عدلیہ اور مسلح افواج کو بھی شفاف احتساب میں شامل کیا جائے

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے نیب آرڈیننس پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت بامعنی احتساب چاہتی ہے تو سب کا ایک جگہ احتساب کیا جائے ورنہ دیگر اداروں کی طرح اراکین پارلیمنٹ کے احتساب کا حق بھی پارلیمنٹ کو دیا جائے۔۔شفاف احتساب میں کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہیے اور اس کا اطلاق بیورو کریسی کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور مسلح افواج پر بھی ہونا چاہیے۔
حکومت کی جانب سے 24گھنٹے کے نوٹس پر طلب کئے گئے رواں سال کے پہلے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے
سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے نیب آرڈیننس میں حکومت کی جانب سے مجوزہ ترمیم پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس قانون کے تحت کاروباری شخصیات، بیورو کریٹس، ججوں اور فوجیوں کو کارروائی سے استثنا دے دیا ہے، تو پھر باقی رہ کون جائے گا، صرف میں اور آپ باقی رہ جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا نیب کا قانون صرف سیاستدانوں کے لیے ہے؟ اور تجویز پیش کی کہ اگر سب کے لیے احتساب کا عمل اپنا اپنا اور ہر ادارے کا اپنا احتساب کا نظام ہے تو اراکین پارلیمنٹ کے احتساب کا حق بھی پارلیمنٹ کو دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی احتساب چاہتی ہے تو بامعنی احتساب کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ایک قانون، ایک بیورو اور بلاتفریق احتساب کے تحت سب کا ایک جگہ احتساب کیا جائے لیکن آپ وہ کرنا نہیں چاہتے۔ رضا ربانی نے کہا کہ شفاف احتساب میں کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہیے اور اس کا اطلاق بیورو کریسی کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور مسلح افواج پر بھی ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئین پر عملدرآمد نہیں کر رہی اور اس کے اقدامات پارلیمنٹ غیرموثر ہو رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ کی توسیع کے معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے اپنی نااہلی کے سبب ایک قومی ادارے کو شرمندگی کی حالت میں لا کر کھڑا کردیا۔’یہ کیسی حکومت ہے جو تین یا چار درست نوٹیفکیشنز بھی نہیں نکال سکتی؟’۔
انہوں نے ملائیشیا اور ترکی حکومتوں کے ساتھ وعدے کے باوجود سعودی عرب کے دباؤ کے سبب کوالالمپور اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر وزیر اعظم عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ رضا ربانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر تین ممالک ایران، ترکی اور ملائیشیا نے ہمارے موقف کی حمایت کی اور ہم وزیر اعظم کے اس اقدام کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے کوالالمپور جانے کا اعلان کیا لیکن پھر آپ نے اپنی سیاسی خود مختاری کو سعودی عرب کے سامنے گروی رکھ دیا اور کہا کہ ہم نہیں جائیں گے کیونکہ سعودی عرب نے ہمیں منع کیا ہے۔
اس سے قبل اپوزیشن نے سینیٹ کا اجلاس تاخیر سے بلانے اور آرڈیننس کے اجراء پر تحفظات کا اظہار کیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ جو بات کر رہا ہوں وہ اس ایوان کا استحقاق مجروح ہونے سے متعلق بھی ہے، ارکان کو جان بوجھ کر اپنا کام کرنے سے روکا گیا، محسوس ہوتا ہے کہ آئین موجود بھی ہے اور معطل بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کا اجلاس نہ بلانا اس ایوان کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے اور اجلاس نہ بلائے جانے کے دوران 16 آرڈیننس جاری کئے گئے۔ صدر مملکت اس ایوان کا حصہ ہیں لیکن کیا صدر مملکت صرف آرڈیننس کے اوپر دستخط کرنے کے لئے بیٹھے ہیں؟
اس سے قبل حکومت کی جانب سے انتہائی جلد بازی میں سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے پر اپوزیشن نے تحفظات کا اظہار کیا جس پر حکومت کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ اہم پیشرفت پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔ جب اس سلسلے میں منگل کو رضا ربانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ 24گھنٹے کے اندر اجلاس طلب کیے جانے کی وجہ سمجھنے سے قاصر ہیں اور شہر میں شدید دھند کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دیگر شہروں میں رہنے والے اکثر اراکین کو بروقت اسلام آباد پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے اجلاس طلب کرنے کی درخواست جمع کرانے کے اگلے ہی دن سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت مستقل پارلیمنٹ کو نظرانداز کر رہی ہے اور سینیٹ کا اجلاس 124دن کے طویل وقفے کے بعد ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button