظفر حسین شاہ کو پریزایڈنگ افسر تسلیم کرنا ایک بڑی غلطی تھی کیونکہ انہوں نے اپنی جانبداری کا مظاہرہ نہ صرف سینٹ کے اندر کیا بلکہ الیکشن ختم ہونے کے بعد سینیٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی جانبداری مزید واضح کرتے ہوئے یہ بیان بھی داغ دیا کہ ان کے خیال میں اپوزیشن والوں نے سات ووٹ جان بوجھ کر ضایع کیے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سینٹ رولز میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب اور بیلٹ پر سٹیمپ لگانے کا طریق کار درج نہیں لیکن پارلیمانی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ فیصلے کیلئے بیلٹ پیپر پر ووٹر کی نیت دیکھی جاتی ہے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھنے والے حکومتی اتحادی سید مظفر حسین شاہ پختہ کار پارلیمنٹرین اور سیاستدان ہیں جو سندھ کے وزیر اعلیٰ اور صوبائی سپیکر بھی رہ چکے ہیں اور وہ بھی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ جو ووٹ انہوں نے مسترد کیے انہیں قبول بھی کیا جاسکتا تھا لیکن ایسا کرنے کی صورت میں گیلانی جیت جاتے۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ مسترد ہونے سے معاملہ ختم نہیں ہوا۔ جیسا کہ بلاول بھٹو بھی اعلان کرچکے ہیں’ اب یہ معاملہ عدالت میں قانونی جنگ اختیار کر ے گا۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں بیلٹ پیپر پر غلط جگہ مہر لگائی گئی اور ووٹ مسترد بھی ہوئے اور درست بھی قرار دیئے گئے۔ 1997 میں جب وسیم سجاد چوتھی مرتبہ چیئرمین سینٹ کا الیکشن لڑ رہے تھے تو ابکے مقابلے میں احمد فراز مرحوم کے بھائی بیرسٹر مسعود کوثر امیدوار تھے، وسیم سجاد کے 18 ووٹ مسترد ہو گئے ،اس وقت سینٹ کا ایوان 87 رکنی تھا اور اجمل خٹک پریذائڈنگ افسر تھے ، لیکن وسیم سجاد 18 ووٹ مسترد ہونے کے باوجود چیئرمین سینٹ کا الیکشن جیت گئے ۔ اسکے بعد چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن کرایا ، اکبر بگٹی مرحوم کے داماد ہمایوں مری ڈپٹی چیئرمین کے امید وار تھے، ان کے بھی 18 ووٹ خراب ہو گئے ، لیکن وسیم سجاد نے یہ 18 ووٹ درست قرار دے دیئے اور رولنگ دی تھی کہ ان سے ووٹر کی نیت کا پتہ چل رہا تھا کہ وہ کسے ووٹ دینا چاہتے تھے۔ سینٹ سیکریٹریٹ میں یہ سارا ریکارڈ موجود ہو گا جسے اپوزیشن گیلانی کا کیس لڑتے وقت اپنے حق میں استعمال کر سکتی ہے۔
یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ پریذائڈنگ افسر مظفر حسین شاہ کی رولنگ کسی عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے یا نہیں؟ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کسی بھی صورت ملک کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی۔ یہی موقف سابق اٹارنی جنرل انور مسعود خان نے بھی اختیار کیا ہے۔ تاہم سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ سینٹ میں جو کچھ ہوا وہ غلط تھا اور اگر ووٹر کی نیت کا پتہ چل رہا ہے تو یوسف رضا گیلانی کے ووٹ کسی بھی صورت میں مسترد ہونے نہیں بنتے تھے۔ انکا کہنا یے کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن آئین کےآرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کی انٹرنل پروسیڈنگ میں آتا ہے۔ تاہم 1997 میں ہی ایک اور واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ پارلیمنٹ کی انٹرنل کارروائی بھی عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے۔
سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے فیصلے پر ہونے والے تنازع پر پاکستان میں جمہوری نظام میں شفافیت اور قانون سازی کے حوالے سے قائم ادارے پلڈاٹ کی آسیہ ریاض نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پریزائڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے جو فیصلہ چیئرمین کے انتخاب پر دیا اس کو سمجھنا کافی مشکل ہے اور عمومی طور پر اسے نا انصافی’ سمجھا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پریذائڈنگ آفیسر کی ہدایات کی جس طرح انھوں نے ترجمانی کی، وہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں انھوں نے صحیح فیصلہ نہیں دیا’۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے سات ووٹوں کو مسترد کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی جانب سے ووٹ مسترد نہ کرنے کے حق میں پیش کیے گئے دلائل میں وزن تھا۔ دریں اثنا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں اپنے دونوں امیدواروں کی جیت کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹر فیصل جاوید کے ہمراہ پارلیمنٹ میں میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے آج اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی پشت میں چھرا گھونپ دیا ہے اور اسی گفتگو میں اپوزیشن اتحاد کی تدفین کا بھی اعلان کردیا۔
واضح رہے کہ جمعے کو اسلام آباد میں سینیٹ چیئرمین انتخاب میں شکست کے بعد حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد کیے جانے پر عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کیلیے ہونے والے انتخاب میں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو 48 اور یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے جس کے بعد صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے۔
پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے گنتی کے موقع پر کہا کہ ووٹروں نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ایک ووٹ اس لیے مسترد ہوا کیوں کہ دونوں امیدواروں کے نام پر مہر لگائی گئی تھی۔ انھوں نے انتخاب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہو،ے کہا کہ لگتا ایسے ہے آج کے7 ووٹ ان کے حامیوں نے بدنیتی سے خراب کیے۔ اس فیصلے پر آسیہ ریاض نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے بنائے گئے قواعد اس بارے میں بڑے واضح ہیں کہ چئرمین اور ڈپٹی چئیرمین کےانتخابات کیسے ہونے چاہیے لیکن ووٹ ڈالنے کے عمل کے بارے میں وہاں تفصیلات نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 12 مارچ کا دن پاکستان میں جمہوریت کیلیے ‎ بہت افسوسناک دن ہے۔ جس طرح سے یہ انتخابات منعقد ہوئے اور جس قسم کی چیزیں دیکھنے میں آئی ہیں، اس سے ہمارے ملک میں شہریوں کی نظر میں جمہوریت کی ساکھ میں بہتری نہیں ہوئی، صرف نقصان پہنچا ہے۔ اسی بارے میں جب تجزیہ نگار اور سینئیر صحافی سرل المیڈا سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قوانین اور قواعد کی ترجمانی کرنے میں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں قائم ماضی کی نظیر اور روایات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ انہون نے کہا کہ ‘پاکستان میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ملکی قوانین کی مرضی کی تشریح ہوئی ہے جس کے باعث ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی ہونا ممکن ہے، چاہے وہ درست ہو یا غلط۔’ حزب اختلاف کے پاس موجود آپشنز پر بات کرتے ہوئے صحافی سرل المیڈا نے سوال اٹھایا کہ کیا حزب اختلاف خود اتنا جذبہ رکھتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عدالت جانے کی دھمکی کو پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں انھیں بھرپور شکست ہوئی ہے اور ممکن ہے کہ پی ڈی ایم اب اپنے عوامی مظاہروں پر دوبارہ توجہ دے گی، بجائے کہ وہ اس ہار پر توجہ دیں جو کہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔’ اس سلسلے میں بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے بھی کہا ہے کہ اگر انہیں عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو وہ سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں گے۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اسی حوالے سے تبصرہ کیا کہ اپوزیشن انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ جا سکتی ہے اور حزب اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک کی جانب سے پریزائڈنگ افسر مظفر علی شاہ کو پیش کیے گئے دلائل میں وزن تھا۔ ‘اس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوگا۔ لیکن نام کے اووپر ووٹ لگا دیا تو مسترد کرنا بنتا نہیں ہے۔’ اسی حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے بھی موقف اختیار کیا کہ فاروق نائیک کے ساتھ انھوں نے انتخاب سے قبل سیکرٹری سینیٹ سے مہر لگانے کے بارے میں پوچھا تھا جس پر سیکرٹری سینیٹ نے بتایا کہ نام کےاوپرمہر لگانا ٹھیک ہے۔
اپوزیشن کے رہنماؤں نے انتخاب میں شکست کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کی جس سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھاکہ جس طریقے سے ان کے امیدوار کو اکثریت کے باوجودہرایا گیا وہ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امید ہے عدالت میں یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوں گے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھاکہ حکومت نے ہر حربہ استعمال کرکے الیکشن چوری کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا تھاکہ آج پی ڈی ایم کامیاب ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے امیدوار کو 49 ووٹ ملے لیکن یوسف رضا گیلانی کو سات ووٹ مسترد کرکے ہرایا گیا۔
احسن اقبال نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں ماضی کے عدالتی فیصلے بھی پڑھے اور کہا کہ ‘سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں کہ ووٹر کی نیت دیکھنی ہے۔ نام کے خانےمیں مہر لگانے کا مطلب ہےکہ ووٹرکی نیت درست ہے، جومہر امیدوار کےخانےمیں نام پر لگایاگیا وہ درست ہے۔’ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد ایسے فیصلے اور الیکشن کمیشن کی رولنگ ہے کہ خانے کے اندرڈالا گیا ووٹ درست ہے، چاہے وہ نام کے اوپرکیوں نہ ہو۔۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسترد کیے جانے والے ساتوں ووٹ میں امیدوار کے نام کےخانےمیں مہرلگائی گئی تھی اس لیے وہ اس کو چیلنج کریں گے اور انھیں عدالت سے توقع ہے کہ وہ اس کی درستگی کرے۔ تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی غلام عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی نرسری میں پروان چڑھنے والے صادق سنجرانی کے خلاف فیصلہ دے پائے گی یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button