باجوہ نے عمران کو شہزاد اکبر کی کونسی گندی ویڈیو دکھائی؟

طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس عمران خان کے علاوہ انکے سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کی نازیبا ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں سے ایک جنرل قمر باجوہ نے خود سابق وزیراعظم کو اپنے موبائل پر دکھائی تھی۔ اس بات کا انکشاف سینئر صحافی جاوید چوہدری نے جنرل قمر باجوہ کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کے بعد اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے۔

سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مطابق شہزاد اکبر اخلاقی اور معاشی، دونوں لحاظ سے نہایت دو نمبر اور کرپٹ انسان تھا۔ اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم عمران خان کو بار بار شہزاد اکبر کے کارناموں کے بارے میں ثبوت دیتی رہی لیکن انکی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی‘ وہ ان ثبوتوں پر توجہ نہیں دینے کو تیار نہیں تھے۔ چنانچہ ایک روز جنرل قمر باجوہ نے اپنا موبائل کھول کر وزیراعظم عمران خان کو شہزاد اکبر کی ایک نازیبا وڈیو بھی دکھا دی۔ اس ویڈیو میں شہزاد اکبر اسلام آباد کی ایک سڑک پر گاڑی میں کسی خاتون کے ساتھ نازیبا حرکتیں کر رہا تھا۔ گاڑی سے کچھ دور ایک سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوا تھا۔

لہٰذا شہزاد اکبر کی تمام گندی حرکتیں اس کیمرے میں ریکارڈ ہو گئیں۔ لیکن افسوس کہ وزیراعظم نے اس ثبوت کو بھی اگنور کر دیا۔ لیکن جب بالآخر عمران خان کو شہزاد اکبر کی دو نمبریوں کا خود احساس ہوا تو تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ شہزاد اکبر کو 24 جنوری 2022 کو وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور وہ 17 اپریل کو نئی حکومت کے ایک اہم اتحادی کے ذریعے ملک سے باہر چلا گیا۔ تاہم انکا۔کہنا ہے کہ شہزاد اکبر کے کارناموں کی فصل پی ٹی آئی دس پندرہ سال تک کاٹتی رہے گی۔

یاد رہے کہ اپنی آڈیوز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ جنرل باجوہ نے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد اگست میں ہونے والی آخری ملاقات میں کہا کہا آپ تو پلے بوائے رہے ہیں، عمران نے جواب دیا کہ ہاں میں پلے بوائے رہا ہوں۔ اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ آپ کی آڈیوز اور ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ یہ گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل باجوہ تو چلے گئے لیکن ان کا سسٹم اب بھی موجود ہے اور اسی لئے ایسی واحیات آڈیوز اور ویڈیوز ریلیز کی جارہی ہیں جن سے نوجوانوں کا اخلاق خراب ہو سکتا ہے۔

سابق آرمی چیف سے متعلق عمران نے کہا کہ وہ کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے میرے ان سے تعلقات خراب ہوئے، انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا میں حسین  حقانی کو باجوہ نے میرے خلاف لابنگ کیلئے ہائر کیا، حسین حقانی میرے خلاف مہم چلاتے رہے اور جنرل باجوہ کے حق میں تشہیر کرتے رہے، لیکن عمران کا یہ دعویٰ اس لیے جھوٹا ہے کہ حقانی جس امریکی لابنگ فرم کے لیے کام کر رہے تھے اسے پی ٹی آئی کی اپنی حکومت نے باقاعدہ تحریری معاہدہ کرکے ہائر کیا تھا اور اس فرم کو ہر ماہ فیس کی ادائیگی بھی حکومت پاکستان کے خزانے سے ہوتی تھی۔

حال ہی میں سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کی زلفی بخاری کے ساتھ رومنٹک گفتگو پر مبنی ایک آڈیو بارے تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی خاتون خانہ ہیں، ہم ایسی آڈیوز لیک کر کے اپنی نوجوان نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ بشری بی بی گھر سے باہر صرف پاگل خانوں اور لنگر خانوں میں جاتی تھیں، بشریٰ بی بی کوئی مریم نواز تو نہیں جو بناؤ سنگھار کرے، مریم کی سرجری پر تو لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں دی کہ بشریٰ بی بی زلفی بخاری سے گفتگو کے دوران اتنی رومینٹک کیوں ہو گئی تھیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عمران خان کی اپنی دو آڈیوز بھی لیک ہوئی تھیں جن میں وہ دو مختلف خواتین کے ساتھ نہایت غلیظ جنسی گفتگو کرتے ہوئے سنائی دیے تھے۔

Back to top button