صحافتی اداروں کو45دن میں اشتہارات کی ادائیگیاں کرنےکی ہدایت

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی فوری ادائیگی یقینی بنانے کے لیے وزارت اطلاعات کو 45 دن میں میڈیا کو اشتہارات کی ادائیگیاں کرنے کی ہدایت کردی۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹرفیصل جاوید کی زیرصدارت ہوا۔ اس موقع پرپاکستان براڈ کاسٹرزایسوسی ایشن (پی بی اے) نے جنگ گروپ اورڈان گروپ کے اشتہارات کی بندش کا معاملہ اٹھایا تو چیئرمین نے اشتہارات کی بحالی کے لیے کوشش کرنےکا وعدہ کیا۔ انہوں نے وزارت اطلاعات کونشریاتی اداروں کے لیے نئی اشتہاری مہم جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔
صدر پی بی اے شکیل مسعود نے کہا کہ حکومت میڈیا کے بقایاجات ادا کرے تو ورکرز کو فوری تنخواہ دینے کو تیار ہیں۔ پی بی اے کے عہدیدار میر ابراہیم رحمان نے کہا کہ حکومت پر میڈیا کے 6 ارب روپے واجب الادا ہیں، اِس میں حکومتِ سندھ پر واجب الادا پیسے شامل نہیں، حکومت ٹکڑوں میں نہیں، یکمشت ادائیگی کرے تاکہ تنخواہوں کا بیک لاگ کلیئر کیا جاسکے۔
پاکستان براڈ کاسٹرزایسوسی ایشن نے حکومت اور میڈیا گروپس کے مشترکہ اکاؤنٹ کی تجویز بھی دی، جس میں حکومتی اشتہارات کی مد میں ادائیگی ہو، اوراسی سے ورکرز کو تنخواہ دی جاسکے۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے مہتاب عباسی نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کو تیارہیں، پر میڈیا مالکان کو بھی جینے کا حق دیا جائے۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن ( پی آراے) کے نمائندہ بہزاد سلیمی نے اشتہارات کی ادائیگیوں کو ملازمین کی تنخواہوںٕ سے مشروط کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ( پی ایف یوجے) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ (آر آئی یو جے) کےجنرل سیکرٹری آصف بھٹی نے کہا کہ آزادی اظہار پر غیر اعلانیہ پابندی لگی ہوئی ہے۔
اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹرپرویز رشید کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی سلب کرنے کے لیے اداروں کو معاشی طور پر دبایا جارہا ہے۔ اجلاس میں سینیٹررخسانہ زبیری، سینیٹر ساجد حسین طوری، سینیٹر پرویزرشید اورسینیٹرروبینہ خالد نے بھی شرکت کی۔ ان کے علاوہ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات، پی آئی او، وزارت خزانہ ،ایس ای سی پی اور ای اوبی آئی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button