شہباز شریف نے آنکھوں میں اقتدار کے سہانے سپنے سجا لیے

اطلاعات ہیں کہ بوٹ پالش کرنے کے عوض شریف برادران کو دوبارہ اقتدار دینے کا لولی پاک تھما دیا گیا ہے جسے چوستے ہوئے اب شہبازشریف کپتان کی جگہ وزیراعظم بننے کے سہانے سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے پھر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے پارٹی ذرائع کے مطابق ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے پر نہ صرف پارٹی کارکنان کی طرف سے لندن میں کھابے کھاتی قیادت پر تنقید کی جارہی ہے بلکہ پارٹی کے مرکزی رہنما بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں پارٹی قیادت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
دوسری طرف آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کے فیصلے پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آنے کے بعد لیگی قیادت نے اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے پارلیمنٹرینز اور پارٹی کارکنوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے پارٹی ورکرز کنونشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس کنونشن میں شریف برادران میں سے کسی کی شمولیت کا امکان نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ن لیگی کارکنان کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری بھی پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت کے ذمہ لگائی جا رہی ہے جو خود بوٹ پالش کرنے کے فیصلے پر کارکنان کے سخت ردعمل کے بعد اپنا منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔
اس صورتحال میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ردعمل کے پیش نظر رواں ماہ پارٹی ورکر کنونشن بلوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیگی قیادت کی طرف سے ورکر کنونشن میں آرمی ایکٹ بارے پارٹی کارکنان کے تحفظات دور کرنے اور انھیں ایک دفعہ پھر لولی پاپ دے کے خاموش کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے آرمی ایکٹ کی حمایت کے حوالے سے پارٹی کارکنوں کی شکایات کے ازالے کیلئے ہمنوا پارٹی رہنماؤں کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔
شہباز شریف کی طرف سے پارٹی رہنماوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کارکنوں کو بتائیں کہ انکی قیادت آج بھی ”ووٹ کو عزت دو ” کے نعرے اور موقف پر کھڑی ہے۔ یاد رہے کہ اصل میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نواز شریف نے بلند کیا تھا جسے مریم نواز آگے لے کر چلیں اور شہباز شریف نے آج دن تک اس نعرے کی توثیق نہیں کی کیونکہ اس سے اسٹیبلشمنٹ ناراض ہوتی ہے۔
شہباز شریف نے اپنے رفقا کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ کارکنوں کو سمجھائیں کہ آرمی ایکٹ کی منظوری ادارے کا مسئلہ تھا جسے افہام و تفہیم سے حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری تھی۔ اپنے پیغام میں شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت سے پاک فوج کے ادارے کو متنازع اور کمزور ہونے سے بچانا مقصود تھا۔ شہباز شریف نے مرکزی لیگی رہنماؤں سے کہا ہے کہ پارٹی کارکنوں کو بتائیں کہ حکومت نے پاک فوج جیسے اہم قومی ادارے کو متنازع بنانے کی بھر پور کوشش کی جس میں وہ ناکام رہی۔
دوسری طرف پارٹی کارکنان کسی بھی صورت قیادت کے کسی بھی ڈھکوسلے میں آنے کو تیار نہیں اور وہ لندن میں مقیم قیادت کی طرف سے پارٹی ورکر کنونشن بلانے کے فیصلے کو گونگلوں سے مٹی جھاڑنا تصور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کو ووٹ کو عزت دینے کی جگہ بوٹ پالش مہم شروع کرنے سے قبل پارٹی کارکنوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ پارٹی ورکرز کی امنگوں کے خلاف فیصلے کر کے اب ورکرز کنونشن بلانے کا کیا فائدہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیگی قیادت کی طرف سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کے فیصلے سے پارٹی کی سطح پر مسلم لیگ ن کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کا کسی بھی صورت فوری ازالہ ممکن نہیں تاہم پارٹی ورکر کنونشنز کا انعقاد کارکنان کے غم و غصے کی شدت میں کمی لانے کا باعث بن سکتے ہیں لیکن کنونشنزمیں پارٹی قیادت کو کارکنان کی طرف سے شدید ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button