شہباز شریف کی گرفتاری پر فوج اور حکومت اختلافات کا شکار


میاں شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے معاملے پر حکومت اور طاقتورریاستی ادارہ فوج ایک صفحے پر نہیں ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حکمران شہباز کو گرفتار کرنے کے در پے ہوں اور آرمی چیف ان کو فون کر کے مزاج پرسی کر رہا ہو۔ گویا دونوں اداروں یعنی حکومت اور فوج کے مابین دوریاں پیدا ہو چکی ہیں اور انکی سٹریٹجی میں فرق آ چکا ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق نیب کی جانب سے شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی حتی الامکان کوشش کے باوجود ان کا ناکام ہونا ثابت کرتا یے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور ان کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی کھڑا ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایک طرف نیب شہباز شریف کے گھر پر چھاپے مار رہا تھا اور ہائیکورٹ کے دروازوں پر انکی گرفتاری کے لیے پولیس چوکیاں بنی ہوئی تھیں تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور خان اور چینی سفیر شہباز شریف کی طبیعت پوچھنے کے لیے انہیں فون کر رہے تھے۔ لہذا صاف نظر آتا ہے کہ شہباز شریف اکیلے نہیں ہیں اور پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں ان کو بھی پزیرائی حاصل ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق شہباز شریف عملیت پسند سیاستدان ہیں اور انھیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ ان کی جماعت اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے۔ بزنس مڈل کلاس پر مشتمل یہ جماعت 1977 سے لے کر 2020 تک 43 سالہ سیاست میں اینٹی بھٹو اور پرو اسٹیبلشمنٹ پارٹی کے طور پر پھلی اور پھولی۔ بازاروں میں موجود تاجر تنظیموں سے لے کر چیمبر آف کامرس میں بیٹھے سیٹھوں اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے طاقت پکڑنے والے ن لیگی سیاستدانوں نے اپنی ساری زندگی انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت اور اپنے کاروبار زندگی کو چلایا ہے مگر ن لیگ کا تضاد اور المیہ یہ ہے کہ انکے محبوب لیڈر نواز شریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں نہیں بن سکی۔
شہباز کے خیال میں نون لیگی ورکرز کی اکثریت چاہتی ہے کہ لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی آپس میں بنی رہے اور یوں وہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہمیشہ کی طرح حکومت کرتے رہیں۔ دوسری طرف نواز شریف چاہتے ہوں گے کہ 40 سال سے تربیت پانے والے نون لیگی بازاروں اور گلیوں میں نکل کر اپنی پارٹی اور لیڈر کے حق میں احتجاج کریں لیکن یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ ن لیگیوں کی نواز شریف سے محبت بس اس حد تک ہے کہ وہ ووٹ ان کے نام پر دیتے ہیں مگر وہ اس نام پر اپنے کاروبار اور زندگی کا رسک لینے کو تیار نہیں۔ ن لیگ کو سب سے زیادہ ووٹ اس وقت ملا ہے جب اس کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہت اچھے ہوں ۔ 1990، 1997 اور 2013 کے الیکشنز میں نون لیگ نے ریکارڈ ووٹ لیے جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے فوج سے بہت اچھے تعلقات تھے اور الیکشن انجینئرنگ بھی انہی کے حق میں ہو رہی تھی۔
ن لیگ کی سیاست کو سمجھنے والوں کا کہنا ہے کہ اسنے ابتدائی جھٹکوں کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاست کو پرانی ڈگر پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی ترک کر کے اعتماد سازی کے اقدامات یعنی سی بی ایم پر کام شروع ہے۔
ریاست کی طرف سے انسانی ہمدردی کے تحت نواز شریف کو جیل سے نکال کر بیرون ملک بھیجنا بہت بڑا ’کانفیڈنس بلڈنگ میژر‘ تھا اور ن لیگی حلقوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے قانون کی غیر مشروط حمایت کر کے جوابی سی بی ایم کیا۔ ن لیگی حلقوں کا خیال ہے کہ خیر سگالی کے اس پیغام کا بہت مثبت اثر ہوا۔ یہ لیگی حلقے آپس میں یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ تحریک انصاف کی طرف سے توسیع کے معاملے پر مِس ہینڈلنگ میں کپتان کی بدنیتی شامل تھی اس لیے ریاستی ادروں میں اسکا اچھا تاثر نہیں لیا گیا اور اسی وجہ سے اب انکے آپدی معاملات میں سرد مہری ہو چکی ہے۔
اگر سی بی ایمز کے مفروضے کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر شہباز شریف کو مشکل وقت فون کر کے آرمی چیف کی جانب سے تسلی دینے کا پیغام بھی اسی تسلسل کی کڑی لگتی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کو یہ یقین ہے کہ سی بی ایمز کے باوجود ریاست اور ن لیگ کے درمیان تضادات اور اختلافات اس قدر زیادہ ہیں کہ اس بات کو کائی امکان نہیں کہ زمام اقتدار دوبارہ ن لیگ کی شریف قیادت کو دے دی جائے۔ تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ اس کے اقتدارکی سب سے بڑی ضمانت یہی ہے کہ فی الحال دور دور تک ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اپوزیشن سے اتنا خطرہ نہیں جتنا بری معیشت، کورونا کی وبا کی مس ہینڈلنگ اور برے طرز حکمرانی سے ہے۔ اگر تحریک انصاف نے ان اہم ترین معاملات کو نہ سنوارا تو پھر متبادل کی تلاش کی کوشش تیز ہو جائے گی۔ اگر نواز شریف کا متبادل بنا لیا گیا تھا تو عمران کا بھی کوئی متبادل بنا ہی لیا جائے گا۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ متبادل نہ نون لیگ سے ہو اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے بلکہ تحریک انصاف سے ہی کوئی ایسا چہرہ سامنے لایا جائے جس پر اپوزیشن کو بھی اعتماد ہو اور یوں اگلے انتخابات تک گاڑی چلانے کا عارضی انتظام ہو جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کے اقتدار کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے خصوصا جب انکے حکومتی اتحادیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ نا شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button