الیکشن کمیشن کے اعلامیے کےخلاف عدالت عظمیٰ میں وزیراعظم کی پٹیشن سماعت کیلئے مقرر

عدالت عظمیٰ وزیر اعظم عمران خان کی جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اس اعلان کے خلاف پٹیشن پر جمعرات (18 مارچ) کو سماعت کرے گا جس میں اسی سی پی نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی منحرف رکن ایس بابر کو تاحال پارٹی کا رکن قرار دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 4 دسمبر 2019 کو ای سی پی کے اعلامیے کو برقرار رکھا تھا۔ آئی ٹی سی کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے بیرسٹر عمائمہ خان کے ذریعے دائر اپنی درخواست میں کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ای سی پی کے دائرہ کار اور اقتدار کی وضاحت کیے بغیر ہی آیا ہے۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی سپریم کورٹ کا بینچ آئندہ ہفتے اس معاملے پر غور کرے گا۔ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ای سی پی نے عدالت عظمیٰ یا ٹریبونل کی حیثیت سے کام کیا ہے اور طے شدہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاملے میں اپنے دائرہ اختیار سے توسیع کی۔ درخواست میں کہا کہ کس طرح ای سی پی نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا اس لیے عدالت عظمیٰ کس طرح اس اعلامیے کو غیر قانونی اور کالعدم قانونی قرار دینے کا پابند ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ کیا ای سی پی پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 (پی پی او) کے آرڈر 6 (3) اور (4) کے تحت حاصل کردہ کسی بھی معلومات کو شکایت کی مخالف شکل قرار دے سکتا ہے۔ وزیر اعطم عمران خان نے استدلال دیا کہ آئی ایچ سی نے حنیف عباسی کیس 2017 میں عدالت عظمیٰ کے وضع کردہ قانون پر غور نہیں کیا جس میں کسی سیاسی جماعت کے اکاؤنٹس سے متعلق کسی تیسرے فریق کی معلومات کو صرف اس شرط پر قبول کیا جائے گا کہ وہ ایک قابل اعتماد ذریعے سے تصدیق شدہ معلومات ہو۔ پٹیشن کے مطابق آئی ایچ سی امر کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا کہ پی پی او کے آرڈر 6 کے تحت ہونے والی کارروائی دو فریقوں کے مابین تنازع کا حل نہیں تھی بلکہ حقیقت میں تفتیشی کارروائی تھی۔ درخواست میں دعوی کیا گیا کہ آئی ایچ سی نے ای سی پی کے دائرہ اختیار سے متعلق سوال کو نظرانداز کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔ کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر ملکی فنڈز میں سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button