صدرعلوی آرمی چیف کے نوٹیفکیشن پر پنگا نہیں کریں گے

صدر عارف علوی سے یہ یقین دہانی حاصل کر لی گئی ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے بھجوائی جانے والی سمری پر کسی قسم کا غیر ضروری پنگا نہیں کیا جائے گا۔ اس سے پہلے حکومتی حلقوں میں خدشات پائے جاتے تھے کہ وزیراعظم کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری کے لئے بھجوائی جانے والی سمری کو ڈاکٹر عارف علوی روک بھی سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پارٹی سربراہ عمران خان کا حکم نہیں ٹال سکتے۔ لیکن اب حکومتی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدر عارف علوی سے 18 نومبر کو ہونے والی ملاقات میں معاملات طے پا گئے ہیں اور ایوان صدر کی جانب سے کسی پنگے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی اب آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاکہ کوئی غیر ضروری تنازعہ کھڑا نہ ہو۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے کرونا میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے اس وقت وزیر خزانہ اسحاق ڈار بطور قائم مقام وزیراعظم ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار نے صدر عارف علوی کو وزیراعظم کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ جب وزیراعظم کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے سمری ایوان صدر بھجوائی جائے تو کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع بھی اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ عمران خان نئے آرمی چیف کے تقرر کو متنازع نہیں بنائیں گے۔ پی ٹی آئی کے ایک مرکزی رہنما نے حکومتی حلقوں کے اس خدشے کو مسترد کر دیا کہ عمران کے حالیہ بیانات کی وجہ سے شاید صدر آرمی چیف کے تقرر میں تاخیری حربے استعمال کریں کیونکہ وہ وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی جانے والی کسی بھی سمری کو 25 دن کے لئے روک سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ صدر مملکت آرمی چیف کی تقرری پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے، اور پارٹی کی پالیسی بھی یہی ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایک حالیہ اجلاس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکر لینے کی پالیسی پر بحث ہوئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے کیونکہ اس بیانیے سے پارٹی عوام میں مقبولیت کھو رہی ہے۔ سینئر صحافی کے بقول اس اجلاس کے بعد سے عمران خان نے بھی اپنے فوج مخالف بیانیے کی شدت کم کی ہے۔ یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد سے عمران نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سخت انداز سے ٹکرانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے لیکر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم تک اسٹیبلشمنٹ کے تمام اہم کھلاڑیوں کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے تا کہ ان پر دبائو ڈال کر فوری الیکشن کرائے جا سکیں۔ عمران کا موقف ہے کہ فوری الیکشن کے نتیجے میں وہ آسانی سے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے دوبارہ برسر اقتدار آ جائیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اپریل میں اپنی برطرفی کے بعد سے فوج مخالف بیانیہ اپنا کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے اتنا زیادہ فاصلہ پیدا کر چکے ہیں کہ اب دونوں کا قریب آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ معاملہ تب حد سے پار چلا گیا جب عمران نے اداروں پر ارشد شریف کے قتل کا الزام عائد کیا جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ ڈی جی آئی ایس آئی نے ایک پریس کانفرنس کی اور عمران کو چارج شیٹ کر دیا۔ لیکن جب اسی دوران عمران پر وزیر آباد میں ایک مذہبی جنونی کی جانب سے قاتلانہ حملہ ہوا تو موصوف نے اسکا الزام بھی آئی ایس آئی کے ایک اہم ترین افسر پر عائد کر دیا۔ اس الزام سے معاملات میں اور بھی بگاڑ آ گیا لیکن عمران اب تک اپنے الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائے اسی وجہ سے حملہ کیس کی ایف آئی آر میں بھی آئی ایس آئی افسر کا نام شامل نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ویسے ہی مثالی تعلقات ہیں جیسے کسی زمانے میں عمران اور اسٹیبلشمنٹ کے تھے۔ ماضی میں اگر عمران اسٹیبلشمنٹ کا دفاع کیا کرتے تھے تو اب شہباز شریف یہ قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں قومی اسمبلی میں اگلے روز تحریک انصاف کی ’ریاست مخالف مہم‘ کے خلاف اور فوج سے ’اظہار یکجہتی‘ کے لیے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی عزت اور وقار قوم کی ’ریڈ لائن‘ہے، اور ایسے عناصر جو ریاست کے دشموں کے ساتھ مل کر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اپنی حدود سے تجاوز کررہے ہیں انہیں سزا دے کر مثال بنایا جائے، اسی میں قوم اور پاکستان کا بہترین مفاد ہے۔ ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب جبکہ موجودہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر آ چکے ہیں تو آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ بھی خوش اسلوبی کیساتھ طے ہو جائے گا۔
