عمران خان دوبارہ وزیراعظم بن کر بھی ناکام کیوں ہوں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ اگر عمران خان اپنے دعووں کے مطابق اگلے انتخابات میں دو تہائی اکثریت لیکر دوبارہ وزیر اعظم بن بھی جاتے ہیں تو پاکستان میں کچھ بدلنے والا نہیں کیوںکہ وہ خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ دوبارہ وہی کچھ ہوگا جو ہم نے عمران خان کی ساڑھے تین سال کی حکومت کے دوران دیکھا۔’’چور چور، ڈاکو ڈاکو ‘‘کی گردانیں ہی سنائی دیتی رہیں گی، کوئی بزدار ہی پنجاب میں اور خیبر پختون خوا میں حکمران ہو گا، ماضی کی طرح عمران کی ساری توجہ اپوزیشن کو دبانے پر مرکوز ہو گی اور معیشت مذید ابتری کا شکار ہو جائے گی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی اپنا سیاست دان مخالف بیانیہ دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ سیاستدانوں نے ماضی کے تلخ تجربات سے کچھ نہیں سیکھا اور باہمی کشمکش سے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ہمارے سیاست دان جو غلطیاں ماضی میں بار بار کرتے رہے وہی پھر سے دہرا رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی اپنی سیاست کیلئے، اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کیلئے پاکستان کو ڈیفالٹ کےخطرے تک لے آئے ہیں۔ سب کو نظر آ رہا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے لیکن اب بھی جو کرنا چاہئے وہ نہیں کیا جا رہا۔

عمران خان کہتے ہیں کہ ایک دو ماہ معاملات اسی طرح چلے تو پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا۔ حکومت کے اندر بھی اس حوالے سے بڑی پریشانی پائی جا رہی ہے، کچھ لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ سعودی عرب سے کوئی دو چار ارب ڈالر ملنے والے ہیں لیکن کیا اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ مانا کہ اس سے ڈیفالٹ کا خطرہ چند ایک ماہ کیلئے مزید ٹل جائے گا لیکن ہماری معاشی حالت مستحکم ہونے کے کوئی آثار نہیں۔ نئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا تجربہ بھی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ان حالات میں کسی کو بھی لے آئیں، ہمارے حالات بہتر نہیں ہو سکتے کیونکہ حالات بدلنے کیلئے سیاستدانوں کو اپنا رویہ بدلنا پڑے گا۔ اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا جس کیلئے بدقسمتی سے وہ بالکل تیار نہیں۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ شہباز شریف حکومت کسی کرشمے کے انتظار میں ہے جبکہ عمران خان کہتے ہیں کہ حالات کی بہتری کا صرف ایک ہی حل ہے کہ فوری الیکشن کرائے جائیں اور حکومت اُنہیں سونپ دی جائے۔ خان صاحب کا دعوی ہے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی سب کچھ بدل دیں گے اور پاکستان معاشی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا لیکن انصار عباسی کا اصرار ہے کہ میری بات نوٹ کر لیں، یہاں کچھ بھی نہیں بدلے گا۔

عمران خان دوتہائی اکثریت لے کرحکومت بنا لیں تو بھی کچھ نہیں بدلے گا کیوں کہ وہ خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ماضی میں بھی اسی طرح کے دعوے کیے تھے لیکن جب اقتدار میں آئے تو بے نقاب ہو گے۔ چنانچہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں تو بھی وہی کچھ ہو گا۔ جو کچھ ہم نے عمران خان کی ساڑھے تین سال کی حکومت کے دوران دیکھا، آگے بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہوگا۔ ’’چور چور، ڈاکو ڈاکو ‘‘کی گردانیں ہی سنائی دیتی رہیں گی، اور معیشت کا حال بدتر ہی رہے گا۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف جن کو بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر جانا جاتا تھا وہ بھی ابھی تک کچھ نہیں کر سکے۔

وزیر اعظم بننے کا اُن کا شوق تو پورا ہوگیا لیکن عمران خان کی حکومت کو ختم کر کے پی ڈی ایم کی حکومت کے قیام کا تجربہ بھی ناکام ہوا اور ہمارے سیاسی اور معاشی حالات بد سے بدتر ہو گئے۔ کسی سے بھی بات کر لیں، سب مانتے ہیں کہ ہمارے حالات کا واحدحل سیاست دانوں کا آپس میں مل بیٹھنا ہے۔ انصار عباسی کے بقول چند ایک لوگ کہتے ہیں کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی یہ سب مانتے ہیں کہ ہماری عافیت و بھلائی اسی میں ہے کہ سب مل بیٹھ کر پاکستان کو اس مشکل سے نکالیں۔

تاہم اس کا فیصلہ سیاستدانوں کو کرنا ہے اور اُنہی کو کرنا چاہئےلیکن افسوس کہ سیاست دان آپس میں مل بیٹھنے کیلئے تیار نہیں اور ایسا اس لئے نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں بلکہ اس لئےکہ اگر وہ مل بیٹھے تو پاکستان اور عوام کے مفاد کا تحفظ تو ہو جائےگا۔ لیکن اُن کے اپنے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات شاید پورے نہ ہوپائیں گے۔ ساری لڑائیاں، ساری جنگ اقتدار کے حصول یا اس کے بچاو کیلئے ہے، ساری سیاست عہدوں کی ہے، الیکشن جیتنے کی ہے۔ اس کیلئے معیشت تباہ ہوتی ہے تو ہوتی رہے، پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوتاہے تو ہوتا رہے۔ المیہ یہ ہے کہ سیاستدان وقت کے تقاضوں کےبرعکس ایسا طرز عمل اختیارکئے ہوئے ہیں کہ جس سے سیاسی عدم استحکام بڑھے، آپسی نفرت میں اضافہ ہو، مزید دوریاں پیدا ہوں۔ یہ سب کچھ پاکستان اور عوام کی خدمت کے نام پر ہو رہا ہے تو جناب ایسی خدمت اور ایسی سیاست ہمیں نہیں چاہئے جس نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیاہے، ہماری دنیا میں کہیں عزت نہیں رہنے دی اور ہمیں بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یقیناً سیاستدان ایک بار پھر فیل ہو رہے ہیں۔

Back to top button