صرف شکورشاد کے استعفیٰ کی منظوری کا نوٹیفکیشن معطل کیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 11 ارکان کے استعفوں کی منظوری معطل نہیں کی، بلکہ صرف ایک ممبر عبد الشکور شاد کی حد تک نوٹیفکیشن معطل کیاہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی ایم این اے عبد الشکور شاد کی استعفی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

عدالت عالیہ اسلام آباد نے وضاحت کی کہ عبد الشکور شاد کی حد تک الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن معطل ہے ، پٹشنر عبد الشکور شاد تھے اس لیے نوٹیفکیشن بھی ایک ممبر کی حد تک معطل ہے۔

عدالت نے پٹشنر کے وکیل سے استفسار کیا کہ سب کی حد تک تو نوٹیفکیشن معطل نہیں تھا۔ وکیل عبد الشکور شاد نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے 11 ممبران کا اکٹھا نوٹیفکیشن کیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اکٹھا ہے لیکن صرف ایک ممبر کی حد تک نوٹیفکیشن معطل ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 2018 میں قومی اسمبلی کے حلقہ 246 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن عبدالشکور شاد نے 8 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے استعفے کی منظوری کو چیلنج کیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں9 سمبر کو شکور شاد کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو پی ٹی آئی کے سارے استعفے ہی مشکوک ہو گئے ہیں۔ عدالت نے این اے 246 کی نشست خالی قرار دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور پی ٹی آئی رکن عبدالشکور شاد کو اسمبلی کارروائی میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی۔

تاہم سوشل میڈیا اور میڈیا پر یہ خبر گردش کررہی تھی کہ شکور شاد کے علاوہ باقی دس ارکان کے استعفوں کا نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا گیا ہے، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف کے صرف ایک رکن قومی اسمبلی عبدالشکور شاد کے استعفے کی منظوری کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا ہے اس کا اطلاق باقی دس ایم این ایز پر نہیں ہوگا۔

Back to top button