کیا عمران کی PTI کا انجام بھی الطاف کی MQM والا ہوگا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے خطرناک ہوتے ہوئے اتنی حدیں پھلانگ لیں کہ بالآخر اب توہین عدالت کے الزام میں نااہلی کے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر وہ عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار پاتے ہیں تو کیا ان کی جماعت کا بھی وہی انجام تو نہیں ہوگا جو الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا ہوا تھا؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اس وقت بڑا سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف بھی نواز لیگ کی طرح عمران خان کی ممکنہ ’نا اہلی‘ کے فیصلے کو سہہ پائے گی یا پھر اس کا انجام بھی ایم کیو ایم کی طرح کا ہوگا جس کے پاس الطاف حسین کے بعد اب کوئی ’نمبر ٹُو‘ قیادت نہیں۔
خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اس وقت بھونچال کی صورت حال ہے جس کا مرکز عمران اور ان کی جماعت تحریک انصاف ہیں۔ عمران کے دورِ اقتدار کے وقت مائنس ون کی گونج تھی اور اب اُن کی نا اہلی کی۔ عمران خان جب حکومتی تخت سے اُترے تو بظاہر حد درجہ پراعتماد انداز میں سیاسی منظر نامے پر اُبھرے۔ اُن کی باڈی لینگوئج، سیاسی مزاج، سیاست کا انداز اور لب و لہجہ خاصہ دلچسپ دکھائی دیا۔ کپتان امریکی سازش کے خلاف حقیقی آزادی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ایوان سے میدان میں آگئے، لگ یہ رہا تھا کہ اب نہ ہی عمران کو کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ان کے راستے کی دیوار بن سکے گا اور خان صاحب اب ’ان اسٹاپ ایبل‘ ہوں گے۔ بظاہر مقبولیت کی ایک لہر آئی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو پذیرائی کی بلندیوں پر لے جاتی دکھائی دی لیکن قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ مقبولیت کے اس جھونکے نے عمران خان کو اچانک کسی اور جانب جھونک دیا۔
غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اب صورت حال قدرِ مختلف ہے جس کے بعد عمران خان کو پارٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کی ’ریڈ لائن‘ قرار دیا جا چکا ہے۔ اب یہ ریڈ لائن خاصے کڑے امتحانات کی ’ٹائم لائن‘ کی زَد میں ہے۔ یہ ٹائم لائن ہے مقدمات در مقدمات کی۔ سب سے بڑھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا توہین عدالت کا کیس ہے جو اب انتہائی غیر معمولی فیز میں داخل ہو چکا ہے کیونکہ اب خان صاحب پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ بات اب معافی اور تلافی سے بھی کافی آگے نکل چکی ہے۔ بال اب عدالت کے ’کورٹ‘ میں ہے اور کپتان اُسی کورٹ کے کٹہرے میں۔ لگتا یہی ہے کہ اِقتدار جانے کے بعد پہلی بڑی رکاوٹ اور بڑا امتحان جو عمران کو درپیش ہے وہ اب نا اہلی کی لٹکتی تلوار ہی ہے اور واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ عمران نا اہلی سے بچ نہیں سکیں گے۔
غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ’خطرناک‘ بنتے بنتے اپنی پوری پارٹی کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر عمران خان عدالت کی جانب سے نا اہل قرار دے دیے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں کپتان کی ’شِپ‘ صاف صاف ڈوبتی دکھائی دے رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان نااہل ہو جاتے ہیں تو پھر اس کے بعد کا منظرنامہ کیا ہوگا، نہ صرف عمران کی پارٹی کا مستقبل خطرے میں ہوگا بلکہ خود ان کا سیاسی مستقبل بھی کیونکہ نا اہلی کی صورت میں عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔
تحریک انصاف جو قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ تو کرتے دکھائی دے رہی ہے لیکن ایسی صورت حال میں جب اُس جماعت کا لیڈر اور قائد ہی نا اہل قرار دے دیا جائے اور جب اُس جماعت کے پاس عمران کے بعد کوئی مرکزی قیادت نہیں، سوال یہ ہے کہ اس صورت میں عمران کیا کر سکیں گے کیونکہ اگر وہ نا اہل قرار پا گئے تو نہ صرف ان کی سیاست کا دھڑن تختہ ہو جائے گا بلکہ تحریک انصاف کا شیرازہ بکھرنے کا واضح امکان بھی پیدا ہو جائے گا، جہاں تک بات ہے عمران کی مقبولیت کی تو یہ ایک ایسا بلبلہ ہے جسے بظاہر محض ایک تاثرگردانا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ ایک طرف عمران خان کی مقبولیت کو لے کر پی ٹی آئی بیانیہ ہے تو دوسری طرف عوامی تاثرات، جو کچھ اور ہی بتلا رہے ہیں، پی ٹی آئی کے ذہن و گمان میں پائے جانے والے اندازے میدان میں غلط ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، پشاور اور ملتان جلسے جس کی واضح مثال ہیں۔ یہ مقبولیت کا ایک بلبلہ ہے۔ ہاں! اس مقبولیت کو ’ہائبرڈ مقبولیت‘ تو ضرور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن عوامی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ یا تو محض دِکھا وا ہے یا پھر ’دِل کو بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت پر بھی خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور اہلِ سیاست سے خبریں یہی ہیں کہ کسی بھی وقت گرائی جاسکتی ہے۔ تاہم پنجاب حکومت کو گرانے کا راستہ کیا ہوگا، یہ سنجیدہ سوال ہے، وہ کارڈز ابھی تک پی ڈی ایم کی حکومت نے یعنی ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے اپنے سینے سے لگا کر رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن کہانی پسِ پردہ چل ضرور رہی ہے۔
ایک معاملہ ن لیگ کے قائد نواز شریف کی واپسی کا بھی ہے۔ موجودہ سیاسی تناظر میں نواز کب پرواز کریں گے، یہ بھی ایک اہم سوال ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ اُن کی واپسی اگلے سال کے آغاز یا اوائل میں متوقع ہو سکتی ہے۔ قومی سیاست کب کیا رُخ اختیار کرتی ہے یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت نہ صرف عمران خان بلکہ پوری کی پوری تحریک انصاف کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔
