صحافیوں پر حملے: بلاول کا DG ISI کو خط لکھنے کا اعلان

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وہ انٹرسروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو خط لکھیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ صحافیوں پر مسلسل حملوں سے کس طرح ان کے ادارے کی بدنامی ہورہی ہے جسکا سدباب کیا جانا چاہئے۔ بلاول نے یہ اعلان 17 جون کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس اجلاس میں حامد میر، ابصار عالم، مطیع اللہ جان، اسد طور اور عاصمہ شیرازی سمیت کئی صحافیوں نے بلاول کی خصوصی دعوت پر شرکت کی اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
اس میٹنگ کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ابصار عالم نے بھی کنفرم کیا کہ ‘بلاول بھٹو زرداری صحافیوں پر حملوں اور پاکستانیوں میں پھیلی دہشت اور خوف کی فضا کے پس منظر میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کو خط لکھ کر معاملے کی سنگینی اور ادارے کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان سے آگاہ کریں گے۔ بلاول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اجلاس کے دوران وزارت داخلہ کو صحافیوں کے خلاف غداری کے کیسز اور پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت اب تک بلاگرز اور وی لاگرز کے خلاف قائم ہونے والے مقدمات کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر اسلام آباد پولیس کے سینئر حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ابصار عالم پر حملے کی فوٹیج نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو بھجوادی گئی تھی لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی بڑی مشکل سے حاصل کی گئی تھی اور وہ دھندلی ہے، اس کیس کیس کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی لیکن ابھی تک نامعلوم حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو پائی۔ خصوصی سیکریٹری برائے داخلہ نے بھی اس موقع پر اسی طرح کا بیان دیا اورکمیٹی کوبتایا کہ وہ نادرا سے جواب موصول ہونے کے بعد بریفنگ دیں گے۔
بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں دنیا بھر کے سفارت خانے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے پوری دنیا کو ایک منفی پیغام گیا ہے، وزارت داخلہ کو چاہیے اس معاملے کو حتمی نتیجے تک پہنچائے۔ کمیٹی کے اراکین نے نادرا کے رویے پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے سوال کیا کہ ادارہ کیا کر رہا ہے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عطااللہ نے کہا کہ نادرا کو فوٹیج دو ماہ قبل بھیجی گئی تھی لیکن رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کا حملہ وزیر داخلہ یا چیئرمین نادرا پر ہوتا تو کیا پھر بھی نادرا رپورٹ کے لیے اتنا ہی وقت لیتا؟ خصوصی سیکریٹری برائے داخلہ نے عطااللہ کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا بات کرنے کا انداز مناسب نہیں ہے، جس پر دونوں کے درمیان الفاط کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے پر تنقید کی گئی تاہم رکن اسمبلی محسن داوڑ اور دیگر کی مداخلت سے ماحول بہتر ہوا۔ بلاول بھٹو نے پولیس حکام سے پوچھا کہ اسلام آباد میں اب تک صحافیوں پر کتنے حملے ہوئے ہیں اور کتنے حملوں کی باقاعدہ تفتیش کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ 2018 سے اب تک 50 حملے ہوئے ہیں اور ان میں سے 44 ذاتی نوعیت کے تھے، تاہم ان 44 کیسز میں سے 20 کے چالان جمع ہوچکے ہیں، 5 مسترد اور 19 زیر تفتیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے خلاف 6 بڑے حملے ہوئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ صحافیوں پر حملوں میں اگر کوئی ملکی ادارہ ملوث ہے تو یہ قابل مذمت ہے اور اگر ادارے کا نام غلط لیا جا رہا ہے تو یہ بھی قابل مذمت ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام صحافیوں کا شکرگزار ہوں لیکن پولیس اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اطمینان بخش جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم شکرگزار ہیں کہ سیکریٹری اور پولیس عہدیدار سوالوں کے جواب دینے کے لیے موجود تھے، بدقسمتی سے ہم مطمئن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں صحافیوں سے پر سب سے زیادہ حملے ضیاالحق کے دور میں نہیں اور نہ ہی جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئے بلکہ نئے پاکستان میں عمران خان کے دور میں ہوئے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ یہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مستقل بنیادوں پر ان صحافیوں سے رابطے میں رہے گی، جن پر حملے ہوئے ہیں اور کیس جاری رکھے ہوئے اور صحافیوں کے تحفظ کے بل کا بھی جائزہ لے گی۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ اس اقدام کے بعد ہمارے پاس ایک طاقت ور بل ہوگا جو صحافیوں کے حق میں ہوگا۔
لاول بھٹو نے جرنلسٹ پروٹیکشن بل پر انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی بنا کر بل پر جلدی نظرثانی کیلئے پی ٹی آئی رکن کو سربراہ بنانے کی دعوت بھی دی۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ زبان بندی کے جو حربے اس ہائبرڈ دور حکومت میں اختیار کئے جارہے ہیں، انکی مثال پہلے نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان کے ذریعے صحافیوں پر زبان بندی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے، ایک طرف جرنلسٹ پروٹیکشن بل لایا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جارہی ہے، عاصمہ نے کہا کہ ہمارا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہمارا تعلق پاکستان کے آئین سے ہے جبکہ پارلیمان کی بالادستی ہمارا نظریہ ہے، اور اسکے لیے آواز بلند کرنے والوں کو ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جانا قابل مذمت ہے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے بتایا کہ وہ صحافی حضرات پر تشدد کے خلاف ایک مذمتہ تقریر کیے جانے کے بعد سے آف ایئر ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں انکے اور عاصمہ شیرازی کے خلاف غداری کے پرچے درج کروانے کی درخواستیں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان پر پیمرا سمیت کسی ادارے نے کوئی پابندی نہیں لگائی تاہم پھر بھی انکو جیو پر اپنا پروگرام کرنے سے روک دیا گیا یے۔ حامد میر نے کہا کہ لال مسجد سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کی مدعیت میں انکے خلاف فوج مخالف پروپیگنڈے کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا گیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنی تقریر میں نہ تو کسی فرد کا نام لیا اور نہ ہی کسی ادارے کا۔
اس موقع پر نامعلوم افراد کے تشدد کا شکار ہونے والے سینیئر صحافی اسد طور نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والے تشدد کے دوران اہنے افسران سے فون پر بات کرتے رہے، حملہ آوروں کے چہرے فوٹیج میں واضح ہیں، اور ان کے فنگر پرنٹس بھی موجود ہیں، لیکن مطیع اللہ جان اور ابصار عالم کے کیسز کی طرح ان کے معاملے میں بھی کوئی حملہ آور گرفتار نہیں ہو سکا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی اور اسد طور کی وکیل ایمان مزاری نے بتایا کہ ہمیں جیو فینسنگ کی رپورٹ ابھی تک نہیں دی گئی، انکا کہنا تھا کہ جب میں نے اسد طور کیس لیا تو مجھے فون پر دھمکیاں دی گئیں کہ آپ کیس سے پیچھے ہٹ جائیں ورنہ آپ کو نقصان ہوگا۔ ایمان نے کہا کہ میں ایک وفاقی وزیر کی بیٹی بھی ہوں مگر اسد طور کیس کو لینے کے بعد میرا پیچھا کیا گیا، اور میری گاڑی کا پراسرار طور پر ایکسیڈنٹ بھی ہوا۔
تاہم ان تمام باتوں کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے یہ اعلان کیا کہ وہ اسلام آباد میں صحافیوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس آئی کو ایک خط لکھیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ ان واقعات سے ان کے ادارے کی کتنی بدنامی ہورہی ہے۔
