صحافیوں کی گرفتاری پہلے اور FIRبعد میں درج ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف دائر کیس کی سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ 7 اگست 2021 کے روز ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور نے ڈائریکٹر بابر بخت قریشی کے احکامات پر سینئر صحافی عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار کرنے کے تین گھنٹے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ 27 ستمبر کو ایف آئی اے کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سامنے جو ریکارڈ پیش کیا گیا اس کے مطابق صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا وقت دوپہر ڈیڑھ بجے کا ہے جبکہ ان کی گرفتاری 10:30 بجے صبح عمل میں لائی گئی۔ یعنی ان کے خلاف ایف آئی آر گرفتاری کے بعد درج کی گئی جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ دونوں صحافیوں کو سائبر کرائم سے متعلقہ پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا تھا بلکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505 کے تحت ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کے افسران سے یہ سوال کیا کہ آپ نے انگریز دور کے سامراجی قانون کے تحت صحافیوں کو کیسے گرفتار کیا؟
یاد رہے کہ یہ کالا قانون قیام پاکستان سے پہلے لارڈ میکالے نے برصغیر پاک وہند کے عوام کو دبانے کے لئے بنایا تھا جسے اب ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ آزاد صحافیوں کی زبان بندی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اس موقع پر جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ عامر میر اور عمران شفقت کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505 کے تحت گرفتار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایف آئی اے کے پاس دونوں صحافیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کوئی ثبوت موجود نہیں تھا حالانکہ گرفتاری کے بعد سے اب تک ایف آئی اے کا یہ موقف تھا کہ انھوں نے یہ کارروائی پیکا قانون کے تحت کی ہے۔ کرنل انعام نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنا ہر شہری کا حق ہے اور صحافیوں کی تو یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت وقت کی خامیوں سے پردہ اٹھائیں تاکہ اصلاح ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو گرفتار کرنے کے لیے ان پر فوج، ایجنسیوں اور عدلیہ کی کردار کشی کے بھونڈے الزامات عائد کیے گئے حالانکہ کے ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر میر اور عمران شفقت کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کیا گیا اور پھر گرفتاری کے تین گھنٹے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جو کہ ایک غیر قانونی عمل تھا۔ اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے صحافیوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے ایف آئی اے کو حکم جاری کیا کہ وہ اگلی سماعت پر عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کرے کہ اسکے افسران ایس او پیز کی خلاف ورزی سے باز کیوں نہیں آ رہے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے گرفتاریوں کا یہ سلسلہ کس کے کہنے پر جاری ہے؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر چل رہی ہیں لیکن ایف آئی اے نے ایک آدمی نہیں پکڑا، دوسری جانب سارا زور آزاد صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان کی آواز دبانے پر لگایا جا رہا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وضاحت کی جائے کہ ایف آئی اے پیکا ایکٹ کو چھوڑ کر اب پی پی سی کے کالے قانون کے تحت صحافیوں کو کیسے گرفتار کر رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ کالا قانون بنایا تھا اب تو انہوں نے خود بھی اسےاستعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ہاتھوں سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ ان کی گرفتاری میں ملوث ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور بابر بخت اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ احکامات یکم ستمبر کے روز جاری کیے تھے۔ تاہم ابھی تک بابر بخت قریشی کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ عدالت صحافیوں کے ہراسانی کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے کوئی حتمی حکم جاری کرے گی۔ چیف جسٹستس کا کہنا تھا کہ بار بار کے عدالتی احکامات کے باوجود ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے باز نہیں آ رہی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام شہری کو ڈرانے کے لیے ایف آئی اے کا ایک نوٹس ہی کافی ہوتا ہے لیکن یہاں بار بار صحافیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ہراساں بھی کیا جا رہا ہے جس کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ سوسائٹی آئین کے تحت چل رہی ہے، جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ یہ تاثر ختم کیا جائے کہ انتقامی کارروائیاں صرف صحافیوں کے خلاف ہورہی ہیں، تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار کرنے پر سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا تھا لیکن یہ کیس عدالتی سیاست کا شکار ہوگیا اور قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قاضی عیسیٰ کا بنچ توڑ کر جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ بنا دیا تھا۔ تاہم صحافیوں نے اس بینچ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپنی آئینی پٹیشن واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ عدالت سے اپنا کیس واپس لیتے ہوئے عامر میر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ بنچ انہیں انصاف دے پائے گا۔ انہوں نے کہاتھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی عدالت میں دائر کردہ ان کی درخواست کو جس طرح فٹ بال بنا کر اس کے ساتھ کھیلا گیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے والے خفیہ عناصر عدالت سے زیادہ طاقتور ہیں۔ عامر میر کا کہنا تھا کہ ان کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے کے واقعات میں ایف آئی اے کو غیر مرئی عناصر استعمال کر رہے ہیں اس لیے وہ نہیں سمجھتے کہ عدالت ان کا احتساب کر پائے گی لہذا وہ اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔
