شہباز گل کو امریکہ میں بدزبانی بھگتنا پڑ گئی

امریکہ میں پاکستانی صحافیوں کی تنظیموں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ صحافیوں کے بارے میں بدزبانی کرنے پر وزیراعظم کے زبان دراز مشیر شہباز گل کی تمام تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ نیویارک میں ایک تقریب کے دوران سینئر صحافی عظیم ایم میاں کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں شہباز گل نے ان پر ذاتی حملے شروع کر دیے اور ان کو پٹواری قرار دے دیا جس کے بعد تقریب میں موجود صحافیوں نے تقریب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں پاکستانی صحافیوں کی تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جتنا عرصہ شہباز گل امریکہ میں موجود ہیں ان کے اعزاز میں منعقدہ کسی بھی تقریب کی میڈیا کوریج نہیں کی جائے گی اور بائیکاٹ کیا جائے گا۔
نیویارک میں منعقدہ ایک تقریب میں وزیراعظم کے مشیر خصوصی شہباز گل نے مہمان خصوصی کے حیثیت سے خطاب کے دوران بُار بار استہزائیہ لہجے میں پاکستانی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے متعصب اور حکومت مخالف قرار دے دیا۔ شہباز نے انتہائی بازاری انداز میں صحافیوں کو جگت لگاتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کے مثبت کاموں کو اجاگر کرنے کی بجائے ایک طرف پاکستانی میڈیا ان پر پردہ ڈالتا ہے اور دوسری طرف ناجائز اور غیر ضروری تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ شہباز نے کہا کہ میڈیا عوام میں تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ اس موقع پر جنگ اور جیو کے نیویارک میں مقیم نمائندے عظیم ایم میاں نے ان سے کہا کہ آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب آپ شکاگو میں مقیم تھے تو آپ ایک اعلی تعلیم یافتہ مہذب شخص تصور کئیے جاتے تھے لیکن پاکستان جاکر آپ نے بھی فردوس عاشق اعوان کا انداز گفتگو اور رویہ اپنا لیا، انہون نے سوال کیا کہ اسکی کیا وجہ ہے۔ جوابا شہباز گل بھڑک اٹھے اور کہا کہ آپ ایک پٹواری کے انداز میں بات کررہے ہیں، اور پٹواری سے ایسے ہی سوال کی توقع کی جا سکتی ہے۔ شہباز نے کہا کہ مولا علی کا قول ہے جو جیسی بات کرے اس کو اسی زبان میں جواب دو۔ اس کے بعد شہباز گل نے پاکستانی صحافیوں کو لفافہ لینے والے قرار دے کر کر اور بھی بد زبانی کی اور عظیم ایم میاں کے سوال کو گھٹیا قرار دے دیا۔
چنانچہ شہباز گل کے اس رویے کے خلاف تقریب میں موجود تمام صحافیوں نے احتجاج شروع کر دیا اور بائیکاٹ کر کے چلے گئے، بعد ازاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ جتنا امریکہ میں موجود ہیں ان کی کسی بھی تقریب کی میڈیا کوریج نہیں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ شہباز گل عید سے ایک روز قبل اسلام آباد سے واشنگٹن پہنچے تھے۔ شہباز گل شکاگو سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور شیمپئین کاونٹی ایلے نائے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ عمران خان کے مشیر خاص بننے سے پہلے شکاگو کی ایک یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ تاہم امریکہ میں موجود پاکستانی صحافی ان کے اس دعوے کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہباز گل نے عمران خان کی نوکری کرنے سے پہلے اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی میں مختصر عرصے کے لیے بطور لیکچرار نوکری کی تھی لیکن انہیں دونوں جامعات سے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں برطرف کردیا گیا تھا۔
