ملک میں صدارتی نظام لانے کی کوشش ناکام ہوگئی
پاکستان میں موجودہ پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ صدارتی نظام لانے کی کوشش تب ناکام ہوگئی جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس حوالے سے دائر کردہ درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئین میں عدالت کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دے سکے۔
جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے احمد رضا قصوری کی صدارتی نظام رائج کرنے سے متعلق درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ تاہم تاریخ نے اپنا فیصلہ دیا اور بھٹو کی پھانسی جوڈیشل مرڈر قرار پائی۔ بھٹو کے خلاف اس جھوٹے قتل کیس کے مدعی احمد رضا قصوری تھے۔
تاہم پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دینے والے بھٹو کو پھانسی پر چڑھوانے کے بعد احمد رضا قصوری کی جانب سے ان کے لائے ہوئے پارلیمانی نظام کو تختہ دار پر چڑھانے کی کوشش سپریم کورٹ نے ناکام بنا دی۔ 27 ستمبر کو صدارتی نظام نافذ کرنے کے لئے دائر کردہ احمد رضا قصوری کی ایک درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیا درخواست گزار اس معاملے میں متعلقہ ہیں بھی کہ نہیں اور کیا یہ درخواستیں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کوئی ٹھوس بات کرتی بھی ہیں کہ نہیں؟
بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ملک میں طاقتور سیاسی جماعتیں موجود ہیں لہازا ان کی موجودگی میں درخواست گزار کو یہ معاملہ اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس پر احمد رضا قصوری نے کہا کہ سیاستدان اگر ملک کے مفاد کا نہیں سوچتے تو کیا میں بھی خاموش ہو جاؤں؟
اسٹیبلشمنٹ کی زبان بولنے والے قصوری نے کہا کہ جن لوگوں نے آئین پاکستان بنایا ان میں واحد زندہ شخص اس وقت میں ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آئین کی دفعہ 46 کے تحت وزیراعظم ریفرنڈم کے لیے معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھتے ہیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ ابھی تک وزیراعظم یا پارلیمان کے سامنے آیا بھی ہے کہ نہیں، کیا صدارتی نظام رائج کرنے کے لیے صرف فرد واحد کی خواہش چاہیے؟ اس پر احمد رضا قصوری نے یہ لطیفہ سنایا کہ میں فرد واحد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہوں۔ جسٹس منیب اختر نے احمد رضا قصوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آئین بن رہا تھا اور آپ رکن پارلیمنٹ تھے تب آپ نے پارلیمانی نظام حکومت کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اس پر قصوری نے کہا کہ میں نے تو تب بھی آئین کی مخالفت کی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تو پھر آپ خود کو کیسے آئین بنانے والوں میں شمار کر رہے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس درخواست میں ایک سیاسی سوال ہے جو عدالت سے متعلقہ نہیں۔
احمد رضا قصوری نے کہا کہ انہوں نے ملک کو 1971 میں دولخت ہوتے دیکھا ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ عدالت کو غیر متعلقہ معاملات میں مت اُلجھائیں۔
اسکے بعد عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے صدارتی نظام کے خلاف قصوری اور دیگر لوگوں کی درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے دیں۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ آئین کی بنیاد پارلیمانی نظام ہے، آئین میں عدالت کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دے سکے۔ یاد رہے کہ احمد رضا قصوری اور دو دیگر افراد نے سپریم کورٹ میں پٹیشنز دائر کرتے ہوئے ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ عوام کو سیاسی انصاف نہیں مل رہا ہے جس کے نتیجے میں انہیں معاشی اور معاشرتی انصاف کی فراہمی سے بھی انکار کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ 1947 سے عوام کو سیاسی انصاف فراکم کرنے سے انکار کیا گیا ہے کیونکہ وہ ان سیاسی جماعتوں کے زیر اقتدار تھے جنہیں مقبول ووٹوں کا 51 فیصد سے بھی کم ووٹ ملا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر برسراقتدار پارٹیوں نے 2008، 2013 اور 2018 میں بالترتیب 25.6 فیصد، 32.7 فیصد اور 31.8 فیصد مقبول ووٹ حاصل کیے تھے۔درخواستوں میں کہا گیا کہ یہ جمہوریت کے اکثریتی حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔اس کے علاوہ درخواستوں میں کہا گیا کہ پارلیمانی نظام نے پاکستان میں پولرائزیشن کی حوصلہ افزائی کی ہے اور موجودہ مسائل کا حل صدارتی نظام میں ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔
