شیخ چلی کا دور ریلوے کےلیے بدترین دور کیوں ثابت ہورہا ہے؟

منہ پھٹ وزیر ریلوے شیخ رشید کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے 2019 پاکستان ریلویز اور اس کے مسافروں کےلیے بدترین اور ہولناک ترین سال ثابت ہوا جس کے دوران 100 سے زائد حادثات ہوئے اور 100 سے زائد مسافر مارے گے۔ 2019 کے ہولناک حادثات میں تیز گام آتشزدگی سانحے میں 73 مسافر جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، اسی طرح اکبر ایکسپریس واقعے میں 21 افرادجاں بحق ہوئے۔
سرکاری ذرائع نے ریلوے کے آپریشنل امور کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2019 میں ہونے والے بڑے واقعات کو سامنے رکھا جائے تو ریلوے کے بدترین نظام کا اندازہ ہوجائے گا جس میں کئی مسافر بشمول ریلوے ملازمین جاں بحق، زخمی یا معذور ہوئے، جہاں مہلک یا غیر مہلک حادثات اور آپریشنل امور کے معاملے میں یہ سال افسوس ناک رہا وہیں پاکستان ریلویز کی اعلیٰ انتظامیہ محکمے کی کارکردگی بہتر ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتی رہی۔
تاہم پاکستان ریلویز نے اب تک مہلک و غیر مہلک حادثات اور ٹرین کے پٹریوں سے اترنے وغیرہ کے واقعات کی کُل تعداد کے حوالے سے سرکاری ڈیٹا جاری نہیں کیا تاہم ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ تعداد 100 سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ سال کے پہلے 5 ماہ میں ہی راستے میں انجن ناکارہ ہونے کے 111 واقعات پیش آئے’۔ حیدر آباد میں جناح ایکسپریس کو آنے والے واقعے میں 3 ڈرائیورز جاں بحق ہوئے ، سرگودھا ایکسپریس کا ڈرائیور ٹرین کی ڈمپر ٹرک سے ٹکر کے بعد جاں بحق ہوا۔ بڑھتے ہوئے حادثات کی وجہ سے پاکستان ریلوے کے آپریشنز بری طرح متاثر ہی نہیں ہوئی ہیں بلکہ مسافروں کی بڑی تعداد نے بھی اس کے استعمال کو ترک کردیا ہے۔
حکام نے اصل مسائل کو حل کرنے میں عدم دلچسپی کی نشاندہی کی اور کہا کہ سیاسی مفادات اور دکھاوے کی پالیسیوں کی وجہ سے ٹرین کا پٹریوں سے اترنا اور دیگر حادثات کی وجہ بنا جبکہ ٹرانسپورٹیشن کے اس سستے ذریعے کو استعمال کرنے والے اس کی وجہ سے پریشانیاں اٹھا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے کے معاملات پر توجہ دینے کی بجائے پریس کانفرنسز کے ذریعے بونگیاں مارنے کے شوقین شیخ رشید احمد نے ٹرینوں کے آپریشنز کو گلے سڑے، پرانے برانچ لائنز پر چلانے کی مخالفت کرنے والے افسران کی نہیں سنی جب کہ نئی کوچز اور ویگنز کی خریداری میں تاخیر اور خراب سگنلز/انٹر لاکنگ نظام کو ٹھیک بھی نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘شیخ رشید زیادہ تر زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اپنی نیوز کانفرنسز میں نئی ٹرینیں چلانے اور ریونیو بڑھانے کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
پاکستان ریلویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اعجاز بریرو کے مطابق پرانے ریلوے ٹریک حادثات اور ٹرین کے پٹریوں سے اترنے کی بڑی وجہ ہیں لیکن ان کو بار بار مطالبے کے باوجود بدلنے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب انکوائریوں کے خوف سے افسران کام نہیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے نئی کوچز اور ویگنز کی حاصل کرنے میں تاخیر ہوئی اور یہ معاملہ اب بھی تاخیر کا شکار ہے۔
