ایم کیو ایم کو اکٹھا کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدہ ہونے والے دھڑوں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں تو کی جا رہی ہیں لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں ان کوششوں کا فائدہ تب تک نہیں ہو گا جب تک ایم کیو ایم لندن اور الطاف حسین کو بھی اس اتحاد میں شامل نہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اگلے الیکشن میں بھی ایم کیو ایم کے لیے ویسے ہی نتائج آئیں گے جیسے کہ 2018 میں آئے تھے۔ گورنر سندھ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم کے دھڑوں کو دوبارہ سے ملانے کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ٹیسوری نے پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال، ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی، اور ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد گورنر سندھ نے دعویٰ کیا تھا کہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں شمولیت پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو ایک کرنے میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا اہم کردار ہے اور ایم کیو ایم دھڑوں کے اتحاد کا اعلان جلد ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تمام ایم کیو ایم دھڑوں کے درمیان اتحاد کے بعد سربراہی پر کوئی جھگڑا نہیں ہو گا۔
یاد رہے کہ وفاق اور سندھ کی سیاست میں کلیدی اہمیت رکھنے والی ماضی کی طاقتور سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اس وقت پانچ مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ان دھڑوں میں خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان، الطاف حسین کا ایم کیو ایم لندن کا دھڑا، مصطفیٰ کمال کی پاک سر زمین پارٹی، ڈاکٹر فاروق ستار کی ایم کیو ایم بحالی کمیٹی اور 1990 کی دہائی میں علیحدگی اختیار کر کے آفاق احمد کی سربراہی میں مہاجر قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم حقیقی شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر کامران ٹیسوری ایم کیو ایم لندن کو چھوڑ کر مہاجر سیاست کرنے والی دیگر جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سندھ کے شہری علاقوں کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص جیسے شہروں میں ایم کیو ایم کی نشستیں واپس لی جا سکیں۔ لیکن ایم کیو ایم کے تمام دھڑے یکجا ہو بھی جائیں تو مائنس ایم کیو ایم لندن اور الطاف حسین اگلے الیکشن میں بھی وہی رزلٹ آئے گا جو پچھلے انتخابات میں آیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ مائنس ایم کیو ایم لندن اور مائنس الطاف حسین وہ نتائج کبھی نہیں مل پائیں گے، جن کے حصول کے لیے سب کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ جب الطاف حسین نے پہلی مرتبہ الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو مہاجر ووٹر باہر نہیں نکلے۔ ایسا گذشتہ عام اتنخابات میں بھی نظر آیا۔ لہٰذا اگر ایم کیو ایم کو ماضی کی طرح طاقتور بنانا ہے تو ایم کیو ایم لندن اور الطاف حسین کو ساتھ ملانا ہوگا۔ ورنہ کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں ماضی قریب میں بھی کی گئیں مگر انکا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ الطاف حسین سے لاتعلقی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لیا مگر اس نے کراچی میں تحریک انصاف اور میرپور خاص اور سکھر میں پیپلز پارٹی کے ہاتھوں شکست کھائی۔ لہٰذا عام تاثر یہ ہے کہ کراچی سے الیکشن 2018 میں تحریک انصاف کی جانب سے بڑی تعداد میں جیتی گئی نشستوں کو واپس لینے کے لیے ایم کیو ایم کو اکٹھا کیا جا رہا ہے،
مہاجر سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریک انصاف سے مایوسی کے بعد اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ ایم کیو ایم کو دوبارہ سے اکٹھا کر کے مہاجر ووٹ بینک جوڑ دیا جائے اور یہ کوششیں اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ انکا کہنا یے کہ ماضی میں وہ تمام نشستیں جن کے لیے ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو یکجا کیا جا رہا ہے، یا تو ایم کیو ایم کے پاس تھیں، یا پھر جماعت اسلامی کے پاس تھیں جو 2018 میں پی ٹی آئی کے پاس چلی گئیں اور اب دوبارہ ایم کیو ایم کو اکٹھا کر کے واپس دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
