عمران خان چیف جسٹس اطہر اللہ کا حکم ماننے سے انکاری

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ہر معاملے میں دوغلہ بیانیہ لیکر چلنے کی پالیسی پر عمل درآمد زور و شور کے ساتھ جاری ہے، گوجرانوالہ کے جلسے میں عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اپنے خلاف توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کے ہر فیصلے کو قبول کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے اس اعلان سے ایک روز پہلے انہوں نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے دیا گیا یہ حکم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ خاتون جج کو دھمکیاں دینے کے کیس میں شامل تفتیش ہو جائیں، اسلام آباد پولیس نے انہیں دو روز مسلسل طلب کیا تھا تاکہ وہ اس کیس میں شامل تفتیش ہو جائیں لیکن انہوں نے دونوں مرتبہ پیش ہونے سے انکار کر دیا، اب اسلام آباد پولیس نے عمران کو دائر دہشت گردی کے مقدمے میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے ایک اور نوٹس بھجوا دیا ہے لیکن تحریک انصاف کے چئیرمین کی جانب سے اس مرتبہ بھی پیش نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوسٹی گیشن ایسٹ اسلام آباد کے دفتر سے جاری نوٹس میں عمران سے کہا گیا ہے کہ آپ 12 ستمبر تک انسداد دہشت گردی عدالت سے عبوری ضمانت پر ہیں لیکن عدالت کے حکم کے باوجود آپ شامل تفتیش نہیں ہوئے اور نہ ہی وقوعے کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے لیے جاری نوٹس کی تعمیل عمران کے چیف سیکیورٹی افسر ایس پی راجا طاہر کے ذریعے کرائی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ نوٹس کی تعمیل ہونے کے باوجود عمران تھانے میں پیش نہیں ہوئے، واضح رہے کہ 6 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں پولیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان جمع کرانے سے روکتے ہوئے عمران خان کو دہشت گردی کے مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا تھا۔نچیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی سربراہی میں بینچ نے عمران خان کی دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کی تھی اور اسی دوران وکلا کے دلائل سننے کے بعد انکے خلاف اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ 20 اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس کا راستہ زیرو پوائنٹ سے ایف 9 پارک تک تھا، اس دوران عمران خان کی تقریر شروع ہوئی جس میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج صاحبہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کیا۔
ریلی سے خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنی کے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم تم کو چھوڑیں گے نہیں’۔ اس کے بعد انہوں نے عدلیہ کو اپنی جماعت کی طرف متعصب رویہ رکھنے پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ بھی نتائج کے لیے تیار ہو جائیں۔ عمران نے ایڈیشنل اور سیشن جج زیبا چوہدری کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران کی تقریر کا مقصد پولیس کے اعلیٰ افسران اور عدلیہ کو خوف زدہ کرنا تھا تاکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کریں اور ضرورت پڑنے پر تحریک انصاف کے کسی رہنما کیخلاف کارروائی کرنے سے بھی گریز کریں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے دہشت گردی کے کیس میں شامل تفتیش ہونے کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے بعد گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے یہ اعلان کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس توہین عدالت کیس میں جو بھی فیصلہ کریں گے میں قبول کروں گا۔عمران نے جج زیبا چوہدری بارے بیان پر زیر سماعت توہین عدالت کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں عدالت نے بڑے زبردست فیصلے کیے ہیں، اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے میں قبول کروں گا، ان کا کہنا تھا کہ عدالتی سماعت کے دوران اطہر من اللہ نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی، اگر وہ مجھے بولنے دیتے تو میں بتاتا کہ میں نے خاتون جج بارے کس ماحول میں بات کی۔
