صدر علوی نے عمران اور باجوہ کق گٹھ جوڑ کیسے بے نقاب کیا؟

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے بالآخر ان الزامات کی تصدیق کر دی ہے کہ فروری 2021 میں فوج کو غیر سیاسی کرنے کے فیصلے کے باوجود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے حلف کے بر خلاف مسلسل سیاست کرتے رہے اور انہوں نے سینیٹ کے الیکشن میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کا ساتھ دیا۔ صدر علوی کے اس بیان نے چوہدری پرویز الٰہی کے اس دعوے کی بھی تصدیق کردی ہے کہ مارچ 2022 میں عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت انہیں پی ڈی ایم کے ساتھ نہ جانے کا مشورہ جنرل باجوہ نے دیا تھا، یعنی سابق آرمی چیف سینیٹ الیکشن میں عمران خان کا ساتھ دینے کے ایک برس بعد بھی ان کی حکومت بچانے کے لیے سرگرم عمل تھے۔ تاہم عمران حکومت بچانے کے لیے ان کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں۔ بعد ازاں خان صاحب نے جنرل باجوہ کے خلاف چھ ماہ تک ہرزہ سرائی کی اور کبھی انہیں غدار تو کبھی جانور قرار دیا، لیکن اس سب کے باوجود نئے آرمی چیف کی تقرری سے چند ہفتے پہلے پہلے اکتوبر 2022 میں جنرل باجوہ نے ایوان صدر میں عمران خان سے ایک خفیہ ملاقات کی جس کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین نے آرمی چیف کے عہدے میں نئے الیکشن کے انعقاد تک توسیع کی تجویز پیش کر دی، لیکن حکومت نے اس تجویز کو مسترد کر کے جنرل عاصم منیر کو نیا فوجی سربراہ مقرر کردیا۔

25 دسمبر کو کرسمس کے موقع پر کراچی میں مخصوص صحافیوں، کاروباری افراد اور سفارت کاروں سے ایک ملاقات میں صدر عارف علوی نے کھل کر گفتگو کی اور سوالات کے جواب دیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جنرل قمر باجوہ نے 2018 کے الیکشن میں عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا اور اس کے بعد انہیں سینیٹ کے الیکشن میں بھی مدد فراہم کی۔  تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں نئی شروعات کیلئے سیاستدانوں کو ماضی کے واقعات بھلا کر اور معاف کر کے آگے بڑھنا چاہئیے۔ تاہم 26 دسمبر کو جب صدر عارف علوی کے اس بیان کے بعد پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی جانب سے عمران پر تنقید شروع ہوئی تو صدر عارف علوی نے فوری طور پر اپنے بیان کی تردید کردی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر علوی نے عمران خان کے بارے میں سچ بولا ہو اور پھر دباؤ آنے پر اس سے یوٹرن لے لیا ہو۔ اس لیے ان کی اس تردید پر یقین کرنے کو کوئی تیار نہیں۔

کراچی میں اپنی گفتگو کے دوران صدر عارف علوی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ماضی میں نیب کا کردار سیاستدانوں کے حوالے سے قابل تحسین نہیں رہا۔ انکا کہنا تھا کہ نیب کے معاملات میں بہت زیادہ مداخلت تھی، اور اس ادارے کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ ملک میں کسی کو بھی صرف الزام کی بنیاد پر جیل میں ڈالنا بہت آسان ہے۔ اسکے علاوہ فوج اور عدلیہ نے بھی اپنا جائز کردار ادا نہیں کیا۔اپنے اعزاز میں دیے گئے کرسمس عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ انہوں نے ’’آڈیوز اور ویڈیوز کے کھیل‘‘ کے حوالے سے نئے آرمی چیف سے بات کی ہے، مجھے حیرت ہے کہ یہ سلسلہ اب تک کیوں جاری ہے، کیونکہ اخلاقی لحاظ سے یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئیے۔ تاہم عمرانڈو صدر کہلانے والے عارف علوی بھول گئے کہ یہ سلسلہ عمران خان کے دور میں شروع ہوا تھا جب مریم نواز کی آڈیوز لیک کی جاتی تھیں۔ جنرل باجوہ اور عمران کی سیاسی کو آپریشن کا انکشاف کرنے والے صدر علوی نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے نئے آرمی چیف کے ساتھ مسلح افواج کی ’’غیر جانبداریت‘‘ پر بھی بات کی ہے۔

انہوں نے محفل میں موجود حاضرین کو ایک مزاحیہ بات سناتے ہوئے کہا کہ 1990ء کی دہائی میں جب وہ جماعت اسلامی کا حصہ تھے تب الیکشن کے لیے پارٹی امیدواروں کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتے وقت اس سوال کا جواب دینا ہوتاتھا کہ کیا وہ شراب پیتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک امیدوار نے اقرار کیا کہ وہ شراب پیتا ہےجبکہ ایک اور امیدوار نے کہا کہ میں نے دو ہفتے قبل شراب پینا چھوڑ دی ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا ’میں نے یہ واقعہ اپنے اُن تمام وردی والے دوستوں کو سنایا ہے تاکہ انہیں یہ بتا سکوں کہ اگر آپ نے سیاست چھوڑ دی ہے تو کل پرسوں ہی چھوڑی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سب باتیں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی شیئر کی ہیں۔ تاہم یہ وہی عارف علوی ہیں کہ جو وزیراعظم  شہباز شریف کی جانب سے عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنانے کی سمری پر دستخط کرنے کی بجائے سیاست کرنے کے لیے عمران خان کے پاس لاہور پہنچ گئے تھے۔

صدر علوی نے کہا کہ اگر فوج نے واقعی سیاست چھوڑ دی ہے تو اب وقت آچکا ہے کہ سیاست دان معاملات اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دان کو ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں کہ انہیں فوج کی طرف نہ بھاگنا پڑے۔ عارف علوی کی رائے تھی کہ ملک کو مشکل وقت کا سامنا ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ایک نئی شروعات کیلئے تلخ ماضی کو بھول جائیں اور دشمنوں کو معاف کر دیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اداروں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا، حتیٰ کہ عدلیہ نے بھی اہم مواقع پر عوام کو مایوس کیا ہے۔ صدر نے کہا کہ عدالتوں نے آمروں کو آئین میں تبدیلی کی اجازت دینے کے فیصلے سنائے جو کہ افسوس ناک تھے، انہوں نے کہا کہ اگر آپ عدلیہ پر تنقید کریں گے تو اس سے پوری عدلیہ کا وقار کم ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ فوج پر تنقید کرتے ہیں تو اس سے پورے ادارے کا وقار مجروح ہوتا ہے اس لئے دونوں اداروں کو ایسے اقدامات نہیں کرنی چاہئیں جن سے وہ تنقید کی زد میں ہیں اور ان کا وقار مجروح ہو۔

تاہم دوسرے اداروں کو اپنا وقار برقرار رکھنے کا بھاشن دینے والے صدر عارف علوی بھول گئے کہ انہوں نے اپریل 2022 میں وفاق کی علامت بننے کی بجائے عمران خان کے چمچے کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کی منتخب کی ہوئی قومی اسمبلی توڑ دی تھی جسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر قانونی قرار دے کر ان کے منہ پر کالک مل دی تھی لیکن انہوں نے پھر بھی صدارت سے چمٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔

جب صدر علوی سے عمران خان کے جنرل باجوہ پر عائد الزامات کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگرچہ دوسرے فریق کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ وہ نیوٹرل ہو چکے ہیں اور وہ دباؤ نہیں ڈال رہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کسی حد تک دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ سینئر صحافی مظہر عباس نے صدر سے سوال کیا کہ کیا عمران خان نے کسی موقع پر جنرل باجوہ کو برطرف کرنے کا سوچا تھا؟ اس پر صدر نے کہا کہ نہیں میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ تھا، یہ افواہ ہے۔ جب علوی سے یہ پوچھا گیا کہ خان اور جنرل باجوہ کے درمیان تعلقات کب خراب ہوئے تو صدر نے کہا کہ میں بھی اس سوال کا جواب تلاش کر رہا ہوں، لیکن شاید رواں سال اپریل کے دوران ایسا ہوا تاہم، صدر نے کہا کہ جنرل باجوہ اور ان کی ٹیم نے سینیٹ کے الیکشن میں عمران خان کی مدد کی اور اس سے پہلے الیکشن 2018 میں بھی ان کی مدد کی، انکا کہنا تھا کہ اس حقیقت کا مجھے ذاتی طور پر علم ہے۔

Back to top button