صارفین کی پرائیویسی خطرے میں: واٹس اپ چھوڑنے لگے


دنیا کی مقبول ترین سوشل اینڈ میسجنگ موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے بعد دنیا بھر کے صارفین اپنی پرائیویسی خطرے میں پڑتے دیکھ کر پریشان ہیں اور واٹس ایپ کو چھوڑ کر متبادل پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں۔
صارفین کی جانب سے واٹس ایپ سے بدظن ہونے کا نتیجہ یہ ہے گزشتہ ایک ہفتے میں ’ٹیلی گرام‘ اور ’سگنل‘ سمیت دیگر مسیجنگ اپیلی کیشنز کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ايپس کا ڈيٹا اکھٹا کرنے والی ويب سائٹ سينسر ٹاور کے مطابق لاکھوں لوگوں نے واٹس اپ پلیٹ فارم چھوڑ کر ٹيلی گرام انسٹال اور سگنل کا رخ کر لیا ہے اور ایک ہفتے سے روزانہ تقریباً پانچ لاکھ لوگ ان ایپلی کیشنز کو جوائن کر رہے ہیں۔ گوگل پلے اسٹور اور ایپل کے ایپ اسٹور سے نان پرافٹ مسیجنگ ایپ ’سگنل‘ کی ڈاون لوڈنگ میں تیزی آنے سے سگنل پر اکاؤنٹس کی گنجائش ختم ہو رہی ہے جس سے نئے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سگنل نے ابھی تک واٹس ایپ کی نئی پالیسی پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا مگر ٹیلی گرام نے واٹس ایپ کے ممکنہ زوال پر اسے ٹرول کرنے کیلئے دنیا بھر میں معروف ’میم‘ شیئر کی ہے۔
خیال رہے کہ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کے مطابق جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پروڈکٹس پر انحصار کرتے ہیں، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے، جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق موبائل کی معلومات بھی حاصل کر رہا ہے جن میں بیٹری لیول، ایپ ورژن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس سمیت دوسری معلومات شامل ہیں۔
دوسری طرف واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی قبول کرنے یا اکاؤنٹ رکھنے یا نہ رکھنے سے متعلق آپشنز ملے ہوئے کئی روز گزر چکے لیکن ابھی تک ذیادہ تر صارفین کی مکمل تسلی نہیں ہوئی ہے۔ واٹس ایپ کی تازہ وضاحت سے قبل فیس بک ٹیم میں واٹس ایپ کی سربراہی کرنے والے ول کیتھکارٹ بھی یہ بتا چکے ہیں کہ نئی پرائیویسی اپ ڈیٹ کرنے سے صارف کے لیے نئی چیز یا چیزیں کیا ہوں گی۔
واٹس ایپ کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں کہا گیا کہ صارفین کے پیغامات اب بھی انکرپٹڈ ہی رہیں گے۔ اس سے قبل میسیجنگ ایپ یہ کہہ چکی ہے کہ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کی موجودگی کی صورت میں صارف کی گفتگو کو پہلے کی طرح واٹس ایپ خود بھی اور کمپنی فیس بک بھی نہیں دیکھ سکے گی۔
صارفین کی تسلی کے لیے واٹس ایپ کی جاری کردہ وضاحت میں کہا گیا یے کہ واٹس ایپ صارف کے پرائیویٹ میسیجز یا کالز نہیں سن سکے گا نہ فیس بک ایسا کر سکے گا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ یہ لاگ نہیں رکھے گا کہ کون کسے میسیج یا کال کر رہا ہے۔ یہ بھی یقین دلایا گیا ہے کہ واٹس ایپ خود بھی اور فیس بک بھی شیئرڈ لوکیشن نہیں دیکھ سکے گا۔ اگر صارف واٹس ایپ پر کسی کانٹیکٹ کے ساتھ اپنی لوکیشن شیئر کرتا ہے تو واٹس ایپ اسے ٹریک نہیں کرے گا اور نہ ہی فیس بک کو ایسا کرنے دیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا یے کہ واٹس ایپ صارف کے کانٹیکٹس کی تفصیلات فیس بک سے شیئر نہیں کرے گا۔ صارفین کو یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے کہ واٹس ایپ گروپس بھی پرائیویٹ رہیں گے۔ اسکے علاوہ صارف اپنا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر سکے گا اور اس کے لیے یہ دیکھنا بھی ممکن ہو گا کہ واٹس ایپ کے پاس اس کی کون کون سی ذاتی معلومات موجود ہیں۔
میسیجنگ ایپ کی جانب سے ایک طویل پوسٹ میں ان نکات کی وضاحت تو کی گئی تاہم سوشل میڈیا پر جاری بحث سے واضح ہے کہ صارفین کی خاصی تعداد اب بھی مطمئن نہیں ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق ادارے ’بولو بھی‘ کے ڈائریکٹر عثمان خلجی نے بتایا کہ ’دنیا بھر میں کمپنیاں پرائیویسی بہتر کرنے کی جانب جا رہی ہے۔ حکومتیں بھی ایسا چاہتی ہیں۔ اس صورت حال میں واٹس ایپ کا حالیہ فیصلہ پرائیویسی میں کمی کی جانب بڑھا ہے۔ ایسے میں صارف کی واٹس ایپ سرگرمیوں سے متعلق میٹا ڈیٹا تھرڈ پارٹی کو دستیاب رہا کرے گا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’حالیہ اپ ڈیٹس میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے واٹس ایپ نے جو چیزیں ظاہر کیں وہ عمومی رجحان سے ہٹ کر ہیں۔ اس سے جو راہ متعین ہو رہی ہے اس پر ایک امکان یہ بھی ہے کہ مستقبل میں واٹس ایپ پر اشتہار نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔‘
دریں اثنا واٹس ایپ کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ پرائیویسی اپ ڈیٹ سے ذاتی رابطے متاثر نہیں ہوں گے، البتہ واٹس ایپ کے بزنس اکاؤنٹس سے رابطے کے دوران کی گئی سرگرمی، فیس بک سے شیئر کی جائے گی۔ میسیجنگ ایپلیکیشن کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹ کی ڈیٹا شیئرنگ کا مقصد بزنسز کو نئے ٹولز کی فراہمی ہے تاکہ صارفین زیادہ بہتر انداز میں یہ سہولت استعمال کر سکیں۔ میسیجنگ ایپلیکیشن کے مطابق بڑے پیمانے پر کام کرنے والے بزنس اپنے ابلاغ کو بہتر رکھنے کے لیے ہوسٹنگ سروسز حاصل کرتے ہیں جو فیس بک کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔ اس لیے اگر کوئی صارف کسی بزنس اکاؤنٹ سے میسیج، کال، ای میل پر بات کرے تو فیس بک اسے دیکھ سکے گا اور اسے مارکیٹنگ مقاصد کے لیے استعمال کر سکے گا۔ واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ہوسٹنگ سروسز استعمال کرنے والے بزنس اکاؤنٹس سے کی جانے والی گفتگو کے متعلق صارف کو نشاندہی بھی کی جائے گی۔ فیس بک کے آن لائن خریداری کے فیچر ’شاپ‘ کو استعمال کرنے والے اگر کچھ خریدنے کے لیے واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں تو ان کی سرگرمی فیس بک دیکھ سکے گا اور اسے اپنے اشتہارات وغیرہ کے لیے استعمال کرے گا۔
یہ فیچرز لازمی نہیں بلکہ آپشنل ہیں، جب صارف انہیں استعمال کرے گا تو واٹس ایپ کی جانب سے اسے بتایا جائے گا کہ فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کیسے ہو گی۔ اسی طرح فیس بک پر خریداری کے لیے دستیاب کسی چیز کو خریدتے وقت صارف اگر واٹس ایپ بٹن کے ذریعے میسیجنگ ایپ پر جاتا ہے تو یہ سرگرمی بھی سوشل نیٹ ورک کی جانب سے ٹریک کی جا سکے گی۔ سوال یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں آیا کچھ کر رہی ہے یا سوئی پڑی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button