سلمان تاثیر کے قتل کی وجہ ریاستی پالیسی کیوں قرار پائی؟

سیالکوٹ میں شدت پسندوں کے ایک ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے بہیمانہ قتل کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ہجوم نے کسی ملزم کو سزا دینے کا ریاستی اختیار کیسے چھین لیا ہے؟ بی بی سی نے ایک تفصیلی رپورٹ میں اس اہم ترین سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست نے ملک کو ایک سیکیورٹی سٹیٹ بنانے کی خاطر جو طویل مُدت پالیسیاں اختیار کیے رکھیں، یہ اُس کا نتیجہ ہے کہ اس کے اپنے بنائے ہوئے گروہ اور جتھے اب اس کے کنٹرول سے باہر ہو کر متوازی طاقت کا رُوپ دھار رہے ہیں اور سماجی اور سیاسی نظام پر قابض ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ رُکنے والا نہیں، کیونکہ اس کے لیے ریاست کو اپنی پالیسی کو یکسر تبدیل کرنا پڑے گا مگر ایسا کرنا طاقت ور طبقات کے مفاد میں نہیں۔
بی بی سی کے مطابق 21ویں صدی کا پاکستان مکمل طورپر فرد اور ہجوم کے فیصلوں اور اختیارات کے نرغے میں آگیا ہے۔ ریاست نے جن فیصلوں کا اختیار قیامِ پاکستان سے اکیسویں صدی تک اپنے پاس رکھا تھا، اُن میں سے کچھ بنیادی اختیار ہجوم نے چھین کر اپنے قبضہ میں کر لیے ہیں۔ نائین الیون کے بعد متعدد ایسے واقعات ہوئے جن میں ہجوم نے اپنی مرضی کے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے سامنے ریاست بے بس تماشائی بنی رہیں جس سے یہ عناصر اور مضبوط ہوگئے اور طاقت پکڑنے لگے۔
اس حوالے سے بی بی سی نے چند چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کیا ہے جو اکیسویں صدی کے پاکستان میں ہجوم کے فیصلوں اور اختیارات کے قبضہ کو واضح کرتے ہیں۔ ضلع شیخوپورہ میں جون 2009ء میں کھیت میں کام کے دوران دو مسلمان خواتین نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا جسکے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔ توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے تحت آسیہ پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف ’تین توہین آمیز‘ کلمات کہے تھے۔ اس مقدمے کے مدعی ننکانہ صاحب کی مسجد کے امام تھے۔ آسیہ بی بی کا موقف تھا کہ اس پر لگا الزام جھوٹ پر مبنی ہے اور اس نے ایسی کوئی بات کی ہی نہیں۔ تاہم یہ کیس چلتا رہا اور آسیہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کاٹتی رہی۔ اسی دوران اسے سزائے موت سنا دی گئی جسکے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہو گئی۔ اسی دوران تب کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے شیخوپورہ جیل میں جا کر آسیہ بی بی سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے انصاف کی یقین دہانی کروائی۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سلمان تاثیر کے اس عمل کے ردعمل میں انکے اپنے ہی ایک پولیس اہلکار ممتاز قادری نے چار جنوری 2011 کو انہیں اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ممتاز قادری کے نزدیک سلمان تاثیر نے گستاخی کی ،جس کی وجہ سے وہ اِن کو قتل کرنے پر مجبور ہوا۔ 29 فروری 2016 کو ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی۔ پھانسی کی خبر عام ہونے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج پھوٹ پڑا۔ ممتاز قادری کی نمازِ جنازہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ادا کی گئی جس میں اسلام آباد راولپنڈی سمیت ملک کے کئی شہروں سے لوگوں نے شمولیت کی تھی۔ جنازے میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ دوسری جانب یہ بھی یاد رہے کہ مولوی حضرات نے قادری کے ہاتھوں مرنے والے سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔
بعد ازاں حکومت پنجاب کے کی ایک سرکاری مسجد کے خطیب علامہ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کو غازی قرار دیتے ہوئے پنڈی میں اسکا مزار تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ تحریک لبیک کے قیام کی بنیاد بھی دراصل یہی واقعہ بنا۔ دوسری جانب 31 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالتﷺ کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ مسیح کو بری کردیا جس پر ملک گیر ہنگامے شروع ہو گے۔ اس واقعہ نے پاکستانی سماج میں ایک واضح تقسیم پیدا کردی اور ملک دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ گیا۔
تاہم ممتاز قادری کو پھانسی مسلم لیگ ن کے دورِ اقتدار میں دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نواز شریف تحریک لبیک کے نشانے پر آ گئے اور جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایک مذہبی تقریب کے دوران ان پر جوتا پھینک دیا گیا۔ بعدازاں پی ایم ایل این کو انتخابات 2018 میں مذہبی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ بعض رہنما اِن کو چھوڑ گئے اور احس اقبال سمیت بعض پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ یوں علامہ خادم حسین رضوی کی زیر قیادت بریلوی مکتبہ فکر نے ایک منظم تحریک کی صورت اختیار کر لی اور الیکشن 2018 سے قبل نواز لیگ کی حکومت کے خلاف دھرنے بھی دیے اور انتخابات سے چند ماہ قبل سیاسی پارٹی کے طورپر رجسٹرڈ ہوکر پی ایم ایل این کے ووٹ بینک کو شدید طورپر متاثر بھی کیا۔
یوں اہل سنت والجماعت کے دیوبندی دھڑے کے بعد اس کا بریلوی دھڑا بھی شدت پسند ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک لبیک ایک اسٹریٹ پاور بن کر ابھری اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اپریل 2019 میں پابندی لگنے کے چند ہی ماہ بعد حکومت وقت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ لیکن برا ظلم یہ ہوا کہ علامہ سعد رضوی کو رہا کرنے اور ان کی تنظیم پر عائد پابندی اٹھاتے وقت ریاست پاکستان نے ایک درجن سے زائد بے گناہ پولیس والوں کے خون کا بھی سودا کر دیا جس نے شدت پسندوں کے حوصلے اور بھی بلند کر دیے اور اسی کے نتیجے میں سیالکوٹ کا حالیہ واقعہ بھی رونما ہوا۔ تحریک لبیک سے منسلک شدت پسندوں کے ہاتھوں توہین مذہب کے الزام پر سری لنکن شہری کے قتل نے ہجوم کے فیصلوں اور انکے اختیارات پر قبضے کے تائثر پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اور اس صورتحال کی ذمہ داری صرف اور صرف ریاست پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ریاست اپنی پالیسیاں بدلنے کو تیار نہیں کیونکہ ایسا کرنا اس کے مفاد میں نہیں۔
