شہباز شبیر کے شہباز گل بننے کی کہانی کیا ہے؟

عمران خان کے لئے منہ کالا کروانے اور گندے انڈے کھانے والے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پولیٹیکل کمیونیکیشن ڈاکٹر شہباز گل کے سیاسی کیریئر کے بارے میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بھی کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ الیکشن 2018 کے بعد ایک دن اچانک ڈاکٹر شہباز گل نامی شخص کو وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا ترجمان مقرر کردیا گیا تھا۔ جب بھاگ دوڑ کر کے کچھ صحافیوں نے ان کا فون نمبر حاصل کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ ’امریکہ میں مقیم ہیں، لیکن چند دنوں میں پاکستان آ رہے ہیں۔‘ یہ تھی کہتان کے سپاہی شہباز گل کی پاکستانی سیاست میں انٹری کی کہانی، یعنی پاکستان آمد سے قبل ہی وہ وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان مقرر ہوچکے تھے اور انھیں عثمان بزدار کی امیج بلڈنگ کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔
شہباز گل کا تعلق چشتیاں سے ہے، جہاں سے وہ فیصل آباد منتقل ہوئے اور پھر اسلام آباد چلے آئے۔ 2007 میں وہ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ منیجمنٹ سائنسز سے وابستہ ہوگئے، آج کے شہباز گل ان دنوں شہباز شبیر کہلاتے تھے، دوران ملازمت انہوں نے ملائشیا میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا، لیکن ان پر الزام تھا کہ وہ بغیر اجازت اور بغیر سرکاری چُھٹی لئے بیرون ملک گئے، اس الزام کی انکوائری ہوئی، لیکن شہباز شبیر کے شعبہ کے سربراہ سے قریبی تعلقات کی بنا پر واپس اسی شعبہ میں وزیٹنگ فیکلٹی سے وابستہ ہوگئے۔ دوران تدریس ان پر اپنی طالبات کے ساتھ جنسی ہراسگی کے الزامات لگے، انکوائری ہوئی، لیکن اس دوران انچارج شعبہ مینجمنٹ سائنسز ڈاکٹر ناصر محمود کا انتقال ہوگیا اور انکوائری مکمل ہونے سے قبل شہباز شبیر مستعفی ہوگئے، جس کے بعد انہوں نے اپنا نام شہباز شبیر سے تبدیل کرکے شہباز گل رکھ لیا۔
قائد اعظم یونیورسٹی سے رخصت ہونے کے بعد وہ اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے لیکن کچھ ہی عرصہ بعد انکی ساتویں حس دوبارہ پھڑکی اور ان پر ایک مرتبہ پھر طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگ گے۔ یوں انہیں 2009 میں اسلامک یونیورسٹی سے بھی برخاست کردیا گیا۔ تاہم شہباز گل ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
اگر شہباز گل کا نام گوگل کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ملائیشیا کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور مختلف بین الاقوامی اداروں میں بطور وزٹنگ پروفیسر خدمات سرانجام دیں۔ مختلف اداروں کی ویب سائٹس کے مطابق ڈاکٹر شہباز گل انٹرنیشنل مارکیٹنگ اور انٹرنیشنل بزنس کے مضامین پر عبور رکھتے ہیں۔ اگرچہ ڈاکٹر شہباز گل تحریکِ انصاف کے شروعات کے ممبران میں سے نہیں تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ان کا تعلق 2003، 2004 میں امریکہ میں قائم ہوا۔ شہباز گل کا دعوی ہے کہ ان کو کپتان کے اقتدار میں آنے کے بعد خصوصی طور پر امریکہ سے بلوایا گیا اور ان کا بسیرا بنی گالا میں وزیراعظم عمران خان کے مرحوم دوست نعیم الحق کی رہائش گاہ پر ہوا۔ وہ انتخابی مہم کے دوران عمران خان کو ان کی تقاریر میں مدد کیا کرتے تھے۔
شہباز گل کو پہلا سرکاری کام وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی معاونت کا سونپا گیا۔ بزدار کو جس وقت وزیراعلیٰ پنجاب بنایا گیا تب سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پنجاب میں وزیراعلٰی کو چلانے کے لیے ان کے ساتھ ایک مضبوط بندہ ہونا چاہیے۔ وزیر اعلی پنجاب کا ترجمان مقرر ہونے کے بعد انکی سیاسی اننگز کا صحیح معنوں میں آغاز ہوا جہاں انھوں نے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو اپنا ہدف بنایا۔ اس کے بعد شہباز گل کو مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں متعارف کروایا گیا جہاں اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینا اور ان کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانا ان کا خاصہ بن گیا اور ان کی بدتمیزی انکی طاقت بن گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے شہباز گل نے وزیراعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں بیورو کریسی اور کابینہ کے اراکین کے ساتھ جارحانہ رویہ اپنانا شروع کر دیا اور یہ تاثر جانے لگا کہ بزدار تو درحقیقت صرف نام کے وزیراعلیٰ ہیں، اصل کام تو شہباز گل کرتے ہیں۔
کابینہ اور معمول کی میٹنگز کے اندر شہباز گل کے رویے سے پی ٹی آئی کے سینئیر رہنماؤں اور بیوروکریسی کو بہت شکایات تھیں اور یہ بات وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی محسوس کی۔ ٹاک شوز میں سخت لہجہ رکھنے پر وہ عمران خان کے مزید قریب تو آگئے لیکن ساتھ ہی کئی غلطیاں ان کے کھاتے میں جمع ہوتی رہیں، جن میں سے وزیر اعلی پنجاب سے مشاورت میں دوری، پولیس سٹیشنوں کی انسپکشن کا نوٹیفیکیشن اور میڈیا سے اچھے تعلقات نہ رکھنا سرفہرست ہیں۔ مبصرین کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کو بھی ان کی بعض باتیں ناگوار گزریں جس پر آہستہ آہستہ ڈاکٹر شہباز گل کے خلاف لاوا پکتا رہا اور آخر ایک دن انھیں وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ عہدے سے ہٹنے کے چند دن بعد وہ اسلام آباد پہنچ گئے اور وزیر اعظم کی میٹنگز میں نظر آنے لگے۔ یہی نہیں، بلکہ ماضی کے برعکس انھوں نے دارالحکومت آ کر اینکر پرسنز اور میڈیا کے نمائندوں سے اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کی۔
آخر کار اپنے قریبی رفیق نعیم الحق کی وفات کے بعد مئی 2020 میں شہباز گل کو وزیر اعظم نے اپنا معاون خصوصی مقرر کر دیا۔ ایک جانب شہباز گل وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اور تحریک انصاف کا دفاع کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو دوسری جانب ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ مریم نواز اور دیگر اپوزیشن لیڈران کے خلاف استعمال ہوتا رہتا ہے۔ تاہم شہباز پاکستانی سیاست میں نئے ہیں اور پی ٹی آئی کے دیگر روایتی سیاست دانوں کے طرح موقع پرست تو ہیں لیکن موقع شناس نہیں اور بولنے کے بعد تولتے ہیں۔ ہچھلے کچھ عرصہ سے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کے چکر میں انکی اپوزیشن رہنماوں کے خلاف دشنام طرازیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا جسکا منطقی نتیجہ 16 مارچ کو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ان کو پڑنے والے گندے انڈوں کی صورت میں ہوا جس کے بعد ان کا منہ بھی کالا کیا گیا۔ تاہم شہباز گل نے انڈے کھانے اور منہ کالا کروانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کہتان کی خاطر اپنی دشنام طرازیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
