شہباز شریف کی جاسوسی میں جنرل فیض ملوث نکلا،ADCگرفتار

ماضی میں آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے اے ڈی سی رہنے والے میجر عبدالرحمان عرف میجر ارسلان نے گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران اعتراف کر لیا ہے کہ وہ فیض حمید کے کہنے پر وزیراعظم شہاز شریف کی آڈیوز ریکارڈ کر کے لیک کرتے رہے۔ یہ انکشاف سینئر صحافی اعزاز سید نے اپنے وی لاگ میں عمر چیمہ سے گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ وزیراعظم کے عملے کا ایک بندہ ان کی آڈیو ریکارڈ کر کے لیک کرتا رہا۔ اس اے ڈی سی کا کوڈ نام میجر ارسلان ہے مگر ان کا اصل نام عبد الرحمٰن ہے۔

اس نے تفتیش کے آغاز ہی میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، یاد رہے کہ چند ماہ پہلے وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر میں ہونے والی گفتگو کی آڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور وزیراعظم ہاؤس کا عملہ شامل تفتیش کیا گیا تھا۔ اعزاز سید نے بتایا کہ میجر ارسلان کے اقرار جرم کے بعد فیض حمید کے قریبی دو اور افسران کو بھی تفتیش کے لئے طلب کر لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک سعودی عرب میں تعینات ہیں جن کا نام رحمت اللہ ہے جبکہ ارسلان ستی نامی دوسرے آفیسر یو اے ای میں تعینات ہیں۔ سعودی عرب والے آفیسر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں مگر متحدہ عرب امارات والے آفیسر ابھی پاکستان نہیں پہنچے۔

ان دونوں صاحبان کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جنرل (ر) فیض حمید کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں اور بطور ڈی جی آئی ایس آئی ان کے تبادلے کے بعد بھی ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ اعزاز سید نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم آفس میں شہباز شریف کی حساس میٹنگز کی ریکارڈنگ کرنے اور پھر اسے لیک کرنے میں ملوث مرکزی ملزم کی شناخت وزیراعظم کے اپنے اے ڈی سی میجر عبدالرحمن عرف میجر ارسلان کے طور پر ہوئی جنہوں نے آگے کچھ مزید لوگوں کے بارے میں بھی انکشاف کیا جو بظاہر حکومت پاکستان کے لیے کام کرتے ہیں لیکن خفیہ اطلاعات جنرل فیض حمید کو پہنچا رہے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا یے کہ میجر ارسلان ماضی میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے اے ڈی سی رہے ہیں جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تعینات تھے۔

جب اکتوبر 2022 میں جنرل باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کی مرضی کے برخلاف فیض کا پشاور تبادلہ کر دیا تو انہوں نے میجر ارسلان کو عمران خان کا اے ڈی سی لگوا دیا۔ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کو وزارت عظمٰی سے ہٹائے جانے کے بعد میجر ارسلان وزیراعظم شہباز شریف کے اے ڈی سی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور فیض حمید کے لیے ان کی جاسوسی بھی کرتے رہے۔ فیض یہ انفارمیشن عمران خان کو مہیا کرتے تھے جو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ عمران اپنی کئی تقاریر میں یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اداروں میں ان کے لوگ اب بھی موجود ہیں جو انہیں اہم ترین معلومات فراہم کرتے رہتے۔ تاہم جب وزیراعظم ہائوس کی آڈیو لیکس کی تحقیقات شروع ہوئیں تو ڈی جی آئی ایس آئی ندیم احمد انجم کے حکم پر میجر ارسلان کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ اتنا بڑا بریک تھرو تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی برطانیہ سے واپسی پر ڈی جی آئی ایس آئی خود ان کا استقبال کرنے ائیرپورٹ پہنچے۔ اعزاز سید کے مطابق ڈی جی نے ذاتی طور پر وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ان کی آڈیو لیکس کا ملزم حراست میں لیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب تفتیش کے دوران اے ڈی سی ارسلان نے وزیراعظم کی جاسوسی کا جرم قبول کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے سابقہ باس فیض حمید کے حکم پر یہ کام کر رہے تھے اور اس کے عوض انہیں مالی فائدے ملتے تھے۔ میجر عبدالرحمن عرف میجر ارسلان کے پاس ایک خفیہ کمیونیکیشن ڈیوائس تھی جسے وہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی میٹنگز کی گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ جب اس ڈیوائس کا ڈیٹا چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ ایک دوسری ڈیوائس سے رابطہ میں تھی جس کی لوکیشن بہاولپور کی تھی جہاں فیض بطور کور کمانڈر تعینات رہے۔ ارسلان نے جرم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ڈیوائس آئی ایس آئی کے حوالے کر دی۔ موصوف کو یہ ڈیوائس بھی فیض حمید نے ہی مہیا کی تھی۔ اعزاز سید نے بتایا کہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید بطور کور کمانڈر وزیر اعظم شہباز شریف کی جاسوسی کروا رہے تھے تو ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مداخلت کی اور اس عمل کو روک دیا گیا۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022 کے آخر میں شہباز شریف، ان کے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ، مریم نواز اور دیگر سینئر وزراء کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو فائلیں پہلے ڈارک ویب پر اور پھر سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھیں۔ یہ بات چیت وزیراعظم ہاوس کی محفوظ حدود میں ہوئی تھی۔ وزیر اعظم ہاوس سے آڈیو لیک کے بعد حساس اداروں نے وزیر اعظم ہاوس اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ کا سائبر سکیورٹی سسٹم تبدیل۔کر دیا تھا۔ سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے وزیر اعظم ہاوس اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں رائج او ایس پیز بھی تبدیل کر دیے تھے۔

نئے ایس او۔پیز کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں اگر کسی سرکاری افسر کو بریفنگ کے لیے بلایا جائے گا تو وہ شریک ہونے سے پہلے بریفنگ کی تمام تفصیلات وزیر اعظم کے پرنسل سکریٹری کو بھیجے گا۔ اہلکار کے مطابق اگر وزیر اعظم کا پرنسپل سکریٹری سمجھے کہ جس وفاقی سکریٹری کو اجلاس میں بریفنگ کے لیے بلایا گیا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ لیپ ٹاپ اپنے ساتھ لے کر آئے تو اس سلسلے میں پرنسپل سکریٹری کو وزیر اعظم ہاؤس میں تعینات سکیورٹی انچارج کو اس بارے میں قبل از وقت آگاہ کرنا ہو گا۔ وفاقی سکریٹری لیول کے افسر کو بھی اپنا موبائل اور لیپ ٹاپ وزیر اعظم ہاؤس میں لے کر جانے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ اس سے پہلے گریڈ 22 کے افسران وزیر اعظم ہاوس میں اجلاس میں شرکت کے لیے جانے کے لیے لیپ ٹاپ اور سرکاری موبائل فون لے کر جانے پر کوئی ممانعت نہیں تھی۔

گریڈ 20 سے نیچے جتنے بھی سرکاری افسران وزیر اعظم ہاوس جاتے تھے ان کے زیر استعمال موبائل فون کو وزیر اعظم ہاوس کے مرکزی دروازے پر ہی رکھ لیا جاتا اور واپسی پر انھیں یہ موبائل واپس کر دیے جاتے تھے۔ اگر کوئی اجلاس وزیر اعظم کی سربراہی میں وزیر اعظم سکریٹریٹ میں ہونے جا رہا ہے تو وزیر اعظم سکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس کے دوران بھی یہی ایس او پیز اختیار کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس، وزیر اعظم سکریٹریٹ اور ایوان صدر میں جتنے میں قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں ان کی سکروٹنی کا عمل ہر تین ماہ کے بعد کیا جائے جبکہ اس سے پہلے سکرونٹی کا عمل سال میں ایک مرتبہ کیا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اور قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اپنا موبائل فون وزیراعظم ہاوس کے اندر لے کر جانے کی اجازت نہیں ہو گی اور وزیر اعظم ہاؤس کے اندر کسی بھی پولیس اہلکار سے رابطہ کرنے کا واحد ذریعہ وائرلیس سیٹ اور یا پھر انٹرکام ہوگا۔

Back to top button