صحافیوں پر حملے ایجنسی دفتر کے سامنے احتجاج کی دھمکی

شہر اقتدار اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ رکھنے والے صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے دھمکی دی ہے کہ اگر میڈیا کی آواز دبانے کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ملک بھر کے صحافی اکٹھے ہو کر اسلام آباد میں اس ادارے کے دفتر کے باہر احتجاج کریں گے جو ان حملوں میں ملوث ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے اسلام آبادمیں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے جب سچ لکھنے اور بولنے والے صحافیوں کو خطرات کا سامنا ہوتا تھا تو وہ شہر اقتدار اسلام آباد میں پناہ لیتے تھے مگر اب ایسے صحافیوں کو راستوں میں نہیں بلکہ گھروں کے اندر جاکر دن دیہاڑے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آور مزید نڈر اور بے باک ہوگئے ہیں۔ لیکن ناصر زیدی سمجھتے ہیں کہ اس بار خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی اور نہ صرف جمعے کو ملک گیر احتجاج ہوگا بلکہ اگر اُن کو لگا کہ صحافیوں پر حملے کریں گے نہیں تو پھر ان میں ملوث اہم ادارے کی بلڈنگ کے سامنے احتجاج کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
یاد رہے کہ ملک میں صحافیوں اور میڈیا پر نظر رکھنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک نے گزشتہ مہینے پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ماضی میں بلوچستان اور قبائلی علاقے اور افغانستان بارڈر سے متصل علاقے صحافیوں کے لئے محفوظ تصور نہیں کئے جاتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہےاور اب وفاقی دارلحکومت اسلام آباد صحافیوں کے لئے سب سے زیادہ خطرناک شہر بنتا جارہا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک برس میں صحافیوں کے خلاف کل 148 واقعات ہوئے جن میں 51 واقعات یعنی 34 فیصد اسلام آباد میں ہوئے جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ اسلام آباد اب صحافیوں کے لئے محفوظ شہر نہیں ۔ خیال رہے کہ ماضی میں ایک بین الاقوامی ادارے سے وابستہ صحافی اور مصنف سلیم شہزاد کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا اور بعد میں اُن کی لاش منڈی بہاؤالدین کی ایک نہر سے ملی۔ بعد ازاں تحقیقات سے پتہ چلا کہ سلیم شہزاد کو گاڑی سمیت اغوا کے بعد ایک ایجنسی کے دفتر لے جایا گیا جہاں تشدد سے ان کی موت واقع ہوگئی، چنانچہ انکو گاڑی سمیت ایک بڑے ٹرالر میں ڈال کر اسلام آباد سے منڈی بہاولدین لے جایا گیا اور نہر میں پھینک دیا گیا۔ اس قتل کا الزام تب کے ایجنسی سربراہ پر لگایا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے کوئی کارروائی نہ ہو سکی اور سلیم شہزاد کے قاتل صاف بچ نکلے۔
گزشتہ سال جولائی میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے محفوظ ترین سیکٹر جی سیکس سے اغوا کیا گیا اور یہ پوری کاروائی ایک سی سی ٹی وی کیمرہ نے بھی ریکارڈ کی۔ مگر انکے اغوا کاروں کا سب کو علم ہونے کے باوجود تاحال نہیں بتایا گیا کہ اُن کے اغواکار کون تھے؟ اس کے بعد پچھلے ماہ سینئر صحافی ابصار عالم پر اسلام آباد کے ایف الیون مرکز کے ایک پارک میں قاتلانہ حملہ کیا گیا اور اُن پر پستول سے فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ فائرنگ کی یہ ساری کاروائی بھی سی سی ٹی وی کیمرہ میں ریکارڈ ہوئی اور حملہ آوروں کو بھی دیکھا گیا۔ لیکن مطیع اللہ جان کے اغوا کی طرح اس کیس میں بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور اسلام آباد پولیس نے حسب معمول دعویٰ کیا کہ مجرمان کو جلد پکڑ کر قانون کے کٹھرےمیں لایا جائے گا مگر پانچ ہفتے گزرنے کے باؤجود بھی اسلام آباد پولیس کی جانب سے کوئی کامیابی کی خبر سامنے نہیں آئی کہ ابصار عالم پر حملہ کرنے والے کون تھے۔ یاد رہے کہ ابصار عالم پر حملے سے چند روز پہلے انہوں نے ایک طاقتور ایجنسی کے سربراہ کے حوالے سے ٹویٹ کی تھی۔
تاہم اسلام آباد میں صحافیوں پر حملوں کے سلسلہ رکا نہیں۔ اب ایک تازہ ترین واقعے میں سینئر صحافی اسد علی طور پر ایف الیون میں ایک خفیہ ایجنسی کے تین اہلکاروں نے انکے اپارٹمنٹ میں گھس کر تشدد کیا اور اُن کو زدکوب کیا ۔ حملہ کرنے والے تینوں ملزمان کی شکلیں سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھی جا سکتی ہیں مگر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکن سمیت دیگر ادارے اس بار بھی مایوس دکھائی دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صحافیوں پر حملے کرنے والے عناصر کو پکڑنا پولیس کی بس کی بات نہیں۔ ظاہر ہے کہ پولیس ریاست پاکستان سے زیادہ تگڑی تو نہیں جو ان تمام واقعات کے پیچھے ہے۔
اسد علی طور پر حملے کے بعد صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور جمعے کو پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ اسد علی طور پر حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب گزشتہ ہفتے انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے قومی اسمبلی میں صحافیوں کے تحفظ کا بل پیش کیا مگر ملک کے سینئیر صحافی اس قانون کو بھی کارآمد نہیں سمجھتے۔ صحافی مظہر عباس نے نیا دور میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر تو یہ ایک جامع قانون ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بل کوقانون سازی کی شکل دینے کے بعد صحافیوں کے خلاف جرائم میں کمی آئے گی یا نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بل میں صحافیوں کمیشن کو سوموٹو لینے کا اختیار دیا گیا لیکن حقیقت وہی ہے کہ اگر اس قانون پر عملدآرمد نہ کیا گیا اور زمہ داروں کو سزائیں نہیں دی جاتی تو پھر اسلام آباد ہو یا بلوچستان یا ملک کا کوئی اور علاقہ، سب ہی صحافیوں کے لئے غیر محفوظ ہیں۔
انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری سے اسد طور پر حملے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ابھی جلدی میں ہیں اور اس مسئلے پر بات نہیں کرسکتی. ان سے گزارش کی گئی کہ کچھ منٹس اس مسئلے پر بات کرو لیکن انھوں نے بات کرنے سے انکار کیا. پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابقہ صدر افضل بٹ نے اسد طور پر حملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے حیرانی ہورہی ہے کہ کچھ روز پہلے ہی یورپی یونین نے پاکستان میں صحافیوں پر بڑھتے خطرات پر ایک قرارداد منظور کی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ لوگ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی پالیسی بناتے بلکہ یہ دوبارہ سے صحافیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انھوں نے اسلام آباد میں صحافیوں کے غیر محفوظ ہونے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی صحافی پر بلوچستان یا قبائلی علاقے میں حملہ ہوتا تو ہم کہتے کہ قانون کی حکمرانی نہیں لیکن اگر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کو دن دیہاڑے نشانہ بنایا جائے اور اُن کے قاتل نہ پکڑے جائیں تو آپ روڈ پر پھل بیچنے والے کسی ریڑھی بان سے یا سڑک پر چلتے ہوئے کسی عام انسان سے پوچھیں تو آپ کو یہی جواب ملے گا کہ اتنا طاقتور کون ہوسکتا ہے جس کے سامنے پولیس اور حکومت بھی بے بس ہے۔
جیو نیوز سے منسلک سینئر صحافی اعزاز سیدنے کہا کہ اسلام آباد صحافیوں کے لئے ایک خطرناک شہر ہے اور اب اسلام آباد صحافیوں کے لئے ایک محفوظ شہر نہیں رہا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دن دیہاڑے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں صحافی مطیع اللہ جان کو اُٹھایا گیا اور اس کے بعد ابصار عالم پر حملہ بھی وفاقی دارلحکومت کے ایک پارک میں ہوا لہذاٰ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شہر اقتدار صحافیوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔ اعزاز سید سمجھتے ہیں کہ حملوں کا تعلق شہروں اور علاقوں سے زیادہ صحافیوں کے کام کے حوالے سے ہے کیونکہ پہلے دفاع اور سیکیورٹی سے منسلک خبریں حساس اور صحافیوں کے لئے خطرے کی صورت بنتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے اور بہت کچھ بدل چکا ہے۔ خارجہ امور، معیشت حتٰی کہ صحت عامہ کے مسائل پر تحقیقاتی صحافت کرنا کسی خطرے سے کم نہیں۔
انسانی حقوق کی کارکن فرزانہ باری نے اسد طور حملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جب بھی صحافیوں پر حملہ ہوتا ہے تو انگلی ریاست کے طاقتور اداروں پر اُٹھائی جاتی ہے حتیٰ کہ اگر وہ اس میں ملوث بھی نہ ہو لیکن ایک تاثر یہی بنا ہے کیونکہ اگر صحافیوں پر حملے کرنے والے مجرم نہیں پکڑے جاتے تو پھر اس بات میں وزن پیدا ہوجاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مین سٹریم میڈیا سے تنقیدی آوازوں کو باہر کیا گیا لیکن اب کچھ باضمیر لوگ سوشل میڈیا پر آواز بلند کرتے ہیں تو اُن کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے جو کہ افسوس ناک ہے۔
اسلام آ باد میں گزشتہ دو دہائیوں سے کرائم رپورٹنگ کرنے والے سینئیر صحافی راجہ کاشف نے موقف اپنایا کہ اسلام آباد پولیس اور کرائم کی تحقیقاتی ایجنسی سی آئی اے کے درمیان رابطوں اور کام کا فقدان ہے اور دونوں ادارے ایک دوسرے سے تعاون نہیں کرتے کیونکہ سی آئی اے سیکیورٹی ڈویژن سے تعاون نہیں کر رہا اور آپریشن ڈویژن کے سیکورٹی ڈویژن سے روابط نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے زمانے میں کروڑوں روپے لگا کر سیف سٹی کا پراجیکٹ شروع کیا گیا جو شروع سے متنازعہ رہا اور مجرموں کو پکڑنے میں اس پرجیکٹ کی کوئی افادیت شامل نہیں۔
فرانزک تحقیقات پر بات کرتے ہوئے راجہ کاشف نے نیا دور میڈیا کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے پاس فرانزک تفشیش کرنے کے حوالے سے نہ کوئی فنڈز ہے اور نہ کوئی لیبارٹری اور وہ اپنے خرچے پر فرانزک کے لئے مواد لاہور بھیجتی ہے اور حتیٰ کہ اسلام آباد پولیس ریپ اور منشیات کے کیسز میں بھی تفتیشی اپنے خرچے پر مواد لاہور کے لیبارٹری میں بھیجتے ہیں۔ اسد علی طور کے کیس پر بات کرتے ہوئے راجہ کاشف نے کہا کہ جب کوئی جرم ہوتا ہے تو پولیس جائے وقوعہ پر جاکر ثبوت اکھٹے کرتی ہے اور پھر انگلیوں کے نشانات سے نادرا مجرموں کو شناخت کرتا ہے اور میرے خیال میں یہ کوئی بڑی سائنس نہیں کہ مجرموں تک رسائی نہیں ہوسکتی۔ راجہ کاشف سمجھتے ہیں کہ وفاقی دارلحکومت کی پولیس تفتیش اور ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ملکوں کی پولیس سے بھی دو سو سال پیچھے ہیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے اسلام آبادمیں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے جب صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات کا سامنا ہوتا تھا تو وہ شہر اقتدار میں پناہ لیتے تھے مگر اب صحافیوں کو راستوں میں نہیں بلکہ گھر کے اندر جاکر دن دیہاڑے نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آور مزید بہادر ہوگئے ہیں کیونکہ صحافیوں کے صفوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔ لیکن ناصر زیدی سمجھتے ہیں کہ اس بار خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی اور نہ صرف جمعے کو ملک گیر احتجاج ہوگا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اگر اُن کو لگا کہ صحافیوں پر حملے کم نہیں ہورہے ہیں تو پھر وہ ملک کے اہم ادارے کے بلڈنگ کے سامنے احتجاج کرنے کی لائحہ عمل بنائینگے۔
