شہباز شریف بطور وزیراعظم کارکردگی کیوں نہیں دکھا پا رہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اقتدار میں آنے کے بعد سے اس متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے جو انہوں نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب دکھائی تھی اور شہباز سپیڈ کا خطاب حاصل کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے ماضی جیسی کارکردگی نہ دکھانے پر حکمران اتحاد اور فوجی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ ماضی میں اپنے انداز حکمرانی اور انتظامی مہارت کے حوالے سے ستائش سمیٹنے والے شہباز شریف کی کارکردگی بطور وزیراعظم غیر متاثر کن رہی ہے۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی بیوروکریسی پر گرفت انتہائی مضبوط تھی لیکن مرکز میں بحیثیت وزیراعظم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاملات ان کے کنٹرول میں نہیں رہے، اس کے علاوہ وفاقی حکومت کے محکموں کی سروس ڈیلیوری مایوس کن ہے، میاں شہباز شریف کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وزیراعظم کی اب تک سب سے زیادہ توجہ معیشت پر رہی ہے لیکن وہ پھر بھی سنبھالی نہیں جا رہی۔
آئی ایم ایف سے قرض کا معاہدہ ہو جانے کے باوجود معیشت بہتری کی بجائے ابتری کی جانب گامزن ہے اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار وہ اکیلے نہیں ہہن کیونکہ معاشی محاذ پر جو بھی فیصلے کیے جاتے ہیں وہ وزیراعظم شہباز شریف کی رضامندی سے ہوتے ہیں، ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو سرکاری محکموں میں گورننس اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی۔
دوسری جانب شہباز شریف کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ معاشی حوالے سے مشکل ترین حالات میں وزیر اعظم بنے لیکن انہوں نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا ٹاس کامیابی سے حاصل کیا حالانکہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے پاکستان اور آئی ایم ایف کی ڈیل خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ اسکے علاوہ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ شہباز شریف ایک اتحادی حکومت کے وزیر اعظم ہیں اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ وہ ایک درجن سے زائد سیاسی شراکت داروں پر مشتمل حکمران اتحاد کے تابع ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت کا وزیراعظم ہونا شہباز شریف کی کمزوری نہیں بلکہ انکی طاقت ہونی چاہئے۔ ویسے بھی اقتدار میں آنے کے بعد سے کسی بھی اتحادی جماعت نے شہباز شریف کو بلیک میل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ شہباز شریف بطور وزیر اعظم اہم فیصلے کرنے سے گریز کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ پوزیشن نہیں لینا چاہتا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ شہباز شریف حکومت زیادہ عرصہ اپنی ناکامیوں کا مدعا عمران خان پر نہیں ڈال پائے گی اور اسے کچھ کر کے دکھانا ہوگا۔ اس وقت شہباز کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر ہونے کے تاثر کو قائم رکھنا ہے۔ ماضی میں بطور وزیر اعلی انکے طرز حکمرانی کی مثالیں دی جاتی تھیں، لہذا ضروری ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کا مجموعی تاثر بحال کرنے اور اگلے عام انتخابات میں اپنی جماعت کو بچانے کے لیے وہ اسلام آباد میں بھی اپنی حکمرانی کی دھاک بٹھائیں۔
ایسا کرنے کے لیے انہیں ابہام سے نکل کر فوری سخت فیصلے کرنے پڑیں گے جس کی یقینی طور پر ان کی جماعت کو سیاسی قیمت تو چکانی پڑے گی، لیکن اگر وہ ان مشکل حالات میں ڈیلیور کرگئے تو یہ ان کے سیاسی کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 18 گھنٹے کام کرنے اور حکومتی منصوبہ بندی کے ماہر شہباز شریف میں یقیناً ڈیلیور کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن انہیں اپنی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہو گا۔

Back to top button