ِگل کےدوبارہ ریمانڈ پرعمران کا اظہار تشویش، چیف جسٹس کو خط

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بغاوت کے مقدمہ میں 2روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیئے گئے شہباز گل پر دوران حراست مبینہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے،جبکہ شہباز گل پر مبینہ تشدد اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پران کے وکیل نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شہباز گل کے دوروزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہونے پرعمران خان نے ایک پیغام میں کہا کہ انہیں شہباز گل کو دوبارہ پولیس ریمانڈ پر بھیجے جانے پر بہت تشویش ہے۔ حراست میں لئے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقلی اور پھر پولیس حوالگی کے بعد شہباز گل ذہنی اور جسمانی صحت کی حالت نازک ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا یہ اسی طرح مجھے اور پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے کی سازش ہے، ہمارے خلاف زبردستی جھوٹے بیانات دلوائے جا رہے ہیں۔ یہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے،ہم ناصرف شہباز گل بلکہ اس طرح کے کسی بھی ماورائے آئین اور غیر قانونی اقدامات کے مقابلے کے لئے ہر قسم کے قانونی اور سیاسی اقدامات کریں گے۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے شہباز گِل پر تشدد اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو خط لکھ دیا۔

چیف جسٹس کو خط ڈاکٹر شہباز گل کے عزیز بیرسٹر بھہول اسد رسول ایڈووکیٹ کی جانب سے لکھا گیا، خط میں چیف جسٹس سے معاملہ کا نوٹس لینے کی استدعا کی گئی۔

قبل ازیں پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے شہباز گل سے ملاقات کرنے کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل سے ملاقات ہوئی ہے، وہ ٹھیک ہیں، انہیں آگاہ کیا کہ پارٹی لیڈر اور ورکر ان کے ساتھ کھڑے ہیں،اڈیالہ جیل میں ان کو کوئی شکایت نہیں ہے لیکن انہوں نے بہت تفصیل سے بتایا کہ ان کو کس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا،شہباز گل پر جس طرح تشدد کیا گیا وہ انتہائی افسوسناک ہے، اس سب کا مقصد واضح نظر آرہا ہے، ان کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح ان کا جسمانی ریمانڈ دوبارہ حاصل کرکے انہیں واپس اسلام آباد لے جایا جائے اور ان پر مزید تشدد کرکے ان سے عمران خان کوئی جھوٹا بیان نکلوایا جائے۔

انکا کہناتھاجس بیان کے پر یہ سارا مقدمہ بنایا گیا ہے وہ تو ٹیلی ویژن پر لائیو ٹیلی کاسٹ ہوا ہے اس کا حرف بہ حرف موجود ہے، دوسرا بہانہ یہ لوگ فون کا بناتے ہیں جبکہ یہ لوگ فون بھی لے گئے تھے، یہ حقیقت ہے کہ فون پولیس نے اسی روز لے لیے تھے۔

اسد عمر نے عمران خان کے بیان پروضاحت دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اڈیالہ جیل نہیں جیل کہا تھا، شہباز گل نے جب پہلی بار عدالت میں کھڑے ہوکر جج کے سامنے قمیض اٹھا کر تشدد کے نشانات دکھائے تھے اس وقت تو وہ اڈیالہ آئے ہی نہیں تھے، اس میں کوئی ابہام کی بات نہیں کہ ان پر اسلام آباد میں تشدد کیا گیا،عمران خان ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، وہ کبھی کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جو قانون کے خلاف ہو۔

انہوں نے شہباز گل کو چکی میں رکھے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بالکل درست بات ہے کہ اڈیالہ جیل میں پہلی رات انہیں چکی کے اندر رکھا گیا تھا۔

اسد عمر نے شہباز گل پر تشدد سے متعلق چیف جسٹس کو لکھے گئے خط سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں نے چیف جسٹس کے صرف راولپنڈی میں ہونے والے جلسے کے لیے خط لکھا ہے، دو، تین مختلف جگہیں ہیں جنہیں دیکھا جا رہا تھا، آج دوپہر تک ان شا اللہ اعلان کردیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا فضل الرحمٰن، آصف زرداری، رانا ثنا اللہ ، خواجہ آصف، ایاز صادق، ان سب نے فوج کے خلاف ببانگ دہل باتیں کی ہیں، انہیں کیوں نہیں بلایا جارہا ہے، پرچے کیوں نہیں کٹ رہے، اللہ نہ کرے کہ کبھی ان پر بھی برہنہ کرکے تشدد کیا جائے لیکن سوال ان سے کیوں نہیں پوچھے جارہے؟

انکا کہناتھا نوازشریف واپس آئیں تو ان کے لئے قانون کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے، طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے، نواز شریف ہمارے لئے ہوّا نہیں اور نہ ہم ان سے ڈرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ اگر عمران خان اور نوازشریف انتخابی مہم چلائیں تو دو تہائی اکثریت سے عمران خان کامیاب ہوں گے۔

Back to top button